سفارتکاری

بیجنگ 'غیر قانونی طور پر' جنوبی بحیرہ چین اور اس سے آگے کے علاقے پر دعویٰ کر رہا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

چین کا فوجی ہیلی کاپٹر دسمبر میں متنازعہ جزائر پر پرواز کر رہا ہے۔ [چین کی وزارتِ دفاع]

چین کا فوجی ہیلی کاپٹر دسمبر میں متنازعہ جزائر پر پرواز کر رہا ہے۔ [چین کی وزارتِ دفاع]

واشنگٹن -- بیجنگ، جنوبی بحیرہ چین کے زیادہ تر حصے پر "غیر قانونی" خودمختاری یا خصوصی دائرہ اختیار کا دعویٰ کر رہا ہے اور ان دعوؤں کے لیے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے ایشیا بھر میں جگہوں کو چینی نام دے رہا ہے۔

چین تقریباً تمام جنوبی بحیرہ چین، جس کے ذریعے سالانہ کھربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے، پر اپنا دعویٰ کرتا ہے جبکہ مقابلے میں برونائی، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویتنام بھی اپنا دعوی کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو برائے بحریات و عالمی ماحولیاتی اور سائنسی امور نے 12 جنوری کو جاری کیے گئے 47 صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالے میں کہا کہ چین کے پاس، بین الاقوامی قانون کے تحت، ایسے دعووں کی کوئی بنیاد نہیں ہے، جنہوں نے بیجنگ کو اپنے ساحلی پڑوسیوں کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا ہے۔

اس رپورٹ میں چین کی طرف سے توثیق کردہ، سمندر کے قوانین پر 1982 کے اقوام متحدہ (یو این) کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ "یہ دعوے سمندر میں قانون کی حکمرانی اور کنونشن میں بیان کردہ بین الاقوامی قانون کی متعدد عالمی طور پر تسلیم شدہ شقوں کو بری طرح نقصان پہنچاتے ہیں"۔

تصویر میں بہت سے 'غیر قانونی' چینی فوجی اڈوں میں سے ایک کو دکھایا گیا ہے، جو بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں پر بنائے گئے ہیں۔ [فائل]

تصویر میں بہت سے 'غیر قانونی' چینی فوجی اڈوں میں سے ایک کو دکھایا گیا ہے، جو بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں پر بنائے گئے ہیں۔ [فائل]

یو ایس ایس ڈیوی پر ایک ملاح 20 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین میں معمول کی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ [امریکی بحریہ]

یو ایس ایس ڈیوی پر ایک ملاح 20 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین میں معمول کی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ [امریکی بحریہ]

تحقیق کو جاری کرتے ہوئے، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک بیان میں بیجنگ سے دوبارہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ "بحیرہ جنوبی چین میں اپنی غیر قانونی اور زبردستی کی سرگرمیاں بند کر دے"۔

چین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ "بین الاقوامی قانون کو مسخ کرتی ہے اور عوام کو گمراہ کرتی ہے"۔

اس مقالے میں نام نہاد "نائن ڈیش لائن" کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے جو بیجنگ کے زیادہ تر موقف کی بنیاد ہے اور چین کے دعووں کے لیے جغرافیائی جواز پیش کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ جن 100 سے زیادہ خصوصیات کو اجاگر کر رہا ہے، مدِ کامل کے دوران مکمل طور پر پانی میں ڈوبی ہوتی ہیں اور اس وجہ سے "کسی بھی ریاست کے علاقائی سمندر کی قانونی حدود سے باہر ہیں"۔

بیجنگ چار "جزیرہ گروپوں" کا دعویٰ کرنے کے لیے ایسی جغرافیائی خصوصیات کا حوالہ دیتا ہے، جن کے بارے میں محکمہ خارجہ کے مطالعے میں کہا گیا ہے کہ یہ 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت بنیادی اصولوں کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

مجموعی طور پر، بحیرہ جنوبی چین کے جزائر کا زمینی رقبہ صرف 15 مربع کلومیٹر ہے اور بہت سے کسی بھی سرزمین کی ساحلی ریاست سے بہت دور واقع ہیں۔ بیجنگ ان سب پر خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ہر جزیرے یا جزیرے کے گروپ کا کم از کم ایک دوسرا دعویدار ہے۔

ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ

بڑا، جزوی طور پر بند، بحیرہ جنوبی چین برونائی، چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تائیوان اور ویتنام سے گھرا ہوا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں، کئی مغربی ممالک کی بحریہ "نیویگیشن آپریشنز کی آزادی" انجام دیتی ہیں -- جو فوجی حلقوں میں ایف او این او پیز کے نام سے جانا جاتا ہے -- تاکہ اس بات پر زور دیا جا سکے کہ بحیرہ جنوبی چین ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔

سال کے پہلے اعلان کردہ ایف او این او پی میں، ایک امریکی جنگی جہاز جمعرات (20 جنوری) کو بحیرہ جنوبی چین سے گزرا، جس پر چین کی فوج کی طرف سے ایک انتباہ جاری کیا گیا۔

امریکی بحریہ کے مطابق، یو ایس ایس بینفولڈ نے "بین الاقوامی قانون کے مطابق، پیراسل جزائر کے آس پاس بحری حقوق اور آزادیوں پر زور دیا"۔

پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی جنوبی تھیٹر کمانڈ نے کہا کہ امریکی جہاز "غیر قانونی طور پر" ایسے پانیوں میں داخل ہوا تھا جسے بیجنگ اپنا سمجھتا ہے۔

چین کی فوج حالیہ سالوں میں زیادہ جارحانہ ہو گئی ہے اور دوسرے خودمختار ممالک کی سرزمین میں دراندازی ایک ایسا رجحان ہے جو پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے فریق ممبران کے لیے تشویش ناک ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے 2020 میں، ممکنہ "حملہ آوروں" کو سخت انتباہ جاری کیا اور "نئے چین" کی حفاظت کے لیے، جارحیت پسندوں کے خلاف بیجنگ کے فوجی عزم پر فخر کا اظہار کیا۔

شی نے 23 اکتوبر کو کی جانے والی، ایک حالیہ قابل ذکر تقریر میں کہا کہ حملے کو روکنے کے لیے جنگ لڑنی چاہیے اور تشدد کا مقابلہ تشدد سے کرنا چاہیے۔

یہ جارحیت -- اس کے ساتھ ہی چین کی طرف سے علاقائی دعوؤں پر بیانیہ کو شکل دینے کے لیے کی جانے والی نرم کوششیں -- اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

جمہوری اور خود مختار تائیوان، مسلسل آمرانہ چین کے حملے کے خطرے میں رہتا ہے، جو جزیرے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے اور ایک دن اس پر قبضہ کرنے کا عزم رکھتا ہے -- ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے۔

تائیوان کی 1949 سے اپنی حکومت ہے۔

چین کی جارحیت انڈیا تک بھی وسعت اختیار کر گئی ہے۔

جون 2020 میں، چینی اور ہندوستانی فوجیوں کے درمیان، لداخ کے علاقے میں پرتشدد ہاتھا پائی ہوئی جس میں 20 ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے۔ چینی حکومت نے جانی نقصان کا اعتراف کیا ہے لیکن کوئی اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے ہیں۔

بیجنگ، وسطی ایشیا میں مقامی آبادی کے ردعمل کا اندازہ لگانے کے لیے "اپنے" علاقوں کی واپسی کا خیال پیش کر رہا ہے جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خطے کی خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

بدلتے ہوئے نقشے

دریں اثنا، بیجنگ اپنے علاقائی دعوؤں کی حمایت کے لیے نئے ناموں اور دیگر نقشوں کی کوڈنگ کا استعمال کر رہا ہے، نہ صرف بحیرہ جنوبی چین میں بلکہ مشرقی بحیرہ چین اور ایک پہاڑی سلسلے کے کچھ حصوں میں بھی، جن پر اس کا بھارت کے ساتھ تنازعہ ہے۔

چینی وزارت برائے شہری امور نے 29 دسمبر کو اعلان کیا کہ اس نے ملک کے شمال مشرق میں ہندوستان کے زیر کنٹرول ریاست، اروناچل پردیش میں 15 مقامات کے ناموں کو "معیاری" بنانے کے لیے چینی حروف کا استعمال کیا ہے۔ یہ خبر چینی ریاست کے زیر انتظام کام کرنے والے گلوبل ٹائمز نےدی۔

چین نے اسی علاقے میں دیگر چھہ جگہوں کا پانچ سال قبل نام تبدیل کیا تھا۔

بیجنگ میں قائم چائنا تبتولوجی ریسرچ سنٹر کے چینی تجزیہ کار لیان ژیانگمن نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ 15 نام "مقام کے ناموں کے انتظام کو معیاری بنانے کی قومی کوشش" کا حصہ ہیں جن میں سے کچھ "سینکڑوں سالوں سے موجود ہیں"۔

چینی رہنماؤں کا ایک اور مقصد ہے -- اپنے ہی شہریوں کو ان کے دعوؤں کی یاد دلانا اور ایشیا کے ارد گرد تنازعات میں اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنا۔

بیجنگ نے بحیرہ جنوبی چین میں اسپراٹلی جزائر اور پارسل جزائر کا نام بھی تبدیل کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی بنیاد صدیوں کے ماہی گیری کے نمونے ہیں۔

مشرقی بحیرہ چین میں -- جو چین، جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترک ہے -- بیجنگ نے 1950 کی دہائی کے آخیر میں غیر آباد جاپانی ملکیتی سینکاکو جزائر کا نام بدل کر "ڈیاویو" رکھ دیا۔ ٹوکیو اور تائی پے دونوں بیجنگ کے دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایک لمبا کھیل کھیل رہا ہے۔ بالآخر چین علاقائی تنازعات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے ان ناموں کو استعمال کر سکتا ہے، چاہے اس طرح کے تنازعات کئی دہائیوں تک ہی کیوں نہ اٹھیں۔

سنگاپور میں واقع ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایلن چونگ نے کہا کہ "وہ اس وقت پرانے نظام کو منجمد کرنے پر راضی ہو سکتے ہیں۔"

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "لیکن اب سے 50 سال بعد وہ اچانک فیصلہ کر سکتے ہیں، 'ٹھیک ہے، چلو ایک عدالت میں چلتے ہیں اور اسے پرامن طریقے سے جیتتے ہیں'، اور پھر وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا شروع کر دیں گے کہ ان کے پاس نقشے اور دیگر دستاویزات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے کو 50 سال پہلے ایک چینی نام دیا گیا تھا"۔

ہوائی سے تعلق رکھنے والے، ڈینیل کے اینوی ایشیا پیسیفک سینٹر فار سیکیورٹی اسٹڈیز کے پروفیسر، الیگزینڈر ووونگ نے کہا کہ "قانونی دلیل میں، آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کسی جگہ کا انتظام کرتے ہیں اور اس کا ایک حصہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کو نام دیتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500