سلامتی

پوری دنیا میں پھیل جانے پر کریملن کے بھاڑے کے فوجیوں کے پیچ کس دیئے گئے

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

وسطی افریقی فوج کے سپاہی اپنی لوٹی گئی فوجی چھاؤنی کا معائنہ کرتے ہوئے جس پر باغی ملیشیاؤں نے 3 فروری کو قبضہ کر لیا تھا۔ مارچ میں، اقوام متحدہ کے ایک گروپ نے گزشتہ دسمبر میں سی اے آر میں روس کے بھاڑے کے فوجیوں کے "صدارتی انتخابات کے بعد سے ہونے والے پرتشدد حملوں کے سلسلے سے تعلق" پر خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔ [ایلیکس ہیوگٹ/ اے ایف پی]

عالمی رہنماؤں نے ویگنر گروپ پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو کہ روس کا بھاڑے کے فوجیوں کا ایک غیر معروف نجی گروپ ہے جس کا کریملن سے قریبی تعلق ہے۔

ویگنر بھاڑے کے فوجیوں کو دنیا بھر میں تنازعہ والے علاقوں، خصوصاً یوکرین، کئی افریقی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے ساتھ کے سلسلے سے منسلک کیا گیا ہے۔

15 نومبر کو جوزف بوریل نے برسلز میں یورپی یونین (ای یو) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہا، "اس گروپ کے خلاف پابندیوں عائد کرنے کے لیے پیشرفت پر اتفاق رائے ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کی تجاویز کا مسودہ یورپی یونین کے ماہرین تیار کریں گے اور دسمبر میں وزرائے خارجہ کی دوبارہ ملاقات کے وقت اس پر مزید تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

image

سیٹلائٹ سے لی گئی یہ تصویر جولائی 2020 میں لیبیا کے الخادم ہوائی اڈے پر ویگنر گروپ کی جانب سے فراہم کردہ اور استعمال شدہ سامان کی حد کو ظاہر کرتی ہے۔ [ایفریکوم]

image

بیلاروس کے سرکاری ٹی وی سے ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر میں ویگنر گروپ کے درجنوں بھاڑے کے فوجیوں کو دکھایا گیا ہے جو جولائی 2020 میں نامعلوم منزلوں کی طرف جاتے ہوئے بیلاروس میں داخل ہوئے تھے۔ [فائل]

image

16 مارچ 2014 کو پیریوالنوئے، کریمیا میں یوکرائنی فوجی اڈے کے باہر نامعلوم افراد پہرہ دیتے ہوئے۔ یوکرین ویگنر گروپ کی "جائے پیدائش" تھی، جو بھاڑے کے فوجیوں کا ایک گروپ ہے جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ [دیمیتر دلکوف/اے ایف پی]

یورپی یونین کا رکن ملک فرانس، ویگنر کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی قیادت کرتا رہا ہے۔

پیرس اس گروپ اور مالی کے عارضی فوجی حکمرانوں کے درمیان 1,000 ٹھیکیداروں کو ملک میں بھیجنے کے مبینہ معاہدے کا شدید مخالف ہے۔

سنہ 2013 سے، فرانس نے مالی اور وسیع ساحل کے علاقے میں ہزاروں فوجیوں کے ساتھ ساتھ فضائی قوت کو بھی تعینات کیا ہے، جہاں وہ مقامی قوتوں کے ساتھ مل کر القاعدہ اور "دولتِ اسلامیہ" (آئی ایس) سے منسلک اسلام پسند باغیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

مالی، جہاں کم از کم 20 نسلی گروہ موجود ہیں، ایک غریب اور خشکی میں گھرا ہوا ملک، عسکریت پسندوں کے حملوں اور فرقہ وارانہ تشدد سے نبرد آزما ہے، جو اکثر پڑوسی ممالک تک پھیل جاتا ہے۔

جانچ پڑتال میں اضافہ

کریملن اس سال کے شروع میں فرانس اور جرمنی کی جانب سے بھاڑے کے فوجیوں کے ویگنر گروپ کے 1,000 جنگجوؤں کو جنگ زدہ ریاست میں بھیجنے کے ایک مبینہ معاہدے پر جانچ کی زد میں آیا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے 11 نومبر کو اپنے مالی ہم منصب عبدولے دیوپ کے ساتھ ماسکو میں بات چیت کے دوران کہا، "ہمیں مالی کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کی حمایت کرنے کی ضرورت کا احساس ہے۔"

لاوروف نے کہا کہ "ہم ملک کو ضروری سازوسامان، ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرتے ہیں۔ مالی کی ریاستی حیثیت اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کو روکنے کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ ملک میں بھاڑے کے روسی فوجیوں کے کردار سے متعلق سوالات مالی کے حکام کو بھیجے جائیں اور یہ کہ روس کے نجی شہریوں کی جانب سے قائم کردہ عسکری پہل کاریاں ماسکو کا سرکاری سروکار نہیں ہیں۔

لاوروف نے کہا، "جہاں تک مالی حکومت کے روسی پی ایم سی (نجی عسکری ٹھیکیداروں) کی خدمات کے لیے درخواست دینے کے منصوبوں کے بارے میں رپورٹوں کا تعلق ہے ... یہ سوال خصوصی طور پر مالی کی قانونی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اگر یہ معاہدے خودمختار ریاستوں کی جائز حکومتوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں، تو میں نہیں سمجھتا کہ اس بارے میں کیا منفی دیکھا جا سکتا ہے۔"

لیکن اگر حالیہ واقعات کوئی اشارہ ہیں تو، ویگنر اور دیگر روسی پی ایم سیز کے ساتھ کام کرنے کے واضح منفی نتائج ہیں۔

ویگنر پہلی بار 2014 میں یوکرین میں ابھرے تھے، جب پہلی بار جنگ شروع ہوئی اور روس نے غیر قانونی طور پر کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا.

تب سے، اس کے بھاڑے کے فوجی شام، موزنبیق، سوڈان، وینزویلا، لیبیا، وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) اور چاڈ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے جھگڑوں میں ملوث رہے ہیں۔

شام اور لیبیا میں کریملن کے کھیل میں ربط

پہلے ہی پچھلے سال، یورپی یونین نے گروپ کے لیبیا میں ملوث ہونے پر ویگنر کے مبینہ سرمایہ کار یووگنی پریگوزن کو بلیک لسٹ کر دیا تھا، جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دیرینہ ساتھی تھا۔

حالیہ اعلیٰ سطح کی غلطیوں اور سکینڈلوں نے "سیکیورٹی" کے حوالے سے ویگنر گروپ کے شہسوار انداز کو بے نقاب کر دیا ہے۔

لیبیا -- جہاں ویگنر نے سنہ 2018 سے لیبیا کے طاقتور اور روسی کلائنٹ خلیفہ حفتر کو سہارا دینے میں مدد کی ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکارڈ (جی این اے) کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی -- میں گروپ کے ایک رکن کی طرف سے چھوڑا گیا ایک ٹیبلٹ تازہ ترین ثبوت ہے۔

بی بی سی نے 12 اگست کو خبر دی تھی کہ ٹیبلیٹ پر موجود ڈیٹا نے روسی بھاڑے کے گروپ کی نقل و حرکت، رہائشی محلوں میں بارودی سرنگوں کی جگہ کے ثبوت اور اس غیر معروف گروہ کے پیچھے پیسے پر روشنی ڈالی تھی۔

ویگنر گروپ کے دو سابق جنگجوؤں کے انٹرویو کرنے کے بعد، بی بی سی نے پی ایم سی کے جنگی طریقوں کے بارے میں دو تفصیلات بتائیں: یہ اپنے اراکین کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق جاری نہیں کرتا اور اپنے قیدیوں کو مارنا اس کا معمول ہے۔

ویگنر کے ایک سابق زر خرید نے بی بی سی کو بتایا، "کوئی بھی کھانا کھلانے کے لیے ایک اضافی منہ نہیں چاہتا۔"

ٹیبلٹ کے علاوہ، بی بی سی نے ہتھیاروں اور آلات کی ایک "خریداری کی فہرست" حاصل کی، جو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف روسی فوج کی رسد سے آ سکتی تھی۔

لیبیا میں ویگنر کی سرگرمیاں شام کے تنازعے میں روس کے کردار سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

سنہ 2020 میں، Suwayda.com نے 20,600 شامی مردوں کی فہرست حاصل کی جنہوں نے لیبیا کا سفر کرنے کے لیے سیکیورٹی پرمٹ حاصل کیے تھے، تاکہ وہ روس کی طرف سے ادائیگی کردہ بھاڑے کی افواج کے طرف سے لڑ سکیں۔

تاہم، اپریل اور جون میں نیوز سائٹ نے ان ناراض شامیوں کا انٹرویو کیا جنہوں نے ان افواج کے ساتھ مختصر مدت کے معاہدے مکمل کیے تھے۔ انہوں نے غیر ادا شدہ تنخواہوں، ناکافی خوراک، جبری مشقت اور دیگر غیر معینہ بدسلوکیوں کی شکایت کی تھی۔

ویگنر کے بھاڑے کے فوجیوں کے ہاتھوں قتل اور جنگی جرائم کی کہانیاں بھی شام میں بکثرت ہیں، جہاں یہ گروپ ستمبر 2015 میں شامی صدر بشار الاسد کی فوج کی طرف سے ماسکو کی مداخلت کے بعد تنازعے میں کودا تھا۔

'انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں'

اس سال کے شروع میں، اقوام متحدہ (یو این) کے ماہرین کے ایک گروپ نے بھاڑے کے روسی فوجیوں پر سی اے آر میں "انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں" کا الزام عائد کیا تھا۔

31 مارچ کو گروپ نے 27 دسمبر کو سی اے آر میں بھاڑے کے روسی فوجیوں کے "صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے پُرتشدد حملوں کے سلسلے سے تعلق" پر خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔

انہوں نے تین گروہوں کا حوالہ دیا تھا: سیوا سیکیورٹی سروسز، لوبائے انویسٹ سارلو اور ویگنر گروپ۔

بھاڑے کے فوجیوں پر کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے عملی گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ بھاڑے کے فوجی "ماورائے عدالت اجتماعی سزائے موت، من مانی حراست، دورانِ تفتیش تشدد، جبری گمشدگیوں، شہری آبادی کو جبری بے گھر کرنے، شہری تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانے، صحت کے حق کی خلاف ورزیوں اور انسان دوست عناصر پر بڑھتے ہوئے حملوں" میں ملوث تھے۔

فعالیت پسندوں نے ویگنر پر شام میں "جنگی جرائم" کے ارتکاب کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 2018 میں شام کے صوبے دیر ایزور میں امریکی فوجیوں اور ان کی پراکسیز کے زیر نگرانی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران درجنوں ویگنر ٹھیکیدار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

اسی سال جولائی میں، تحقیقاتی خبر رساں ادارے کے لیے سی اے آر میں ویگنر کی کارروائیوں پر تحقیق کرنے والے تین صحافی ایک گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

متعدد مقامی روسی خبر رساں سائٹوں نے روس میں مشتبہ جنگجوؤں کی آخری رسومات سے یہ کہتے ہوئے خبریں دیں کہ خاندانوں کو خاموش رہنے کے بدلے بڑی بڑی ادائیگیاں کی گئیں۔

ویگنر گروپ، جو کہ تمام نجی جنگجو کمپنیوں کی طرح روس میں غیر قانونی ہے، سمجھا جاتا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کرتا ہے، جو روس میں اوسط تنخواہ سے پانچ یا چھ گنا زیادہ تنخواہوں کے ساتھ ممکنہ فوجیوں کو ترغیب دیتا ہے۔

ماسکو کا 'بدترین خفیہ راز'

پریگوزن نے خود کو قانونی خطرے میں پایا ہے کیونکہ تفتیش کار انتخابات میں چھیڑ چھاڑ کرنے اور دنیا بھر میں کریملن کی حامی بھاڑے کے فوجوں کو سرمایہ فراہم کرنے میں اس کا کردار تلاش کر رہے ہیں۔

سنہ 2018 اور 2020 میں، واشنگٹن نے پریگوزن پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی انٹرنیٹ تحقیقی ایجنسی (آئی آر اے)، جو سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک "ٹرول فیکٹری" ہے، سنہ 2016 اور 2020 میں امریکی انتخابی مداخلت کی پشت پناہ تھی۔

آئی آر اے پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے دوسرے ممالک کے انتخابات اور ریفرنڈموں کے دوران خلل انگیز پروپیگنڈہ پھیلایا تھا۔

بیلاروس نے گزشتہ سال 33 ویگنر "عسکریت پسندوں" کو حراست میں لیا تھا، ان پر انتخابات سے قبل حزب اختلاف کے ساتھ مل کر فسادات کروانے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔

ان افراد نے دعویٰ کیا کہ وہ بیلاروسی دارالحکومت منسک کے راستے وینزویلا، لیبیا، کیوبا، ترکی اور شام کے مقامات پر جا رہے تھے، یہ ماسکو کے لیے ایک شرمناک اعتراف تھا، جس نے بڑی ہوشیاری سے ان کی رہائی کو یقینی بنایا تھا۔

گزشتہ اکتوبر میں یورپی یونین نے ویگنر گروپ کی حمایت کر کے لیبیا کو غیر مستحکم کرنے پر پریگوزن کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں۔

فروری میں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے پریگوزن کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 250,000 ڈالر انعام کی پیشکش کی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ "امریکہ کو دھوکہ دینے کی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے لیے" مطلوب ہے۔

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس تھنک ٹینک نے ویگنر کو "ماسکو کے بدترین رازوں میں سے ایک" قرار دیا ہے۔

اس نے کہا کہ اس گروپ کے دو بنیادی اہداف ہیں: "جنگی علاقوں میں جنگجوؤں کو تعینات کرتے وقت کریملن کو تردید کرنے کی معقول صلاحیت فراہم کرنا" اور "قبول کرنے والے ممالک میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے پہلے سے تیار شدہ صلاحیت" بننا۔

پریگوزن ویگنر کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات سے منکر ہے، اور ماسکو نے کبھی بھی ویگنر بھاڑے کے فوجیوں کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔

کیا آپ اس امر سے متعلق خدشات رکھتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو گا؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500