حقوقِ انسانی

علماء کی جانب سے چین کے مسلم اقلیتوں پر جبر کے خلاف امریکی موقف کی حمایت

از سلطان البارعی

image

24 مارچ کو لی گئی اس فضائی تصویر میں چین کے سنکیانگ کے علاقے تمشوک میں کپاس کے کھیت میں ایک بیج بونے والے کو کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [ایس ٹی آر/سی این ایس/اے ایف پی]

مسلم علماء کا کہنا ہے کہ وہ سنکیانگ میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ چین کے ناروا سلوک پر اس کے خلاف امریکی پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں اور یہ کہ مسلم ممالک کو واشنگٹن کی مثال کی پیروی کرنی چاہیے۔

امریکہ نے 16 دسمبر کو چین کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے کا آغاز کیا، جس میں قانون سازوں نے تجارت روکنے کے لیے ووٹ دیا اور دنیا کی سب سے بڑی صارف ڈرون بنانے والی کمپنی پر نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی سینیٹ نے جبری مشقت کے خدشات پر چین کے سنکیانگ علاقے سے تقریباً تمام درآمدات پر پابندی لگانے کے لیے متفقہ طور پر امریکہ کو پہلا ایسا ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا اور امریکی صدر جو بائیڈن نے 23 دسمبر کو اس پر دستخط کیے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال درآمد کیے جانے والے 20 فیصد ملبوسات میں سنکیانگ سے کچھ روئی شامل ہوتی ہے۔

image

3 نومبر کو لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں چینی قونصل خانے کے سامنے فعالیت پسندوں نے ریلی نکالی، جس میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تشویش کی وجہ سے سنہ 2022 کے بیجنگ سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ [فریڈرک جے براؤن/اے ایف پی]

چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے کیمپوں میں کم از کم دس لاکھ یغور اور دیگر ترک بولنے والے قید ہیں، جن میں زیادہ تر مسلم اقلیتیں ہیں۔

انسانی حقوق کے گروہوں اور غیر ملکی حکومتوں کو بڑے پیمانے پر حراست، جبری مشقت، سیاسی تعصب، تشدد، جبری نس بندی اور جنسی زیادتی کے ثبوت ملے ہیں.

چین ان کی اسلامی ثقافتی روایات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور انہیں زبردستی چین کی ہان اکثریت میں ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے.

واشنگٹن نے اس مہم کو نسل کشی قرار دیا ہے جبکہ بیجنگ ان مقامات کو حرفتی تربیتی مراکز کے طور پر بیان کرتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے سنکیانگ میں جاسوسی پر پابندیاں عائد کی ہیں، جہاں انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت اور ڈی این اے سے باخبر رہنے کے لیے یغوروں پر نظر رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کو استعمال کر رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ایس زیڈ ڈی جے آئی ٹیکنالوجی شامل ہے، جو اب تک صارف ڈرون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، نشانہ بننے والی دیگر کمپنیوں میں ژیامن میا پیکو انفارمیشن شامل ہے، جس نے فون پر فائلوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کی ہے، اور کلاؤڈ واک ٹیکنالوجی، یغوروں اور تبتیوں کے چہروں کو پہچاننے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کے بعد سے اسے زمبابوے میں ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن نے عوامی جمہوریہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ آٹھ ادارے پی آر سی میں نسلی اور مذہبی اقلیتی گروہوں کے افراد کی جاسوسی کرنے اور ان کا سراغ لگانے میں فعال طور پر معاون ہیں، جن میں غالب اکثریت سنکیانگ کے مسلمان یغوروں کی ہے"۔

17 دسمبر کو، بیجنگ نے کہا تھا کہ وہ اس اقدام کی "سختی سے مخالفت" کرتا ہے اور چینی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے "تمام ضروری اقدامات" کرے گا۔

اجتماعی موقف

ایک الازہری شیخ اور الازہر یونیورسٹی میں شریعت اور قانون کے پروفیسر نائف عبد ربو نے کہا کہ چین میں مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر چینی حکومت پر امریکی پابندیاں "ایک قابلِ احترام اور انسانی موقف" کی نمائندہ ہیں۔

پابندیاں " بہت سی حکومتوں کو ایک ایسا ہی قدم اٹھانے اور چینی آبادی کے اس طبقے کے ساتھ نسل پرستانہ بدسلوکی روکنے کے لیے چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوں گی".

انہوں نے کہا کہ چینی حکام کا یہ تجویز کرنے پر مُصر ہیں کہ سیاسی محرکات کے سبب لگائی گئی پابندیاں "غلط اور ناقابل قبول" ہیں، چونکہ حقائق ان خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتے ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر دستاویزی ہیں"۔

سعودی عرب کے الاحساء علاقے کے ایک شیعہ عالم شیخ ہاشم المجاہد نے کہا کہ چین کو مسلمانوں کے حقوق کے غلط استعمال پر سزا دینے کا امریکی فیصلہ مذہبی آزادی کو تسلیم کرنے کی امریکی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اسلامی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور وہ ان کے ساتھ تزویراتی شراکت داری میں مصروف ہے جس میں سلامتی سے لے کر اقتصادی تعلقات تک کے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے، جو کہ قومیت، نسل یا مذہب کی پرواہ کیے بغیر باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

المجاہد نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان امام مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ایک موثر اور ضروری ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔

"اس کا اطلاق ناصرف عرب، مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک پر بلکہ بنیادی طور پر ان یورپی ممالک پر بھی ہوتا ہے جو عقیدے اور مذہب کی آزادی کی اجازت دیتے ہیں، اس کی پشت پناہی اور حمایت کرتے ہیں۔"

"چینی مسلمانوں کو پسماندہ، حراست میں رکھنے اور ان کی [زبردستی] نس بندی کو روکنے کے لیے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اجتماعی موقف کا اہم اور انتہائی موثر اثر پڑے گا۔"

بین الاقوامی عمل انگیز

الازہر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں مسجد غدیبیہ کے امام شیخ عبداللہ الحسینی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پابندیاں "عرب، اسلامی اور حتیٰ کہ یورپی ممالک کے لیے بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کے لیے ایک عمل انگیز کا کام کریں گی"۔

انہوں نے کہا، "دنیا میں کہیں بھی کوئی مذہبی اقلیت بین الاقوامی حمایت کے بغیر اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔"

انہوں نے کہا، "مسلمان بہت سے ممالک، خصوصاً یورپی ممالک اور معاشروں میں ضم ہو چکے ہیں اور بااثر قیادت والے عہدوں پر پہنچے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "اس طرح چین کے مسلمانوں کی وکالت ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ایک ضرورت، اور ان کے مصائب کو کم کرنے اور ان کے لیے دوسرے چینی شہریوں کی طرح مستحکم زندگیوں کو یقینی بنانے کا ایک اہم عنصر بن گئی ہے۔"

الحسینی نے مزید کہا، "اسلامی ممالک اور مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک نے وہ نہیں کیا جو انہیں چین کے مسلمانوں کے لیے کرنا چاہیے تھا۔"

"شاید یہ سیاسی اور اقتصادی حسابات اور دو طرفہ معاہدوں کی وجہ سے ہے، لیکن ان رکاوٹوں کو ایک اجتماعی موقف کی چھتری تلے دور کیا جا سکتا ہے، اس طریقے سے کہ اس اقلیت کے حقوق کا تحفظ ہو جبکہ ان ممالک کے مفادات کو بھی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔"

انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی تنظیمیں ایسے حل پیش کر سکتی ہیں جو سب کو مطمئن کریں اور چین کے مسلمانوں کے لیے ایک باوقار اور عام زندگی کو محفوظ بنائیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500