سیاست

مصر میں چینی سرمایہ کاری کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، تجزیہ کاروں کا انتباہ

از ولید ابو الخیر

image

گائیڈڈ میزائل بردار چھوٹے جنگی جہاز پر سوار چینی بحری فوجی مصر کی نہر سویز سے باہر نکلنے کے بعد تیونس کے گشتی جہاز کو سلامی دیتے ہوئے۔ [چینی وزارتِ دفاع]

قاہرہ -- حالیہ برسوں میں چین نے مصر میں 7 بلین ڈالر سے زیادہ کی بھاری سرمایہ کاری کی ہے، لیکن تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اہم مقامات اور اقتصادی شعبوں میں اس سطح کی چینی شمولیت کے سنگین طویل مدتی نتائج ہو سکتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین اور تزویراتی تجزیہ کاروں نے المشارق کو بتایا کہ خاص طور پر تشویش کی بات یہ ہے کہ چین نہر سویز کے اقتصادی علاقے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چینی سرمایہ کاری کی توسیع اقتصادی ترقی سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اور یہ بحیرۂ روم اور افریقہ کے مختلف حصوں پر غلبہ حاصل کرنے کے چینی حکومت کے منصوبوں کی عکاس ہے۔

DocksTheFuture پراجیکٹ کے مطابق، چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری (بی آر آئی) میں ایک "سمندری شاہراہِ ریشم" تیار کرنے کے منصوبے شامل ہیں جو چین کو بحیرۂ جنوبی چین، بحرِ ہند اور نہر سویز کے ذریعے بحیرۂ روم سے ملاتی ہو۔

image

یہ فضائی تصویر نہر سویز کے نئے اقتصادی علاقوں میں سے ایک کو دکھاتی ہے۔ [نہر سویز کا اقتصادی علاقہ]

image

چینی اور مصری نمائندے چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری کے تحت اکتوبر 2017 میں قاہرہ میں چینی تجارتی اور سرمایہ کاری نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے۔ [سویز اقتصادی و تجارتی تعاون کا علاقہ]

نومبر 2020 کی ایک رپورٹ میں DocksTheFuture نے کہا، "اس منصوبے میں بندرگاہوں والے علاقوں اور ان سمندری راستوں کے ساتھ اندرون ملک نقل و حمل اور صنعتی سہولیات میں سرمایہ کاری شامل ہے،" ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2049 تک اس کی پوری تکمیل ہونی ہے۔

اس میں کہا گیا، "کچھ تخمینوں کے مطابق، چین اس پہل کاری کے نفاذ کے لیے اگلے 10 برسوں میں تقریباً 1000 بلین ڈالر خرچ کرے گا۔ سرمایہ کاری کی پوری مدت کے دوران درکار مالی وسائل تقریبا 8,000 بلین ڈالر ہوں گے۔"

نیویارک ٹائمز کی 11 جولائی 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین نے پہلے ہی بحرِ ہند کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں کا ایک سلسلہ تعمیر کر لیا ہے، جس سے بحیرۂ جنوبی چین سے نہر سویز تک ایندھن بھرنے اور دوبارہ سپلائی کرنے والے اسٹیشنوں کا ایک سلسلہ تخلیق کیا گیا ہے۔

بظاہر تجارتی نوعیت کی، بندرگاہوں کی ممکنہ طور پر عسکری اہمیت بھی ہے، جو چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحریہ کو اپنی رسائی کو بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔

مصری آبی گزرگاہوں کے ماہر رفعات العرب نے المشارق کو بتایا کہ نہر سویز صنعتی علاقے میں چین کی اقتصادی مداخلت ایک عام غیر ملکی سرمایہ کاری لگتی ہے، لیکن یہ مسئلہ ایک تشویشناک تزویراتی جہت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری چینیوں کے تیار کردہ منصوبے کے مطابق کی جا رہی ہے تاکہ چین کے توسیع پسندانہ اہداف کو پورا کیا جا سکے تاکہ وہ متعدد خطوں میں سرایت کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بحیرۂ اسود کے علاقوں میں تعینات چینی بحری یونٹوں اور صومالیہ جیسے افریقی ممالک میں کچھ بکھرے ہوئے اڈوں کے لیے امدادی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔

العرب نے کہا کہ نہر سویز کے علاقے میں چینی سرمایہ کاری کے مسلسل نفوذ کے مستقبل میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور خطے میں استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دیگر کا کہنا ہے کہ چین کا سنکیانگ میں اپنی مسلم آبادی کے ساتھ سلوک مصر میں بہت سے لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہے ، جو کہ ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے۔

مصر چین کے منصوبوں کا مرکز ہے

فوزان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیگانگ سن نے 15 مارچ کو الجزیرہ کو دیئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا، "مصر چین کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی کا مرکز ہے۔"

چین مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت کی تعمیر میں بہت زیادہ ملوث رہا ہے، جہاں چینی ریاستی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنی (سی ایس سی ای سی) مرکزی تجارتی ضلع تعمیر کر رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، چینی بینک 3 بلین ڈالر کے منصوبے کے تقریباً 85 فیصد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس میں 20 ٹاورز شامل ہیں، جن میں سے ایک ٹاور تعمیر مکمل ہونے پر افریقہ کی بلند ترین عمارت ہو گا۔

مالیاتی تجزیہ کار اور قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر محمود سلطان نے المشارق کو بتایا، "چین، متعدد کمپنیوں کے ذریعے، مصری منڈی میں داخل ہونے میں کامیاب رہا، خصوصاً نہر سویز کا اقتصادی علاقے کے کھلنے کے بعد۔"

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر، ان میں چینی ملکیتی میڈیا مصر، نیز ٹی ای ڈی اے مصر شامل ہے، جو چینی ریاست کی ملکیت ہے، جو دونوں ہی نہر سویز اقتصادی علاقے میں کام کرتے ہیں۔

سلطان نے کہا کہ پروڈکشن لائنیں کام کرنا شروع کر چکی ہیں اور وہ الیکٹرانک مصنوعات تیار کر رہی ہیں جنہیں چینی کمپنیاں مصر، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بیچنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نہر سویز کے صنعتی پارک میں سرمایہ کاری چینی کمپنیوں کو مصر کی منڈیوں میں داخل ہونے کے مواقع فراہم کرے گی جو کہ چینی سرزمین سے برآمدات پر اٹھنے والے اخراجات سے بہت کم ہیں۔

چین اپنے نقوشِ پا وسیع کر رہا ہے

سلطان نے کہا کہ مصری معیشت کے کئی شعبوں میں اب چین کا حصہ ہے۔

26 اکتوبر 2020 کو مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ (ایم ای آئی) کی رپورٹ کے مطابق، مصر میں 1,500 سے زائد چینی فرمیں رجسٹر ہیں، جس سے حالیہ برسوں میں چینی-مصری اقتصادی تعاون کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔

ایم ای آئی کے مطابق، "بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اشیاء سازی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ چینی-مصری اقتصادی تعاون کی سب سے نمایاں خصوصیات کے طور پر سامنے آئے ہیں"۔

اس نے کہا، "مصر میں چینی کاروباری اداروں کی موجودگی صنعتی علاقوں، آزاد تجارتی علاقوں اور مالیاتی مراکز پر مرکوز ہے۔ 2000 کی دہائی کے آخر سے، چینی فرموں نے مصر میں ایک علاقائی اشیاء سازی مرکز کے طور پر کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔"

اس میں یاد دلایا گیا کہ "یہ دیکھتے ہوئے کہ نہر سویز چین کی سب سے بڑی منڈی، یورپ کے لیے ترسیل کا بنیادی راستہ ہے، یہ حیران کن بات نہیں ہے اور نہ ہی، اس لیے حیران کن ہے کہ چین نہر سویز راہداری میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔"

سلطان نے کہا کہ مصر میں چینی سرمایہ کاری میں "1.8 بلین ڈالر کا معاون قلمدان شامل ہے جس میں بجلی، صحت، تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کے شعبوں میں بہت سے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں"۔

لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ چین کی شمولیت میں سیاروی اور عسکری تعاون بھی شامل ہے، جس کے مصر اور خطے کے لیے ناپسندیدہ دفاعی نتائج ہو سکتے ہیں۔

عین شمس یونیورسٹی کے پروفیسر سید عبدالغنی نے کہا کہ اپنے بی آر آئی کی آڑ میں چین "اپنی سرحدوں سے باہر بہت سے علاقوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسے "عمل کی آزادی اور دیگر فوائد" دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا کارڈ کھیل کر، بیجنگ بہت بڑے پیمانے پر اپنے حساس نقشِ پا کو بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی معیشت کے لیے نہر سویز کی اہمیت پر زور دیا، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ یہ دنیا کی اہم تزویراتی اور عسکری راہداریوں میں سے ایک کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500