توانائی

سرمائی اولمپکس سے قبل چین کا گرین انرجی پر زور کسانوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

چین کے شمالی صوبے ہیبی کے باؤڈنگ کے گاؤں ہوانگ جیاؤ میں 22 اکتوبر کو ایک کسان سولر پینلز کے قریب بھیڑیں چرا رہا ہے۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

باؤڈنگ، چین -- تشدد کا نشانہ بنے، زمینوں سے زبردستی نکالے گئے، پیسوں پر دھوکہ دیا گیا اور یہاں تک کہ جھوٹے الزامات میں قید کر دیا گیا -- چین میں کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں کیونکہ حکام گرین توانائی کی قومی پیداوار کو بڑھانے کے لیے، کیے جانے والے اپنے پرجوش وعدوں کو پورا کرنے کے لیے جلدی کر رہے ہیں۔

چین نے وعدہ کیا تھا کہ آنے والے سرمائی اولمپکس 2022 پہلے ایسے کھیل ہوں گے جو مکمل طور پر ہوا اور شمسی توانائی پر چلائے جائیں گے اور اس نے صلاحیت کو بڑھانے کے لیے متعدد سہولیات تعمیر کی ہیں -- لیکن سرگرم کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل میں "زمینوں پر قبضے" کے ذریعے عام لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

بیجنگ کے قریب ایک بستی میں، لانگ خاندان -- جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی آدھی سے زیادہ زرعی زمین ایک وسیع و عریض سولر فارم کے لیے کھو دی ہے -- اب ان کی آمدنی اتنی کم ہے کہ وہ سردیوں میں گرم رہنے کے لیے مکئی کی بھوسی اور پلاسٹک کے تھیلے جلا رہے ہیں۔

ہوانگ جیاؤ گاؤں سے تعلق رکھنے والے کسان لانگ نے زمین ناپنے کا ایک چینی یونٹ استعمال کرتے ہوئے جو کہ تقریباً 667 مربع میٹر کے برابر ہوتا ہے کہا کہ جب پاور کمپنی نے زمین 25 سال کے لیے کرایے پر دی تو ہم سے ہر سال صرف 1،000 یوآن فی ایم یو اراضی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا"۔

image

چین کے شمالی صوبے ہیبی کے باؤڈنگ کے گاؤں ہوانگ جیاؤ میں،23 اکتوبر کو، ایک عورت مکئی کے سٹے جلا رہی ہے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

image

چین کے شمالی صوبے ہیبی میں کاؤژوانگسی گاؤں، باؤڈنگ میں 23 اکتوبر کو ونڈ ٹربائن کے قریب ایک کسان بھیڑیں چرا رہا ہے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ ہم اسی علاقے میں مکئی اگانے سے دوگنی سے زیادہ رقم کما سکتے ہیں۔ "اب زمین کے بغیر، میں ایک دیہاڑی دار مزدور کے طور پر گزارہ کرتا ہوں۔"

چین ونڈ ٹربائنز اور سولر پینلز کا دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے اور سرمائی اولمپکس کو ملک گرین ٹیکنالوجیز کی نمائش کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ عالمی منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔

لیکن بیجنگ کی طرف سے آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے عالمی رہنما بننے کوشش کو، اس کی کوئلے میں بھاری سرمایہ کاری اور "گرین" نظر آنے کے لیے مقامی اور غیر ملکی براردریوں کے استحصال نے نقصان پہنچایا ہے۔

'دبے ہوئے اور قید'

لانگ اور اس کے پڑوسی پائی جیسے کسانوں کے لیے، گرین انرجی کی تیزی نے ان کی زندگیوں کو مزید خطرناک اور مشکل بنا دیا ہے۔

پائی کا کہنا ہے کہ دیہاتیوں کو معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا -- جنہیں اے ایف پی نے دیکھا ہے-- جس میں انہوں نے اپنی زمین سٹیٹ پاور انویسٹمنٹ گروپ (سی پی آئی سی) کے ذریعہ بنائے گئے سولر پارک کے لئے کرایے پر دے دی ہے، جو ملک کی پانچ بڑی یوٹیلیٹی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ راضی نہیں ہوئے انہیں پولیس نے مارا پیٹا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اور کچھ کو حراست میں لے لیا گیا۔"

پائی کو 40 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا، جب کہ لانگ کو عوامی احتجاج کے بعد "غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے اور امن کو خراب کرنے" کے جرم میں نو ماہ تک جیل میں بند رکھا گیا۔

پائی نے کہا کہ "تمام صورتحال ایک مافیا کی طرح ہے۔ اگر آپ شکایت کریں گے تو آپ کو دبایا جائے گا، قید کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔"

باؤڈنگ میں اوسط سالانہ قابل تصرف آمدنی دیہی آمدنی تقریباً 16,800 یوآن (2,600 ڈالر) ہے۔ لانگ اور پائی دونوں نے کہا کہ وہ اب اتنا کمانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

اے ایف پی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا ہوانگ جیاؤ کے قریب ایس پی آئی سی پروجیکٹ کی بجلی براہ راست اولمپک مقامات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، کیونکہ یہ معلومات عوامی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

جب اے ایف پی نے پوچھا تو کمپنی نے تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔

لیکن کھیلوں کی شریک میزبانی کرنے والے شہر -- ژانگجیاکوو کی حکومت نے کہا ہے کہ 2015 میں اولمپک بولی جیتنے کے بعد سے، اس علاقے نے اپنے آپ کو"بالکل صفر سے، چین میں قابل تجدید توانائی کے سب سے بڑے غیر ہائیڈرو اڈے میں تبدیل کر دیا"۔

ونڈ اور سولر فارمز کے لیے حکومتی امداد، ہیبی کے دیگر حصوں میں بھی ایسے منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لائی ہے، کیونکہ چین کھیلوں سے قبل فضائی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ "زبردستی بے دخلی، غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ اور زمین کے نقصان کے باعث معاش کا نقصان" انسانی حقوق کے ایسے خدشات ہیں، جو ہوا سے توانائی اور شمسی توانائی کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔

"ہمیں کچھ نہیں ملا"

ستمبر میں، چین نے ماحولیاتی منصوبوں، بشمول گرین توانائی کی ترقی کے لیے زمین لیے جانے کی صورت میں، معاوضے کی ادائیگی لیے سخت قوانین کا اعلان کیا تھا۔

گرین ترقی کو فروغ دینے والی، قابل تجدید توانائی کے پیشہ ور افراد کی کمیٹی کی سیکرٹری جنرل لی ڈین نے کہا کہ "ہماری زمینی زوننگ [قواعد] بھی واضح طور پر بتاتی ہے کہ کس زرعی زمین پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جس زمین پر کھیتی باڑی کی جاتی ہے"۔

"یہ ایک سرخ لکیر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اگر قابلِ کاشت زمین قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے تو وہاں فائدہ کے اشتراک کا پروگرام ہونا چاہیے جیسے کہ گرین ہاؤسز کو بجلی فراہم کرنا۔

لیکن کئی کسانوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے لیے، زرعی کھیتوں پر بنجر زمین کا لیبل لگا رہی ہیں۔

ژانگجیاکوو میں ایک کسان، سو وان، کھیلوں سے پہلے ہونے والی تیاریوں کے سلسلے میں تعمیر کردہ شمسی تنصیب کے لیے اپنی زمین کھو بیٹھا۔

سو نے کہا کہ "کمپنی نے ہمیں بتایا کہ یہ ناقابل استعمال زمین ہے، لیکن درحقیقت یہ تمام اچھی زرعی زمین ہے جو ہم کسان استعمال کرتے ہیں۔"

"انہوں نے کہا کہ وہ ہمیں 3,000 یوآن [471 ڈالر] فی ایم یو زمین دیں گے۔ لیکن آخر میں ہمیں کچھ نہیں ملا۔"

ژانگجیاکوو ییوآن نیو انرجی ڈیولپمنٹ، جس نے سو کے گاؤں میں سولر پراجیکٹ نصب کیا، نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بی آر آئی کے خلاف احتجاج

چین کی طرف سے عالمی بنیادی ڈھانچے کی کوششوں-- بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) - کے تحت پچھلے سال نصف سے زیادہ نئے منصوبے قابل تجدید سرمایہ کاری کے تھے۔

بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ریسورس سینٹر، جو کہ برطانیہ میں قائم ایک ایسا غیر منافع بخش ادارہ ہے، جس نے بیرون ملک، چین کے قابل تجدید سرمایہ کاری کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے، سے تعلق رکھنے والی پریانکا موگل نے کہا کہ کچھ ڈویلپرز پر بیرون ملک زمین حاصل کرنے کے دوران متنازعہ طریقوں کو استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "سب سے زیادہ عام مسئلہ ماحولیاتی اثرات کی تشخیص [ڈیٹا] کو ناکافی طور پر منکشف کرنا تھا... اس کے بعد زمین کے حقوق اور ذریعہ معاش کے نقصان سے متعلق مسائل تھے ۔"

بی آر آئی سے متاثر ہونے والی برادریوں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

مثال کے طور پر پاکستان کے بندرگاہی شہر گوادر میں، سینکڑوں رہائشی احتجاج کر رہے ہیں مقامی اور چینی ٹرالروں کی جانب سے گہرے سمندر میں غیر قانونی ماہی گیری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے منصوبوں کی طرف جانے والے راستوں پر بنائی گئی سیکیورٹی کی چوکیوں پر، مقامی لوگوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر۔

بلوچستان کے جنوب مغربی ساحل پر واقع یہ شہر، متوقع طور پر بی آر آئی کا ایک اہم حصہ ہو گا، جو پاکستان کو تجارت اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کھولے گا جنہیں بہت سے پاکستانی اپنے ملک کے لیے نقصان دہ اور چین کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔

مظاہرین پانی اور بجلی کی قلت کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں اور انہوں نے گوادر میں ممکنہ باڑ لگانے کی مخالفت بھی کی ہے، جس کا مقصد سی پیک کی مخالفت کرنے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے، ایسے منصوبوں کو حفاظت فراہم کرنا ہے جن کے لیے سرمایہ کاری چین نے کی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک سے منسلک منصوبے، گوادر کے رہائشیوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں لائے ہیں اور نہ ہی ان سے پانی اور بجلی کی طویل قلت کو حل کرنے میں مدد ملی ہے۔

ماہی گیروں کے نمائندے بشیر ہوت، جو 15 نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں نے کہا کہ "گوادر میں چین کی موجودگی نے مقامی باشندوں کو اپنی سرزمین پر اجنبی بنا دیا ہے۔"

مبصرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ مقامی وسائل کا استحصال کر رہا ہے اور اسے مقامی آبادی پر اپنے اقدامات کے اثرات کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے سیندک میں چینی کمپنیوں نے بغیر کسی مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے تانبے اور سونے کے ذخائر نکالے ہیں۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے برعکس، چینی کمپنیوں نے ضلع چاغی میں تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

صوبہ سندھ میں بی آر آئی سے منسلک منصوبوں پر، تھر کے صحرائی علاقے کے رہائشیوں کی طرف سے بھی اس وقت احتجاج کیا گیا ہے جب مطالعات سے پتہ چلا کہ پروگرام کے تحت کوئلے کی کان کنی کے منصوبے جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہوں گے اور مقامی آبادی کو صحت کے سنگین خطرات سے دوچار کریں گے۔

'بدعنوانی ناقابلِ برداشت ہے'

چین میں، گاؤں کی زمین پر قبضے کے دوران تنازعات کو کم کرنے کے لیے، بیجنگ نے زیادہ تر شمسی فارموں کو غربت کے خاتمے کے منصوبوں کے طور پر پیش کیا ہے، جہاں دیہاتیوں کو اپنی چھتوں پر نصب سولر پینلز سے مفت بجلی ملتی ہے۔

2014 کے سرکاری رہنما اصولوں کے مطابق، یوٹیلیٹی کمپنیوں کو 2020 تک 20 لاکھ خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے پروگرام کے تحت، اضافی بجلی واپس خریدنی چاہیے۔

نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ پچھلے سال اس تعداد سے دوگنا زیادہ تعداد نے فائدہ اٹھایا۔

لیکن ہوانگ جیاؤ جس میں 300 سے زیادہ گھرانے ہیں، صرف دو چھتوں پر ہی سولر پینل موجود تھے اور دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ سولر پینلز لگانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

ہوانگ جیاؤ گاؤں کے پائی نے کہا کہ "مرکزی سطح پر، حکومت کی کسانوں کے لیے اچھی پالیسیاں ہیں۔"

"لیکن ایک بار جب یہ گاؤں کی سطح پر آجائے تو حالات بدل جاتے ہیں۔ نچلی سطح پر بدعنوانی ناقابل برداشت ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500