دہشتگردی

مبصرین کے مطابق، بیجنگ کا مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پاکستان میں عسکریت پسندی کو ہوا دے گا

زرق خان

image

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کے باہر، 8 نومبر کو سیکورٹی کا عملہ چوکس کھڑا ہے۔ [آصف حسن/ اے ایف پی]

اسلام آباد -- مبصرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی طرف سے چین میں مسلمانوں سے کیا جانے والا ناروا سلوک، ہمسایہ ملک پاکستان میں انتہاپسندی کو ہوا دینے اور ملک میں چین کے مفادات پر حملوں کا باعث بن سکتا ہے۔

مسلمانوں کی اکثریت والے سنکیانگ کے علاقے میں، چینی حکام نے ایک ملین سے زیادہ ایغور اور دیگر مسلمانوں -- جن میں قازق اور کرغیز النسل بھی شامل ہیں -- کو تقریبا 400 حراستی مراکز میں قید کیا ہے جن میں "سیاسی تعلیم" کے کیمپ، مقدمات سے پہلے کے حراستی مراکز اور جیلیں شامل ہیں۔

مزید لاکھوں سخت نگرانی اور کنٹرول میں رہ رہے ہیں۔

بیجنگ ان مراکز کا دفاع کرتے ہوئے انہیں "ووکیشنل تربیتی مراکز" قرار دیتا ہے جن کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ کرنا اور ملازمت کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔

تاہم، ان مراکز کے بارے میں زیادہ تر اطلاعات یہ ہیں کہ یہ جبری حراستی مراکز ہیں جنہیں کچھ لوگوں نے "حراستی مراکز سے مماثل" قرار دیا ہے۔

آزادانہ تفتیش اور سابقہ قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے انٹرویوز سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد، برین واشنگ، منظم عصمت دری، مسلمان خواتین کی جبری نس بندی، زبردستی اعضاء نکال لینے، جنسی استحصال اور دیگر مظالم کا پتہ چلا ہے۔

گزشتہ ماہ، بیجنگ نے بھی ایک ایسے قانون کو استعمال کرتے ہوئے، جس کے تحت آن لائن کتابوں اور رسالوں کی تقسیم کے لیے اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے، ایپل کو مجبور کیا کہ وہ قرآن مجید ایپ کو چین میں اپنے ایپ اسٹور سے ہٹا دے۔

ایپلی کیشن کے ڈویلپر، پاکستان ڈیٹا مینجمنٹ سروسز (پی ڈی ایم ایس) کے مطابق، ہٹانے سے تقریباً 10 لاکھ صارفین کے لیے ایپ کو غیر فعال کر دیا گیا۔

ادارے کے مطابق، اس ایپ پر "عالمی سطح پر 25 ملین سے زیادہ مسلمان انحصار کرتے ہیں" جو دیگر چیزوں کے علاوہ، قرآن پاک کو پڑھنے یا اس کی تلاوت سننے، نماز کے اوقات پر نظر رکھنے، قبلہ کی سمت معلوم کرنے اور مکہ اور مدینہ کی لائیو کوریج دیکھنے کے لیے ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

چین کے حکام نے زیادہ تر گزشتہ تین سالوں کے دوران، تقریبا 16,000 مساجد کو تباہ کیا یا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات ایک آسٹریلوی اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ سے ظاہر ہوئی ہے جو سینکڑوں مقدس مقامات کی سیٹلائٹ کی تصویروں پر مبنی دستاویزی اور شماریاتی ماڈلنگ سے اخذ کی گئی ہے۔

ایغور وکلاء اور آزاد ذرائع ابلاغ کے مطابق، پچھلے دو سالوں کے دوران، چینی حکام نے ایغور کاروباری مالکان کے لاکھوں ڈالر مالیت کے اثاثے بھی ضبط کیے اور انہیں نیلامی میں فروخت کر دیا۔

یہ نیلامیاں اور سنکیانگ کے علاقے میں ایغور اور دیگر ترک بولنے والے مسلمانوں -- بشمول نسلی قازق اور کرغیز -- کے خلاف کریک ڈاؤن، چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کی چین کی نسلی اقلیتوں کو "زیادہ چینی" بنانے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہیں۔

عسکریت پسندی کو فروغ دینا

مبصرین کے مطابق، اس طرح کی پالیسیوں، چینی کمپنیوں کی طرف سے اسلام کے عدم احترام اور بلوچستان اور سندھ میں چینی اثر و رسوخ میں اضافے نے پہلے ہی پاکستان میں مذہبی اور نسلی عسکریت پسندی کو ہوا دی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پہلے ہی چین میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت میں بیانات جاری کر چکی ہے اور پاکستان کے مختلف حصوں میں چینی مفادات کو نشانہ بنا چکی ہے۔

اسلام آباد اور بیجنگ نے 14 جولائی کو ہونے والے ایک خودکش حملے کا ذمہ دار ٹی ٹی پی کو قرار دیا ہے جس نے ان 9 چینی انجنیئروں کو ہلاک کر دیا تھا جو خیبر پختونخواہ کی کوہستان ڈسٹرکٹ میں پن بجلی کے ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

اپریل میں، ٹی ٹی پی نے اس پرتعیش ہوٹل پر، جو صوبہ بلوچستان کے شہرکوئٹہ میں چین کے سفیر کی میزبانی کر رہا تھا، پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے حمایت یافتہ، گلوبل ٹائمز کے حوالے سے ایک تجزیہ کار، نے 18 ستمبر کوکہا کہ ٹی ٹی پی "پاکستان میں مزید سرگرمیاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید چینی باشندوں یا چینی منصوبوں پر حملہ کیا جا سکتا ہے"۔

انتہاپسند میڈیا پر توجہ مرکوز کرنے والے کراچی کے ایک محقق سید فضل حسین نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں، ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی القاعدہ سے منسلک گروہوں کی طرف سے شائع ہونے والے ذرائع ابلاغ میں چین مخالف بیان بازی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اکثر چینی حکومت کے خلاف تفصیلی بیانات جاری کرتی ہے، جن میں چینی مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک میں درپیش صورتحال کی مذمت کی جاتی ہے۔

حسین نے کہا کہ "اگرچہ ٹی ٹی پی نے چین میں اپنے ایپ اسٹور سے قرآن مجید ایپ کو ہٹانے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن ٹی ٹی پی کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیجنگ کے مسلم مخالف اقدام پر باقاعدگی سے تنقید کرتے رہتے ہیں"۔

حسین نے کہا کہ "بلوچ اور سندھی علیحدگی پسند گروہوں کی طرح، القاعدہ اور ٹی ٹی پی خصوصی طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر تنقید کر رہے ہیں جو کہ چین کے بیلٹ و روڈ انشیٹیو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ منصوبہ ہے اور اس کا موازنہ 1850 کی دہائی کی نوآبادیاتی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے کیا جاتا ہے۔

پاکستانی عسکریت پسند ماضی میں چین کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔

القاعدہ کے ایک بااثر نظریات ساز اور پاکستانی شہری مفتی ابو زر البرمی نے 2014 میں ایک ویڈیو پیغام میں خبردار کیا تھا کہ چین "اگلا ہدف" بنے گا۔

انہوں نے ٹی ٹی پی سمیت تمام شدت پسند گروپوں پر زور دیا کہ وہ چینی سفارت خانوں اور کمپنیوں پر حملے کریں اور چینی شہریوں کو اغوا یا قتل کریں۔

ٹی ٹی پی نے چینی شہریوں کے بہت سے قتل اور اغوا کے واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان صوبوں میں پیش آئے تھے۔

خطرہ بڑھ رہا ہے

پاکستان کے سیکورٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کے دوبارہ سے اتحاد، نے پاکستان میں، سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں مقیم ایک سیکورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ٹی ٹی پی کے دوبارہ اتحاد نے چین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جو پہلے ہی پاکستان پر، بلوچستان اور سندھ صوبوں میں نسلی علیحدگی پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباو ڈال رہا ہے تاکہ بی آر آئی سے منسلک منصوبوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے"۔

اہلکار نے کہا کہ "پاکستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے خطے میں چینی شہریوں اور کمپنیوں کی حفاظت کے لیے، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند گروہ اکثر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے چین مخالف جذبات کا استعمال کرتے ہیں۔

"لہذا، پاکستانی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور سندھ اور بلوچستان میں پاکستانی باشندوں کی شکایات کو دور کرے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500