سیاست

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کے مستقبل پر اب سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

قبائلی اضلاع کے رہائشی پر امّید ہیں کہ یہ جمہوری تبدیلی بہتر سیکیورٹی، امنِ عامّہ، معاشی ترقی اور دیرپا امن لے کر آئے گی۔

ایک نئی قانونی ترمیم، جسے اگر نافذ کر دیا گیا، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں لائے گی اور انہیں خیبر پختونخواہ کے ساتھ ضم کر دے گی۔

اگلے ماہ اختیارات کی منتقلی پاکستان کی تاریخ میں دوسرا ایسا موقع ہو گا کہ منتخب حکومت نے اپنی مدت مکمل کی ہے۔

مقامی باشندوں نے فوج کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے، جسے پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے حل کے لیے حکومتی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

تقریباً دو دہائیوں میں پہلی مردم شماری کے نتائج کی منتظر اقلیتیں سیاسی شمولیت اور قبولیت کے لیے پر امّید ہیں۔

19 برسوں میں ہونے والی پہلی مردم شماری سیاسی اور مالی باقاعدگیوں کی بنیاد بنے گی اور پارلیمانی انتخابات سے ایک سال پہلے ہو رہی ہے۔

پاکستانی کابینہ نے فاٹا کو خیبرپختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کی سفارشات کی منظوری دی تھی۔