حقوقِ نسواں

کرم ایجنسی سے سبکدوش ہونے والی ایک سرکاری ملازم علی بیگم نے کہا، میرا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ، قیامِ امن، خواتین کو عطائے اختیار اور قبائلی آبادی کو جہموریت میں داخل کرنا ہے۔

نیا افتتاح شدہ مرکز، جو خیبر پختونخواہ میں ایسا پہلا مرکز ہے، تشدد اور دوسرے جرائم کی متاثرہ خواتین اور بچوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرے گا۔

کاروباری برادری نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہتی ہے کہ اس سے مزید خواتین مرکزی دھارے میں شامل ہوں گی۔

نو تشکیل شدہ عدالتوں کا مقصد زیادتی، مارپیٹ، انسانی اسمگلنگ، حراساں کئے جانے اور دیگر مسائل کے مقدمات پر کاروائی تیز کرنا ہے۔

حالیہ اصلاحات کے باعث مزید خواتین نشستوں کے لیے لڑ رہی ہیں اور انتخابات کے لیے مہمات چلا رہی ہیں۔

حکام اور این جی اوز اس مستقل سماجی مسئلے پر کام کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

امن کا ایک ایکسچینج پروگرام دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے اکٹھا کرتا ہے کہ "انتہاپسندی کی آگ کو کیسے بجھایا جا سکتا ہے"۔

جولائی میں، رضوانہ حمید کے پی پولیس میں تمام مردوں پر مشتمل پولیس تھانے کی پہلی خاتون افسر بنیں۔

25 سے زائد قبائلی خواتین کا ایک گروپ، قبائلی خور فورم، سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت کے لیے وکالت کر رہا ہے۔

عراقی خواتین کا یہ نیٹ ورک 'دولتِ اسلامیۂ عراق و شام' کے تشدد سے متاثرہ کمیونیٹیز کی مدد کے لیے کام کر رہا ہے۔

1 | 2 | next