سیاست

بیرونِ ملک جنگ اور عدم استحکام کے لیے ایران کے دباؤ سے داخلی بے چینی

پاکستان فارورڈ

image

قحط اور رخ بدل دیے جانے کی وجہ سے اپنے صوبے کے روحِ رواں دریا کے خشک ہو جانے کے بعد اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے ایک احتجاج کے دوران 19 نومبر کو اصفہان کے وسطی شہر میں ایرانی جمع ہیں۔ 9 نومبر کو پانی کے بحران پر مظاہروں کے آغاز کے بعد یہ مہیب احتجاج سب سے بڑا تھا جس میں تمام تر صوبہ اصفہان سے کسانوں اور دیگر باشندوں نے شرکت کی۔ [فاطمہ نصر/آئی ایس این اے/اے ایف پی]

جب سے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے رواں موسمِ گرما میں دفتر سنبھالا ہے، ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا اعلانیہ نقطہٴ ارتکازایران کے ہمسایوں سے سیاسی، معاشی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا رہا ہے۔

لیکن مشاہدین کا کہنا ہے کہ درحقیقت یہ حکومت سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی عدم استحکام کی حامل علاقائی پالیسیوں کے ہاتھوں یرغمال رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی رہنماؤں کی نظر میں "دشمن" سمجھے جانے والے ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی غرض سے ضمنی افواج کے استعمال پر منحصر ان پالیسیوں نے کئی دہائیوں سے ایران کے خارجی تعلقات کو ضرر پہنچایا ہے۔

یہ ایران کے اندر معروف احتجاجوں کا باعث بھی بنی ہیں، جن کو پانی کی کمی، نہ ختم ہونے والی بجلی کی بندش، حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں اور وبا کی بدانتظامی نے ہوا دی۔

image

حالیہ دنوں میں سے اس حکومت کی جانب سے مقتول آئی آر جی سی قدس فورس کمانڈر قاسم سلیمانی کی پوسٹ کی گئی متعدد تصاویر میں سے ایک۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

تجزیہ کاروں نے تنبیہ کی کہ خطے میں ایک دہائی سے ایران کی جارحانہ پالیسی کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف جاری معروف احتجاجوں کے بعد، ایران میں "الربیع العربی" کی طرز پر داخلی بغاوت کے لیے صورتِ حال سازگار ہے۔

سلیمانی کی روایت برقرار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقتول آئی آر جی سی قدس فورس کمانڈر قاسم سلیمانی کی روایت کو برقرار رکھنے پر حکومت کے اصرار کی وجہ سے ایرانی عوام ایک تباہ کن معاشی بحران کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

3 جنوری 2020 کو بغداد مین ایک امریکی حملے میں جاںبحق ہونے سے قبل سلیمانی عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان سمیت، خطے بھر میں متعدد ضمنی جنگوں کے ذریعے آئی آر جی سی کے پھیلاؤ کے ایجنڈا کی قیادت کر رہے تھے۔

یہ اقدامات مہنگے پڑے ہیں، اور ان کی وجہ سے بارہا تہران کی غلط ترجیحات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی، حکومت اور پیچ دار معیشت سے مزید غیر مطمئن ہوتے گئے۔

ایک دہائی کے خاصے حصے میں حکومتِ ایران نے شام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے بشار الاسد کی فوج کو تقویت دی اور دیگر شعبوں میں اصراف سے کام لیا – لیکن اس کا قابلِ پیمائش اثر کم ہی تھا۔

ایران نے بھاری پیمانے پر شام میں جو پیسہ صرف کیا اور کر رہا ہے، اس سے حکومتِ ایران کو متوقع فوائد حاصل نہیں ہوئے۔

نہ ہی اس سے آئی آر جی سی کو کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے، جو کہ اب لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی، دو برس قبل کی نسبت کہیں زیادہ کمزور ہے۔

ایران عرب تعلقات کے ایک ایران سے تعلق رکھنے والے ماہر عبداللہ کابولی کے مطابق، ایرانی حکام نے شام اور روس میں سلیمانی کے پیدا کردہ رسوخ کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔

روس اور ایران، دونوں نے الاسد حکومت کی حمایت میں شام کی جنگ میں مداخلت کی۔ لیکن جیسے جیسے جنگ ختم ہو رہی ہے، یہ حریفوں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے کردار سے نفع حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور دوسرے کی لاگت پر اپنے ایجنڈا میں پیش رفت چاہتا ہے۔

کابولی نے المشرق سے بات کرتے ہوئے کہا، "تہران کا ماننا ہے کہ سلیمانی نے [روسی صدر ویلادیمیر] پیوٹین کو شام میں عسکری مداخلت کرنے پر منایا۔"

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام میں ایران کی پشت پناہی کے حامل عسکریت پسندوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روس نے صورتِ حال اپنے ہاتھ میں کر لی اور سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کیے۔"

ایران کی ضمنی جنگوں کی تباہ کاری

درایں اثناء، شام کی جنگ کے دوران ایران کی انسانی اور معاشی لاگت بڑھتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی میں ایران نے الاسد کی حکومت کو سینکڑوں ملین بیرل تیل اور لاکھوں ڈالر عطیہ کیے ہیں اور یہ سب کچھ دینے کے نتیجہ میں ایرانیوں کی زندگیوں میں آنے والے مسائل اور مشکلات ضائع گئے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں اور عالمی سطح پر اس کے معاشی اور سیاسی مفادات کا نقصان ایک اور بھاری قیمت ہے جو تہران اپنی علاقائی مداخلت کے لیے ادا کر رہا ہے اور اس کا کوئی قابلِ تصور نقطہٴ اختتام نہیں۔

آئی آر جی سی مسلسل یمن میں اسلحہ اسمگل کر رہا ہے جو ایران کی پشت پناہی کے حامل حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان تنازع کو ایندھن فراہم کر رہا ہے۔

20 دسمبر کو امریکی بحریہ نے شمالی بحیرہٴ عرب میں ایک ماہی گیر کشتی سے 1,400 اے کے 47 بندوقوں اور اسلحہ کے ساتھ ساتھ عملہ کے پانچ ارکان کو پکڑا—جنہوں نے اپنی شناخت یمنی کے طور پر کی۔

22 دسمبر کو امریکی بحریہ کے ایک بیان میں کہا گیا، "اندازہ لگایا گیا کہ بنا ریاستی شناخت کے یہ کشتی ایران سے چلی اور اس نے ایسے راستے سے بین الاقوامی پانیوں سے سفر کیا جو تاریخی طور پر یمن میں حوثیوں کو غیر قانونی طور پر اسلحہ سمگل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔"

اسلحہ کی دو اور ترسیلات کی ضبطگیاں جو ممکنہ طور پر حوثیوں کے لیے تھیں، بالترتیب 2021 میں فروری میں یو ایس ایس ونسٹن چرچل اور مئی میں یو ایس ایس مونٹیری نے بحیرہٴ عرب میں صومالیہ کے ساحل کے قریب کیں۔

درایں اثناء عراق میں ایران کے ضمنی ملشیا کے مابین تقسیم سامنے آ رہی ہے، جیسا کہ اسائب اہل الحق کے حالیہ اقدامات اور نافرمانی کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔

اور لبنان میں حزب اللہ اور اس کے رہنما حسن نصراللہ کے ساتھ سلیمانی کے تعلقات کے اثرات ملک کو دھچکہ پہنچانے والے عمیق معاشی بحران اور حزب اللہ کی جانب سے زبردست فیصلہ سازی کے عمل پر قبضہ کی وجہ سے حکومت کے مفلوج ہونے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

بغاوت کا خدشہ

پابندیوں اور کم ہوتے مالیات کے باوجود، تہران مسلسل ایرانی عوام کی ضروریات کے بجائے دہشتگردی، فرقہ واریت اور غلط معلومات برآمد کرنے پر خرچ کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔

آئی آر جی سے کے لیے مالیات وافر ہیں۔

دفتر سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ، صدر رئیسی، جو پیشوا علی خامنہ ای کے ساتھ قریبی طور پر منسلک ہیں، نے آئندہ مالی سال (ایف وائی) کے لیے پہلی مرتبہ بجٹ کا مسودہ پیش لیا – ایک دستاویز جو ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتی ہے۔

مارچ 2021 میں شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے بجٹ انتظامیہ تیار کرتی ہے اور اسے مجلس (ایرانی پارلیمان) کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو اسے اپنی حتمی شکل میں منظور کرتی ہے۔

بجٹ کے مسودہ میں رئیسی انتظامیہ نے آئی آر جی سی کے لیے مختص کیے گئے مالیات میں نمایاں اضافہ کیا، جو کہ آئندہ سال کے آئی آر جی سی بجٹ میں 240 فیصد اضافہ دکھا رہا ہے۔

گزشتہ برس آئی آر جی سی کے بجٹ میں پچھے سال کی نسبت 58 فیصد اضافہ تھا – ایک اضافتی رجحان جو تیز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، آئی آر جی سی اور، خاصی کم حد تک، ارتیش (ایران کی روایتی مسلح افواج) کو سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کیا جاتا ہے، جس میں ہر برس نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہیں تب بھی یہ مالیات دیے جا رہے ہیں جب ایران دیوالیہ پن کے دہانے پر جھول رہا ہے، اور عوام شدید معاشی سختیوں سے نبردآزما ہے۔

بجٹ کے مسودہ میں—براہِ راست خامنہ ای کے تحت، حکومت کی مرکزی پراپیگنڈا مشین— صدا و سیمائے جمہوریہٴ اسلامیٴ ایران (آئی آر آئی بی) کے لیے مالیات میں بھی گزشتہ برس کی نسبت 56 فیصد اضافہ دکھایا گیا ہے۔

مشاہدین نے نوٹ کیا کہ پابندیوں میں نرمی کی اشد ضرورت کے باوجود اور باوجود اس امر کے یہ فعالیت کے ساتھ پابندیاں اٹھائے جانے کے لیے محالحت کر رہی ہے، حکومتِ ایران پابندیوں کی واپسی کے لیے درکار کام نہیں کرتی نظر آتی۔

گزشتہ برس کے دوران، حکومت مخالف احتجاجوں میں بجلی کی طویل بندش، پانی کی قلت، ساکت تنخواہوں، کم اجرت اور بے روزگاری کی وجہ سے متعدد بڑے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔

اپنی علاقائی تعناتیوں اور مالیات کی شدید کمی کی وجہ سے خستہ حال، آئی آر جی سی شائد حکومت کے خلاف ایک اور بڑے پیمانے کی بغاوت کی انسداد کرنے کی متحمل نہ ہو سکے۔

کیا ایرانی رسوخ پاکستان کے لیے اچھا ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500