معیشت

روس کے پیدا کردہ عالمی غذائی بحران کو چین کی ذخیرہ اندوزی نے بڑھایا ہے

پاکستان فارورڈ

چین کے شمالی صوبے ہیبی میں خوراک کی بوریاں رکھی ہیں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

چین کے شمالی صوبے ہیبی میں خوراک کی بوریاں رکھی ہیں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

چین بڑے پیمانے پر اشیائے خوردونوش کی خریداری کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے مبصرین یہ تبصرہ کرنے پرمجبور ہو رہے ہیں کہ بیجنگ گندم کے بگڑتے ہوئے بحران، جو یوکرین کے خلاف روس کی بلا اشتعال جنگ کی وجہ سے شروع ہوا ہے،کے دوران اہم اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔

فارم جرنل کے مطابق، امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) نے اپریل میں چین کو ایک ملین میٹرک ٹن مکئی کی فروخت کی تصدیق کی، اس کا دو تہائی حصہ پرانی فصل کے لیے اور باقی 2023-2022 کے مارکیٹنگ سال میں ترسیل کے لیے ہے۔

اس نے مزید کہا کہ یہ خریداری مئی 2021 کے بعد سے ایک ہفتہ قبل چین کی سب سے بڑی مکئی کی خریداری کے بعد ہوئی، جس کی کل تعداد 1.084 ملین ٹن تھی۔

چین اناج کی ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے

پرو فارمر کے ایڈیٹر برائن گریٹ نے کہا کہ "چین اس وقت ذخیرہ اندوزی کے موڈ میں ہے۔"

یوکرین کی ایک خاتون پیٹروپولیوکا گاؤں کے قریب، 6 اپریل 2015 کو ایک کھیت میں مکئی اٹھائے ہوئے ہے۔ [دیمتر دلکوف/اے ایف پی]

یوکرین کی ایک خاتون پیٹروپولیوکا گاؤں کے قریب، 6 اپریل 2015 کو ایک کھیت میں مکئی اٹھائے ہوئے ہے۔ [دیمتر دلکوف/اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ "غذائی تحفظ، اگر ان کی اولین ترجیح نہیں تو کم از کم ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے اور آپ نے صرف یوکرین کے ساتھ کچھ حصہ لیا ہے۔ یوکرین چین کو مکئی کا بہت بڑا فراہم کنندہ بن گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم چین کو مزید مکئی کا حصول کرتے ہوئے دیکھیں گے "۔

روس کی بحریہ، بحیرہ اسود میں یوکرین کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے بریڈ باسکٹ قوم کو خوراک کی اہم اشیاء برآمد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق، 24 فروری کو شروع ہونے والے روسی حملے سے پہلے، یوکرین اپنی بندرگاہوں کے ذریعے ماہانہ تقریباً 4.5 ملین ٹن زرعی پیداوار برآمد کرتا تھا، جس میں عالمی گندم کا 12 فیصد، مکئی کا 15 فیصد اورسورج مکھی کے اپنے تیل کا نصف حصہ شامل تھا۔

جنگ اور اس کی جاری ناکہ بندی نے تجارت کو بڑی حد تک روک دیا ہے، جبکہ ریل اور ٹرک کے متبادل راستے، بین الاقوامی منڈیوں میں اتنی زیادہ پیداوار کو منتقل کرنے کے لیے درکار نقل و حمل فراہم کرنے اور مالی رکاوٹوں سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے اس معاملے پر غیر مبہم رہے ہیں، انہوں نے 18 مئی کو کہا کہ جنگ "کھانے کے عدم تحفظ کی طرف لاکھوں لوگوں کو دھکیل دینے کے لیے ایک خطرہ بن گئی گے"۔

اس کے بعد جو ہو سکتا ہے وہ "غذا کی کمی، بڑے پیمانے پر بھوک اور قحط، ایک ایسا بحران میں جو برسوں تک جاری رہ سکتا ہے"۔

یوکرین کے حکام کے مطابق، ابھی تک، 20 ملین ٹن سے زیادہ کھانے پینے کی اشیاء یوکرین میں پھنسی ہوئی ہیں۔

گریٹے نے مزید کہا کہ "ہم شاید چین کو دوسری اشیاء خریدتے ہوئے بھی دیکھیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ "ان کے پاس ملک میں جو بھی اجناس ہے، خاص طور پر گندم ، جو کہ عالمی سپلائی کا تقریباً نصف ہے، وہ عالمی منڈی میں نہیں جائیں گے۔ وہ انہیں اپنے لیے رکھیں گے"۔

"چین تاریخی طور پر ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملک ہے۔ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی قیمتوں، رسد میں آتی ہوئی کمی کے باعث وہ اس وقت اور زیادہ ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔"

چین کی طرف سے ذخیرہ اندوزی کے باجود، مکئی کی قیمتیں ایک دہائی کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

روسی بلیک میلنگ

دریں اثنا، کریملن واضح طور پر اپنے پیدا کردہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے 25 مئی کو اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریگی کے ساتھ ایک ٹیلی فون کال میں کہا کہ اگر مغرب، یوکرین کی وجہ سے روس پر عائد کردہ پابندیاں ہٹاتا ہے تو ماسکو خوراک کے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے کے لیے "اہم اعانت" کرنے کے لیے تیار ہے۔

کریملن نے اس فون کال کے بعد ایک بیان میں کہا کہ "ولادیمیر پوتن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روسی فیڈریشن، اناج اور کھاد کی برآمد کے ذریعے خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جو مغرب کی طرف سے سیاسی طور پر محرک پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ مشروط ہے۔"

پوتن نے ان الزامات کو "بے بنیاد" قرار دیا جن کے مطابق روس عالمی منڈی میں خوراک کی فراہمی میں پیدا ہونے والے مسائل کا ذمہ دار ہے۔

پیوٹن کی پیشکش پر امریکہ نے طعنہ زنی کی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "اب وہ معاشی آلات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ خوراک کو ہتھیار بنا رہے ہیں۔ وہ معاشی امداد کو ہتھیار بنا رہے ہیں۔"

کربی نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ہمیں اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ انہوں نے جھوٹ اور معلومات سمیت ہر چیز کو ہتھیار بنا لیا ہے۔"

روس نے 27 مئی کو یہ بھی کہا کہ وہ آنے والے موسم میں، برآمدات کے لیے اپنی اناج کی پیداوار کو بڑھانا چاہتا ہے۔

وزیر زراعت دیمتری پیٹروشیف نے ایک روسی اناج فورم میں کہا کہ "موجودہ موسم (2022-2021) میں ہم پہلے ہی 35 ملین ٹن سے زیادہ اناج برآمد کر چکے ہیں، جس میں 28.5 ملین ٹن گندم بھی شامل ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ 30 جون تک موسم کے اختتام سے پہلے، برآمدات کا حجم 37 ملین ٹن سے تجاوز کر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "آنے والے موسم میں [یکم جولائی 2022 سے شروع ہونے والا] ہم اناج کی برآمدی صلاحیت کا تخمینہ 50 ملین ٹن لگاتے ہیں۔"

'دو ملکوں کے درمیان دوستی'

ان پیش رفتوں کا ایک اہم پس منظر فروری میں پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات ہے جس میں انہوں نے عالمی سیاسی اور عسکری نظم کے "نئے دور" میں ایک ساتھ رہنے کاعزم کیا تھا۔

انہوں نے ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ "دونوں ریاستوں کے درمیان دوستی میں کوئی حد نہیں ہے۔ تعاون کا کوئی 'ممنوع' میدان نہیں ہے۔"

چینی حکومت کو، مبینہ طور پر یوکرین پر حملہ کرنے کے روسی منصوبے کا پہلے سے ہی علم ہو گیا تھا لیکن اسے صرف اس بات کی پرواہ تھی کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کے دوران ایسا نہ ہو۔

اس وقت سے اب تک، چینی ذرائع ابلاغ نے کریملن کے پروپیگنڈے کو مغرب میں پابندیوں سے بچنے میں کامیاب ہونے کے قابل بنایا ہے، جب کہ چینی شہریوں کو مغرب مخالف، سوویت نواز نظریاتی مہم کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی ذرائع ابلاغ اب تک، روسی پروپیگنڈے کے سب سے بڑے پھیلانے والے ہیں۔

چینی ذرائع ابلاغ کی طرف سے پھیلائی جانے والی جھوٹی داستانوں میں نو نازی کی کہانیاں شامل ہیں، جن میں نیٹو کی "مشرق کی طرف توسیع" کو تنازعہ کا ذمہ دار ٹھہرانا اور یوکرین پر روس کے حملے کو عراق، شام اور افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں سے تشبیہ دینے کی کوشش شامل ہے۔

دریں اثنا، چین اور روس نے 24 مئی کو، کریملن کے یوکرین پر حملے کے بعد، اپنی پہلی مشترکہ فوجی مشق کا انعقاد کیا، جس میں شمال مشرقی ایشیا کے سمندروں پر بمبار طیارے بھیجے گئے جہاں غیر ملکی رہنماؤں کی ایک اہم ملاقات ہو رہی تھی۔

یہ مشق کواڈ بلاک -- امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان -- کے اجلاس کے دوران ہوئی جس میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی خطرے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

23 مئی کو ٹوکیو میں خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر جو بائیڈن نے خود مختار تائیوان کے لیے، چین کی دھمکی کو یوکرین پر روسی حملے سے تشبیہ دی جو بیجنگ کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اور فوجی طاقت پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران، اس معاملے پر اب تک ان کی طرف سے سخت ترین تبصرہ تھا۔

بائیڈن نے تائیوان کی صورتحال کا براہ راست یوکرین سے موازنہ کیا، جسے 24 فروری کو روسی حملے کے بعد سے امریکہ کی طرف سے اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ اور امداد موصول ہوئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500