سلامتی

افغانستان کے مستقبل پر فاطمیون ملشیا کے بڑھتے ہوئے سائے

پاکستان فارورڈ

image

نومبر میں ایران میں ایک تقریب میں ایک مقتول فاطمیون جنگجو کا کفن دکھایا گیا ہے۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

کابل – اگست میں افغان حکومت کا سقوط، افغانستان میں بڑی تعداد میں تبدیلیوں کا باعث بنا لیکن ایران کی پشت پناہی کی حامل اس ملشیا سے اٹھنے والا خدشہ برقرار رہا ہے۔

ہمسایہ افغانستان میں گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی سیاسی اور سیکیورٹی پیش رفت سے متعلق ایران کی بے قراری اچھی طرح سے مندرج ہے۔

اس اعتبار سے ایران نے اپنی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے ذریعے فاطمیون ڈویژن کے نام سے افغانوں پر مشتمل ملشیا کو برقرار رکھا اور بعض اوقات اس کی افزائش بھی کی۔

جبکہ اس گروہ کی سرگرمیوں کا مرکزی نقطہٴ ارتکاز شام میں منصوبے اور مقاصد — دورافتادہ قصبوں کو آبادیاتی اعتبار سے شعیہ جنگجوؤں اور تعصب پسندوں پر مشتمل "چھوٹے ایرانوں" میں تبدیل کرنا اور ایران سے ملحقہ دیگر ملشیا کو شام میں امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں میں معاونت فراہم کرنا— ہیں، افغانستان میں اس گروہ کے بارے میں تہران کے منصوبوں سے متعلق خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

image

نومبر میں امام حسین برگیڈ کے فاطمیون جنگجو شام میں مشقیں کر رہے ہیں۔ [فائل]

حالیہ برسوں میں شام میں لڑائی کی شدت میں کمی آ چکی ہے، جس کی وجہ سے اگر حکومتِ ایران چاہے تو فاطمیون کو تعینات کر سکتی ہے۔

گزشتہ برس فاطمیون ریلی میں فاطمیون ڈویژن کے ایک سینیئر کمانڈر سید الیاس نے کہا، "رضائے الٰہی کے لیے مجاہدین کی اس فوج کے بہت بڑے اہداف ہیں اور یہ ایک نئی اسلامی تہذیب کے قیام سے قبل اپنا جہاد نہیں روکے گی۔۔۔ جس کی تعبیر [ایرانی روحانی پیشوا] امام [علی] خامنہ ای کے مرکزی احکام میں سے ایک تھا۔"

ایران کی جانب سے فاطمیون ڈویژن میں افغانوں کی بھرتی جاری ہے، جس کا ثبوت ٹیلی گرام پر اس گروہ کی فعال میڈیا موجودگی اور ایران اور شام میں تازہ ترین واقعات سے متعلق اس کی پوسٹس ہیں۔

ہیرات شہر سے ایک سیاسی تجزیہ کار عبدالقدیر کامل نے کہا، "فاطمیون شدید طور پر پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ اثر ہیں اور ایران جہاں چاہے انہیں اپنی ضمنی جنگوں میں استعمال کر سکتا ہے۔"

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب— فاطمیون کے بانی— ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا دوسرا یومِ وفات قریب ہے اور ایران میں غریب افغان مہاجرین کی ایزا رسانی کی ان کی روایت برقرار ہے۔

پرتعیش وعدوں کا ٹوٹنا

فاطمیون ایران میں کام کرنے والے ان غریب افغانوں پر ستم ڈھا رہی ہے جو اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تگ و دو میں ہیں اور اب مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ملشیا افغانستان اور خطے کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔

اگرچہ آئی آر جی سی نے فاطمیون ارکان کی اموات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم ہزاروں افغان مہاجرین تہران کے لیے ضمنی جنگیں لڑتے ہوئے مارے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن اساسی آئی آر جی سی واچر علی الفونیح نے فروری 2020 میں اپنی ڈیٹا بیس کی بنیاد پر ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کو بتایا کہ جنوری 2012 سے ستمبر 2019 تک شام میں تقریباً 917 افغان شہری جاںبحق ہوئے۔

متعدد افغان بھرتی شدگان نے ایرانی شہریت، سہولیات اور ملشیا ارکان کے طور پر اپنی ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ اپنے اہلِ خانہ کے لیے ماہانہ ادائگیوں کے بدلے میں فاطمیون ڈویژن میں شمولیت اختیار کی۔

سابقہ فاطمیون فوجیوں اور جاںبحق ہونے والے فاطمیون ارکان کے اقارب نے شکایت کی ہے کہ یہ پرتعیش وعدے کم ہی وفا ہوتے ہیں۔

ایران ایک اور طریقے سے بھی نئے فاطمیون ارکان کو بھرتی کر کے گمراہ کرتا ہے: کہ وہ شام کے مقدش مزارات کو شورشیوں کے حملوں سے تحفظ فراہم کریں گے۔ اس کے بجائے وہ انہیں میدانِ جنگ اور توپوں کے دہانے پر بھیج دیتے ہیں۔

المناک کہانیاں

ایران سے اپنے وطن لوٹنے والے افغان ان مہاجروں کی کہانیاں بتاتے ہیں جنہوں نے فاطمیون ڈویژن کے رکن بننے کے لیے حامی بھری۔

صوبہ ڈائیکنڈی کے ایک رہائشی، رضا، جنہوں نے ایک عرف استعمال کرنے کا کہا، نے کہا کہ اس کے 24 سالہ کزن ایواز علی نے پانچ برس قبل فاطمیون ڈویژن میں شمولیت اختیار کی لیکن وہ شام کا قصد کرنے کے بعد کبھی واپس نہیں آیا۔

رضا نے کہا کہ دو برس بعد آئی آر جی سے نے اس کے خاندان کو اطلاع دی کہ وہ شام میں جاںبحق ہو چکا ہے۔

رضا نے کہا، "حکومتِ ایران نے ایواز علی اور اس کے اہلِ خانہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ شام میں جنگ میں جاتا ہے تو اسے ایک گھر اور ایک کروڑ تمن (2,367 ڈالر) ماہانہ ادا کریں گے، لیکن جب ایواز علی مارا گیا تو انہوں نے اس کے اہلِ خانہ کو کچھ نہ دیا۔"

رضا نے اتوار (19 دسمبر) کو ایران سے نکالے جانے کے بعد کہا، "ایک ایرانی نے شام جا کر زینب کے مزار کی حفاظت کرنے کے لیے میری بھی حوصلہ کی، لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا کیوں کہ مجھے احساس تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔"

حسنین، جن کا ایک ہی نام ہے، نے کہا کہ ایران میں ان کے قیام کے دوران انہوں نے ایرانی افواج کو افغان ہزارہ نوجوانوں کو شام میں جنگ میں جانے کے لیے جھوٹے وعدوں سے بہکاتے دیکھا ہے۔

ایرانی حکام نے اسے تین ماہ قبل صوبہ ہیرات کی جانب صوبہ بدر کر دیا۔

انہوں نے کہا، "ایرانی مردوں کے علاوہ، بڑی تعداد میں ایرانی عورتیں بھی افغان ہزارہ کے گھروں میں جاتی تھیں اور وہ انہیں زینب کے مزار پر داعش [دولتِ اسلامیہ] کے حملوں سے متعلق بتاتی تھیں اور اس مزار کی حفاظت کے لیے اپنے نوجوانوں کو شام بھیجنے کے لیے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ، "[ایران میں] ہمارے علاقہ سے شام بھیجے جانے والے 10 سے زائد نوجوان افراد مارے جا چکے ہیں لیکن صرف پانچ کی میتیں ان کے خاندانوں کو واپس ملی تھیں۔"

حسین نے کہا، "میرے قریبی دوستوں میں سے متعدد جو ماضی میں فاطمیوں کے ارکان تھے یہ احساس ہونے کے بعد واپس افغانستان چلے آئے کہ حکومتِ ایران نے ان سے دروغ گوئی کی اور اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔"

افغانستان کو ایک خطرہ

زارنج شہر، صوبہ نمروز سے تعلق رکھنے والے ایک عسکری تجزیہ کار محمد اقبال نادری نے کہا کہ فاطمیون ڈویژن افغانستان کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

نادری نے کہا، "یہ عین ممکن ہے کہ ایران، افغانستان، بطورِ خاص مغربی صوبوں میں جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کے لیے فاطمیون کا استعمال کرے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں فاطمیون کے ہزاروں ارکان افغانستان واپس لوٹے ہیں اور مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ اگر یہ اب بھی آرئی آر جی سی کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں تو یہ لوگ افغانستان کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

درحقیقت سابق ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے گزشتہ دسمبر ایک افغان ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ " اگر افغان حکومت انہیں استعمال کرنا چاہے تو فاطمیون بہترین افوج ہیں۔"

[ہیرات سے عمر نے اس رپورٹ میں کردار ادا کیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500