سلامتی

گراؤنڈ کیے گئے جے ایف-17 لڑاکا طیاروں نے روس، چین کے ساتھ سودوں کی ناکامی کو بے نقاب کیا

از زرق خان

اسلام آباد کے مغرب میں کامرہ کے مقام پر، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں 30 دسمبر 2020 کو، پاکستانی فضائیہ کا ایک رکن 14 دوہری نشستوں والے جے ایف-17 بی ملٹی رول طیارے کی افتتاحی تقریب کے دوران اس کی حفاظت کر رہا ہے، جو کہ جے ایف -17 بلاک III طیارے کو لانچ کیے جانے کے موقع کے ساتھ ہی منعقد ہوئی۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

اسلام آباد کے مغرب میں کامرہ کے مقام پر، پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں 30 دسمبر 2020 کو، پاکستانی فضائیہ کا ایک رکن 14 دوہری نشستوں والے جے ایف-17 بی ملٹی رول طیارے کی افتتاحی تقریب کے دوران اس کی حفاظت کر رہا ہے، جو کہ جے ایف -17 بلاک III طیارے کو لانچ کیے جانے کے موقع کے ساتھ ہی منعقد ہوئی۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

چین کے ساختہ جے ایف -17 لڑاکا طیاروں کا پاکستان کا بیڑہ، مشینری کے مسائل کی وجہ سے گراؤنڈ ہے جو کہ چینی فوجی سازوسامان کے ناقص معیار کا ایک اور اشارہ بن گیا ہے۔

جے ایف -17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، جسے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس اور چین کے چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، ایک کم قیمت، ہلکا پھلکا، ہر موسم میں کام کرنے والا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس میں چینی ایئر فریم ہے، جو مغربی ایویونکس سے لیس ہے اور اس میں روسی کلیموف آر ڈی -93 ٹربوفین جیٹ انجن کے لگایا گیا ہے۔

پاکستان نے 2007 سے اب تک 100 سے زیادہ طیاروں کی خریداری کا حکم دیا ہے۔

اس وقت کے بعد سے، جے ایف -17 کے بارے میں کئی حادثات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس سے چینی کے تعاون سے تیار کردہ طیاروں اور ان کے انجنوں کے معیار پر شدید شکوک پیدا ہوئے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی 2012 کی ایک خبر میں، 18 مہینوں کے دوران 12 حادثوں کی فہرست درج کی گئی تھی، جن میں کئی جے ایف -17 اور چینگڈو ایف -7 لڑاکا طیارے جو کہ چین سے خریدے گئے تھے، موجود تھے۔

ہندوستان ٹائمز نے 23 اگست کو خبر دی کہ ابھی حال ہی میں، جے ایف -17 کے بیڑے کا بیشتر حصہ آر ڈی-93 انجن کے اسپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جے ایف -17 طیاروں میں نصب کیے گئے آر ڈی-93 انجنوں میں سے ایک بڑی تعداد نے گائیڈ وینز، ایگزاسٹ نوزلز اور فلیم سٹیبلائزرز میں دراڑیں پیدا کر دی ہیں۔

کمتر فوجی سازوسامان

پاکستان کو چینی ساختہ فوجی سازوسامان کے ساتھ، طویل عرصے سے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

دفاعی تھنک ٹینکس کے مطابق، پاکستان کو 2009 سے اب تک، چینی جہاز ساز فرموں کے تیار کردہ کم از کم چار جنگی جہازوں کے ساتھ سنگین مکینیکل مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ جنگی جہاز 2009 اور 2013 کے درمیان، چین کے ساتھ 2005 میں طے پانے والے 750 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت، پاکستان کو فراہم کیے گئے تھے۔

اطالوی تھنک ٹینک جیوپولیٹیکا۔ انفو کی 14 جون کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے چار چینی ساختہ ایف -22 پی جنگی جہاز "پاکستانی بحریہ کے ان افسران اور جوانوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں جنہیں انہیں بحیرہ عرب اور بحر ہند کے ہنگامہ خیز پانیوں میں تیرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے"۔

جیوپولیٹیکا۔ انفو نے نتیجہ اخذ کیا کہ "خراب اہم اجزاء اور چینی مینوفیکچررز کی ناقص سروس نے پاکستانی بحریہ کو، ان چاروں جنگی جہازوں کو انحطاطی آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ چلانے پر مجبور کیا ہے، جس سے مشن کے ان کچھ اہم مقاصد پر سمجھوتہ ہوا ہے جن کے لیے ان جہازوں کو بھاری قیمت پر خریدا گیا تھا۔"

فروری میں، پاکستانی فوج کو وی ٹی-4 کے ساتھ معیار اور سقاحت کے مسائل کا پتہ چلا، جو کہ چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن (نورینکو) کی طرف سے بیرون ملک برآمدات کے لیے بنایا گیا اہم جنگی ٹینک ہے۔ یہ خبر اس وقت اکنامک ٹائمز آف انڈیا نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جاری کی تھی۔

پاکستان کی چین سے درآمد کی گئی 2-3 ایم ایم ٹوڈ ہیوی آرٹلری گنیں بھی دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔

الیگزینڈر ووونگ، جو کہ ہونولولو، ہوائی میں ڈینیئل کے انوئے ایشیا پیسیفک سینٹر فار سیکیورٹی اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں، نے جون میں یورو ایشین ٹائمز کو بتایا کہ "امریکہ اور اس کے بہت سے اتحادیوں کے ہتھیاروں کے برعکس، چین کے تیار کردہ ہتھیار، صرف تکنیکی طور پر ہی کمتر نہیں ہیں بلکہ وہ میدان جنگ میں بھی غیر تجربہ شدہ ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ چینی فوجی سازوسامان کے بہت سے خریداروں کے لیے، اہم عوامل "قیمت اور سیاست ہیں، جن میں بدعنوانی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے"۔

"مثال کے طور پر، چین کم قیمت پر ہتھیاروں کی پیشکش کر سکتا ہے، بھاری رعایت کے ساتھ یا خریداری اور افراد کے درمیان تعلقات کے انچارج اہلکاروں کو رشوت دے کر۔"

غیر مطمئن صارفین

پاکستان ایسا پہلا ملک نہیں ہے جسے چین سے ناقص فوجی ساز و سامان، طیارے اور جنگی جہاز ملے ہیں۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک، چینی فوجی سازوسامان کی خرابی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، چند مہینوں میں الجزائر کے تین چینی ساختہ سی ایچ- 4 بی جنگی ڈرون گر کر تباہ ہوئے۔ یہ خبر گلوبل ڈیفنس کارپوریشن کی ویب سائٹ نے مارچ 2021 میں دی تھی۔

نیدرلینڈ کی اوریکس ملٹری نیوز سائٹ نے جنوری میں خبر دی تھی کہ اردن کی شاہی فضائیہ نے، انہیں خریدنے کے صرف تین سال بعد، 2019 میں اپنے سارے سی ایچ -4 بی کو فروخت کر دیا تھا۔ سعودی عرب ممکنہ خریدار تھا، اگرچہ ان کی منزل کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

سی ایچ-4 بی کو چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن نے تیار کیا ہے۔

بنگلہ دیشی فضائیہ نے علم ہوا کہ کہ 23 نانچانگ پی ٹی-6 بنیادی تربیتی طیارہ جو اس نے چائنا نیشنل ایرو-ٹیکنالوجی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن سے حاصل کیا تھا وہ خراب تھا۔ یہ خبر انڈیا کی Timesnownews .com نیوز سائٹ نے گزشتہ نومبر میں دی تھی۔

دریں اثنا، 2016 میں، کینیا نے ڈیوٹی کے دوران فوجیوں کی حفاظت کے لیے چین سے آرمرڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سیز) خریدے۔

کینیا کی حکومت کو کروائی گئی یہ یقین دہانیاں کہ یہ گاڑیاں دھماکوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں اور جانیں بچا سکتی ہیں، کھوکھلی ثابت ہوئی ہیں۔ یہ خبر نیروبی کی ایک نیوز ویب سائٹ ٹوکو نے اگست 2018 میں دی۔

ٹوکو نے خبر دی کہ الشباب دہشت گرد گروپ کی طرف سے سڑک کے کنارے نصب کیے گئے بم بار بار چینی اے پی سی میں سوار کینیا کے فوجیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500