سلامتی

امریکہ نے داعش-کے کے رہنماؤں کو عالمی دہشتگرد نامزد کر دیا

پاکستان فارورڈ

image

2 نومبر کو ایک افغان شخص سڑک کے ساتھ بائیسکل چلا رہا ہے، جبکہ پس منظر میں کابل میں ایک عسکری ہسپتال پر داعش- کے کے حملے سے دھواں اٹھ رہا ہے، جس میں کم از کم 19 افراد جاںبحق اور 50 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ [اے ایف پی]

امریکہ کے محکمہٴ خارجہ نے پیر (22 نومبر) کو "دولتِ اسلامیہ" کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے تین رہنماؤں کو عالمی دہشتگرد نامزد کر دیا۔

محکمہٴ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگردی کے لیے ایک پلیٹ فارم بننے سے بچانے کی ایک کاوش کا جزُ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ثناءاللہ غفّاری جو شہاب المہاجر کے نام سے بھی معروف ہے، داعش-کے کا بطورِ کل امیر ہے، جسے داعش نے جون 2020 میں اس شاخ کی قیادت کے لیے تعینات کیا۔

غفاری افغانستان میں داعش-کے کے تمام آپریشنز کی منظوری دینے اور ان کے لیے مالیات کا انتظام کرنے پر مامور ہے۔

image

9 اکتوبر کو کندوز میں سیدآباد شعیہ مسجد میں داعش-کے کے خودکش بم حملے کے ایک روز بعد لوگ نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔[ہوشنگ ہاشمی/اے ایف پی]

محکمہٴ خارجہ نے اس کے ساتھ ساتھ سلطان عزیز اعظم، جو سلطان عزیز کے نام سے بھی معروف ہے، کو بھی نامزد کیا جس نے داعش-کے کے پہلی مرتبہ افغانستان آنے سے اب تک داعش-کے کے ترجمان کا عہدہ سنبھال رکھا ہے۔

اس نے صوبہ کابل میں داعش-کے کے ایک اعلیٰ رہنما، مولوی رجب، المعروف مولوی رجب صلاح الدین پر پابندی عائد کی، جو کہ صدرمقام میں اس گروہ کے حملوں اور آپریشنز کی منصوبہ سازی کرتا ہے ۔

مزید برآں امریکی محکمہٴ خزانہ داعش-کے کو مالی معاونت فراہم کرنے پر عصمت اللہ خالوزئی کو نامزد کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق، داعش-کے کے بین الاقوامی تسہیل کار خالوزئی نے داعش کی اعلیٰ قیادت کے لیے مشن کیے ہیں۔

وہ ترکی اساسی حوالہ کاروبار چلانے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اساسی سکیم چلاتا تھا جس میں دوبارہ بیچے جانے کے لیے سامانِ تعیش بین الاقوامی منازل کو ارسال کیا جاتا تھا، ان دونوں کا مقصد داعش- کے کے آپریشنز کو مالیات فراہم کرنا تھا۔

جداگانہ طور پر خالوزئی نے داعش-کے کے لیے انسانی اسمگلنگ کی کاروائیاں بھی کی ہیں، جن میں سے ایک میں اس نے ذاتی طور پر داعش-کے کا سامان افغانستان سے ترکی اسمگل کیا۔

یہ پابندیاں امریکی اشخاص کی ان نامزدگان کے ساتھ کسی بھی کاروباری معاملہ میں ملوث ہونے سے ممانعت کرتی ہیں اور انہیں اور ان کے رفقاء کو امریکی مالیاتی نظام میں داخل ہونے والے پیسہ یا اثاثہ جات تک رسائی سے روکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا، "ہم دنیا بھر میں شہریوں کو بلا امتیاز قتل کرنے والے دہشتگردوں اور انہیں استعداد فراہم کرنے والوں، ان کی تسہیل کاری کرنے والوں اور انہیں مالیات فراہم کرنے والوں کو ہدف بنانے کے لیے امریکی طاقت کے ہر آلہ کا استعمال جاری رکھیں۔"

وائس آف امریکہ نے خبر دی کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب داعش-کے کے پاس کم از کم 2,000 "جارح" جنگجو ہیں، جن میں سے اکثر ملک بھر میں سیلز کی صورت میں منظم ہیں۔

داعش-کے کا تشدد

پابندیوں کا تازہ ترین دور اس وقت سامنے آیا جب داعش-کے نے 15 اگست کو افغان حکومت کے سقوط کے بعد سے حملوں کے ایک سلسلہ کی ذمہ داری قبول کی۔

اگست کے بعد سے کابل میں متعدد بم حملوں میں زیادہ تر شعیہ ہزارہ برادری کے ارکان کو ہدف بنایا گیا، جو کہ ان برسوں میں داعش-کے کا ہدف رہے ہیں۔

داعش جنگجوؤں نے 2 نومبر کو صدرمقام میں نیشنل ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا، جس میں—شدت پسند حقانی نیٹ ورک کے اعلیٰ سطحی ارکان سمیت— کم از کم 19 افراد جاںبحق اور 50 دیگر زخمی ہو گئے۔

مقامی افراد کے مطابق، قبل ازاں 8 اکتوبر کو ایک داعش-کے خودکش حملہ آور نے کندوز میں ایک مسجد کو ہدف بنایا، جس میں تقریباً 100 شعیہ مسلمان جاںبحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

اس گروہ کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور ایغوروں سے تھا "اور یہ حملہ" [سنکیانگ میں] چین کی مسلمان مخالف پالیسیوں اور چین کے مطالبات کے جواب میں تھا۔

اس کے تقریباً ایک ہفتہ بعد، متعدد دھماکوں سے قندھار شہر میں شعیہ فاطمیہ مسجد لرز اٹھی، جس سے کم از کم 33 افراد جاںبحق اور 74 دیگر زخمی ہو گئے۔

داعش-کے نے 26 اگست کو کابل ہوائی اڈے پر دو مہلک خودکش بم حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

ان دھماکوں سے 100 سے زائد افغان شہری اور 13 امریکی سروس ارکان جاںبحق ہوئے، جو انخلاء کے منتظر افغانوں کے لیے کاغذی کاروائی کر رہے تھے اور دستاویزات کی حفاظت پر مامور تھے۔

کیا ایرانی رسوخ پاکستان کے لیے اچھا ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500