سلامتی

امریکہ کی شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری جبکہ روس اور ایران اپنے مفادات کے لیے سرگرم

از المشرق

image

یہ تصویر جو کہ 20 ستمبر کو لی گئی، میں شام کے علاقے ادلب کے شمال مشرقی مضافات میں مبینہ طور پر ڈرون حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی کو دکھایا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق، 3 دسمبر کو ہونے والے ایک الگ ڈرون حملے میں القاعدہ کا ایک رہنما مارا گیا تھا۔ [عمر حج قدور/اے ایف پی]

ادلب-- شام میں امریکی کارروائیاں، القاعدہ اور "دولتِ اسلامیہ"(داعش) سے منسلک دہشت گرد رہنماؤں کو، نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ روس اور ایران جو کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے اتحادی ہیں، اپنی توانائیوں کو قدرتی وسائل کی حفاظت اور اپنی پراکسی فورسز کو مضبوط کرنے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

امریکی اقدامات کی حالیہ مثال 3 دسمبر کو پیش آئی جب ڈرون کے ایک حملے میں، القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک سینئر دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔

پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے 6 دسمبر کو ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ادلب کے قریب ہونے والے حملے میں مصاب کنان، جو کہ حراس الدین کا سینئر راہنما تھا، ہلاک ہو گیا۔

حراس الدین ایک مقابلتاً چھوٹا مگر طاقتور مسلح گروہ ہے جس کی قیادت القاعدہ کے وفادار کرتے ہیں۔ جون 2020 میں، اس نے، علاقے میں کام کرنے والے دوسرے بنیاد پرست گروہوں کے ساتھ اتحاد کر کے فتح بتو آپریشنل روم بنا لیا۔

image

امریکہ کے فوجی، 7 دسمبر کو، دیر الزور میں داعش کے خلاف لڑائی میں شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ [سینٹ کام]

شام میں القاعدہ کی شاخ سمجھی جانے والی حراس الدین، تحریر الشام کی حریف ہے جو کہ ایک ایسا انتہا پسند اتحاد جس پر القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ (اے این ایف) کے سابق ارکان کا غلبہ ہے -- حالانکہ دونوں گروہ وقتًا فوقتًا ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہتے ہیں۔

امریکہ نے حراس الدین کو 2019 میں دہشت گرد گروہ قرار دیا تھا۔

شمال مغربی شام میں،22 اکتوبر کو ہونے والے ایک ڈرون حملے میں، القاعدہ کے سینئر رہنما عبدالحمید المطر مارے گئے تھے۔

سینٹرل کمانڈ کے ترجمان میجر جان رگسبی نے اس وقت ایک بیان میں کہا تھا کہ "القاعدہ کے اس سینئر رہنما کا خاتمہ کیے جانے سے، دہشت گرد تنظیم کی مزید سازشیں کرنے اور عالمی حملے کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔"

پینٹاگون نے 20 ستمبر کو، شام میں القاعدہ کے ایک اور سینئر کمانڈر سلیم ابو احمد کو بھی ادلب کے قریب ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

کچھ خبریں اس بات کی طرف اشارہ بھی کرتی ہیں کہ اس حملے میں حراس الدین کے دو اہلکار مارے گئے تھے: ابو البراء التونسی، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سینئر مذہبی شخصیت تھے اور ابو حمزہ الیمنی۔

روسی رکاوٹیں

القاعدہ سے نمٹنے کے لیے امریکی کوششیں، روس اور ایران کے برعکس ہیں، جن کی شام میں مداخلت دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا کام مشکل بناتی ہے۔

مقامی فوجی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2020 کے اوائل میں مشرقی شام میں روسی فوجی دراندازی نے شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) اور امریکہ کے زیرِ قیادت اتحاد کی، داعش سے لڑنے کی کوششوں میں خلل ڈالا۔

شام سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد العبداللہ نے اس وقت کہا تھا کہ روس ان کارروائیوں کے ساتھ، علاقے میں جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ یہ مکمل طور پر عسکری علاقہ ہے اگرچہ یہاں اب داعش سرِعام موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت، روس کی موجودگی تمام فوجی اور نگرانی کی مہمات میں رکاوٹ کا باعث ہے۔

العبداللہ نے کہا کہ روس کے اقدامات "ان علاقوں میں کشیدگی کے حالات کو برقرار رکھنے سے دہشت گردوں کے مفادات کی خاطر خواہ خدمت کر رہے ہیں، جس سے روس کی ان سابقہ یقین دہانیوں کی نفی ہوتی ہے کہ وہ شام کی خدمت، اس کی سلامتی کے تحفظ اور حالتِ جنگ کے خاتمے کے لیے مداخلت کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ دراندازیاں بہت سے نئے تنازعات کے ظہور کا دروازہ کھولتی ہیں جو آٹھ سالہ طویل جنگ کے دوران موجود نہیں تھے۔"

العبداللہ نے کہا کہ روس کے غیر اعلانیہ اہداف میں سے ایک، شام کے ان وسیع قدرتی وسائل تک رسائی حاصل کرنا ہے جنہیں ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا ہے لیکن تحقیق سے ان علاقوں میں اُن کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

کریملن طویل عرصے سے انسداد دہشت گردی کی آڑ میں ایسے خود غرض مقاصد کو چھپانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

قبل ازیں روسی ذرائع ابلاغ کی طرف سے آن لائن پیش کی جانے والی ویڈیوز میں، شام میں کام کرنے والی روسی حمایت یافتہ نجی سیکیورٹی کمپنی - "داعش ہنٹرز" کی ایک مکروہ تصویر پیش کی گئی ہے۔

بھاری ہتھیاروں سے لیس اور بازؤں پر منفرد پیوند، جن پر ایک کھوپڑی جس پر سرخ نشانہ بنا ہوا ہے کا دھمکی انگیز نشان بنا ہوا ہے، کرائے کے گروپ کے ارکان ایسے لگتے ہیں جیسے وہ داعش کی باقیات سے لڑنے والے سخت جنگجو ہوں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ادارے کی طرف سے داعش کو نشانہ بنائے ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے۔

شامی مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش ہنٹرز کی اصل توجہ شام میں روس کے متعدد اور متنوع اقتصادی مفادات کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔

ایرانی مداخلت

اپنے کردار میں ایران - شام میں ایک اور اہم کھلاڑی - نے دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے اور شامی حکومت کے ساتھ مل کر لڑنے والی علاقائی پراکسیوں کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کی ہے۔

ایک دہائی کے دوران زیادہ تر عرصے میں، ایرانی حکومت نے شام میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، الاسد حکومت کو عسکری طور پر آگے بڑھایا ہے اور دوسرے شعبوں میں بہت زیادہ خرچ کیا ہے -- لیکن اس کا اثر بہت کم ہوا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران نے شام میں جو بڑی رقم خرچ کی ہے، اور جو وہ خرچ کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، اس سے ایرانی حکومت کو امید کے مطابق فائدہ نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ اخراجات کی مد میں، لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی، یہ فورس اس وقت دو سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہے، کہا کہ نہ تو انہوں نے پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) اور اس کی بیرون ملک موجود شاخ قدس فورس (آئی آر جی ایس -کیو ایف) کو تقویت بخشی ہے۔

ایران نے پچھلی دہائی کے دوران الاسد کی حکومت کو لاکھوں بیرل تیل اور لاکھوں ڈالر عطیہ کیے ہیں اور وہ تمام عطیات -- جہنوں نے ایرانی زندگیوں میں خامیوں اور مشکلات کو جنم دیا -- بے سود رہے ہیں۔

دریں اثنا تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی خود بیان کردہ "محور مزاحمت"، ایک اصطلاح جو کہ برسوں سے تہران اور اس کے متعلقہ اداروں کے درمیان اتحاد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے -- جس میں حال ہی میں عراق میں کتائب حزب اللہ اور عصائب اہل الحق، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی شامل ہوئے ہیں -- "دہشت گردی کے محور" سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔

اس طرح کی پراکسیاں خطے میں اسلامی جمہوریہ کی بالادستی اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو مسلط کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہی ہیں۔ بدلے میں، تہران اپنے "محور" شراکت داروں کو وہ تمام رقم، ہتھیار اور مدد فراہم کرتا ہے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500