معیشت

افغان نوادرات کے ڈیلر نے افغانستان کے ماضی، مستقبل کی امید پر روشنی ڈالی

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ایکسپو 2020 دبئی میں افغان پویلین پر آنے والا ایک شخص، 6 اکتوبر کو تصویر کھینچ رہا ہے۔ [کریم صاحب/ اے ایف پی]

دبئی -- افغان نوادرات کے ڈیلر محمد عمر رحیمی نے، اس امید میں کہ وہ اپنے جنگ زدہ وطن کو ایک مختلف روشنی میں پیش کریں گے، ایکسپو 2020 دبئی میں نمائش کے لیے اپنا سب سے قیمتی سامان اٹھا کر لائے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں وسیع و عریض عالمی میلے کی جگہ پر، ایک فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ کے قریب، افغان پویلین کے مقام کی نشاندہی کرنے کے لیے کوئی نشان نہیں، رحیمی نے 300 اشیاء کی نمائش کی ہے -- جن میں خنجر اور قالین سے لے کر زعفران اور گہرے نیلے رنگ کے لاجورد پتھر شامل ہیں۔

رحیمی جو کہ 40 سے زیادہ کے عرصے سے ویانا میں رہ رہے ہیں، نے ایکسپو سے خود ہی رابطہ کرنے کا فرض سنبھالا اور پویلین کا انتظام کیا، جس کے بارے میں یہ خدشہ موجود تھا کہ وہ کھل ہی نہیں سکے گا۔

63 سالہ رحیمی نے اگست میں اسلامی جمہوریہ افغانستان (جی آئی آر او اے ) کی حکومت کے زوال کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ"جب افغان حکومت گر گئی، ایکسپو کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ اسے افغانستان کے لوگوں کے لیے ایک عوامی پویلین میں تبدیل کر دیا جائے"۔

image

نوادرات کے افغان ڈیلر محمد عمر رحیمی نے اپنی 300 سے زیادہ انتہائی قیمتی اشیاء کو ایکسپو 2020 دبئی میں نمائش کے لیے رکھا ہے -- جن میں خنجروں سے لے کر قالین، لاجورد اور زعفران شامل ہیں۔ [کریم صاحب/ اے ایف پی]

image

ایکسپو 2020 دبئی کے دوران، 6 اکتوبر کو افغان پویلین کی کھینچی جانے والی تصویر۔ [کریم صاحب /اے ایف پی]

افغان کہانی کو سانجھا کرنا

ایکسپو 2020 کے ایک ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کی روشنی میں میلے نے "پویلین چلانے اور افغانستان کے لوگوں کی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے افغان تاجر برادری کے اقدام کا خیرمقدم کیا"۔

ایکسپو کی ویب سائٹ پر افغان پویلین کو " قدیم ثقافتوں اور جدید کامیابیوں کے دوران کا سفر" کے طور پر بیان کیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ "یہ جانیں کہ کس طرح افغانستان میں ابھرتی ہوئی نئی صنعتوں نے روزگار پیدا کرنے، تعلیم تک رسائی اور دیگر سماجی مراعات کے ذریعے افغانوں کے معیار زندگی کو مثبت طور پر متاثر کیا ہے"۔

اکتوبر میں شروع ہونے والے میلے میں جنگ اور تباہی کے مناظر سے بہت دور، روایتی لباس، ہاتھ سے بنے ہوئے قالین اور بربط نما رباب پویلین کو سجاتے ہیں۔ یہ نمائش 13 مارچ کو ختم ہو گی۔

رحیمی نے کہا کہ "یہ نمائش افغانستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایسے بہت سے افغان ہیں جو یہاں رہتے ہیں"۔

اپنے دو بیٹوں اور اپنے بھائی، جو سب آسٹریا میں رہتے ہیں، کی مدد سے، رحیمی نے اپنے خرچے پر اپنے ذاتی ذخیرے سے ان چیزوں کو ٹرانسپورٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ میرے خون کا حصہ ہے۔ یہ میرا پیشہ ہے۔ ہم نے دن رات کام کیا، دن میں 20 گھنٹوں تک۔۔۔ اور اسے 72 گھنٹوں میں مکمل کر لیا"۔

افغان پویلین دبئی کی جانب سے یکم اکتوبر کو چھ ماہ کی ایکسپو کے افتتاح کے تقریباً ایک ہفتے بعد کھولا گیا، جس میں کورونا وائرس کی عالم وباء کی وجہ سے تقریباً ایک سال کی تاخیر ہوئی تھی۔

دبئی میں افغان قونصل خانے کے مطابق، امارات میں اس کے تقریباً 150,000 شہری رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے بہت سے کامیاب کاروبار چلاتے ہیں، جبکہ دیگر دکانوں، ریستوران اور تعمیرات میں کام کرتے ہیں۔

'ہم امن چاہتے ہیں'

انہوں نے کہا کہ ایکسپو میں رحیمی کی شرکت کا مقصد لوگوں کو ان کے آبائی ملک سے متعارف کرانا اور یہ بتانا تھا کہ وہ کیا کچھ پیش کر سکتا ہے۔

رحیمی نے کہا، "یہ اس لیے ہے کہ لوگ افغانستان کا نام نہ بھول جائیں اور لوگ ہماری ثقافت اور زرخیز زمین کو دیکھتے رہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں... اور ہمیں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔"

فواز الشمری، جو قریب ہی موجود سعودی پویلین کا دورہ کرنے کے بعد اتفاق سے ہی افغان پویلین میں آ گئے تھے، نے کہا کہ افغان ثقافت کے بارے میں مزید جاننا روشن خیالی کا باعث بنا۔

سعودی شہری نے کہا کہ "یہ اس بات کو جاننے کا موقع تھا کہ وہ کیا پیش کرتے ہیں"۔

کیا آپ پاکستان کے مستقبل سے متعلق پرامید ہیں؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500