حقوقِ نسواں

بہت سی پاکستانی خاتون کوہ پیما، جن میں ثمینہ بیگ اور عظمی یوسف بھی شامل ہیں، اس کھیل کی دوسری عاشق خواتین کے لیے مشعل بردار بن گئی ہیں۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ نئی سہولت بہت زبردست قدم ہے اور یہ پیشہ ور خواتین اور طالبات کو حفاظت فراہم کرے گا جنہیں اکثر بسوں میں جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے ہی مردوں کی جانب سے دہائیوں پہلے عائد کردہ پابندی کو مسترد کرتے ہوئے، موہری پور میں خواتین اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گی۔

کرم ایجنسی سے سبکدوش ہونے والی ایک سرکاری ملازم علی بیگم نے کہا، میرا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ، قیامِ امن، خواتین کو عطائے اختیار اور قبائلی آبادی کو جہموریت میں داخل کرنا ہے۔

نیا افتتاح شدہ مرکز، جو خیبر پختونخواہ میں ایسا پہلا مرکز ہے، تشدد اور دوسرے جرائم کی متاثرہ خواتین اور بچوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرے گا۔

کاروباری برادری نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہتی ہے کہ اس سے مزید خواتین مرکزی دھارے میں شامل ہوں گی۔

نو تشکیل شدہ عدالتوں کا مقصد زیادتی، مارپیٹ، انسانی اسمگلنگ، حراساں کئے جانے اور دیگر مسائل کے مقدمات پر کاروائی تیز کرنا ہے۔

حالیہ اصلاحات کے باعث مزید خواتین نشستوں کے لیے لڑ رہی ہیں اور انتخابات کے لیے مہمات چلا رہی ہیں۔

حکام اور این جی اوز اس مستقل سماجی مسئلے پر کام کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

امن کا ایک ایکسچینج پروگرام دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے اکٹھا کرتا ہے کہ "انتہاپسندی کی آگ کو کیسے بجھایا جا سکتا ہے"۔

1