حقوقِ انسانی

حکومت کی جانب سے بھڑکائے گئے جنسی امتیاز سے ایرانی خواتین کے چند باقی ماندہ حقوق بھی سلب

پاکستان فارورڈ

image

13 مئی کو تہران میں عیدالفطر کے پہلے روز ایرانی خواتین نمازِ فجر ادا کر رہی ہیں۔ [عطا کینارے / اے ایف پی]

وسطی تہران میں ایک نمایاں بل بورڈ تصویر سے خواتین کو ہٹا دینا خواتین سے متعلق ایرانی حکومت کے جنسی امتیاز پر مبنی نظریہ کی تازہ ترین یاد دہانی ہے۔

ایران کے طویل ترین خیابان، خیابانِ ولی عصر کے ساتھ استادہ، صدرمقام کے سب سے بڑے بل بورڈز میں سے ایک پر اکتوبر کے وسط سے ایرانی ساختہ آلات کا ایک اشتہار ہے۔

اس تصویر میں دس آدمی بظاہر خوشی سے متعدد برقی آلات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ اشتہار دونوں ملکوں کے مابین تیل کی ایک ادائگی کے تنازع کی وجہ سے جنوبی کوریائی آلات پر پابندی کے بعد آیا۔ ایرانی رہنما علی خامنہ ای نے یہ پابندی عائد کی۔

متعدد ایرانیوں نے خواتین کو ہٹائے جانے پر تنقید کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی تعداد مردوں سے کم ہے، تاہم وہ بھی ایران میں مصنوع سازی کے عمل کا جزُ ہیں اور کارخانوں میں کام کرتی ہیں۔

image

خیابانِ ولی عصر کے ساتھ ایک بل بورڈ پوسٹر، جس میں کوئی خاتون نہیں دکھائی گئی، ان ایرانیوں کے لیے غصہ کا باعث بنا جو اپنے قائدین پر خواتین سے نفرت کا الزام لگاتے ہیں۔ [آفتاب نیوز]

image

2018 میں وسطی تہران کے خیابانِ ولی عصر میں ایک بل بورڈ پر آویزاں ایک پوسٹر میں خواتین کا ایک خال ہی دیکھی جانے والی تصویر دکھائی گئی ہے – لیکن یہ ایک گھریلو کردار میں ہے۔ [آئی ایس این اے۔ آئی آر]

image

2018 میں تہران میں خیابانِ ولی عصر کے ساتھ ایک بل بورڈ پر ایک پوسٹر دیکھا جا سکتا ہے جس میں ’اجتماعیت‘ دکھائی گئی ہے – لیکن اس میں خواتین کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ [روشنگری]

image

ایران کے مرکز برائے شماریات کے 2015 کے اعداد کے مطابق، صرف 12 فیصد ایرانی خواتین کا گھر سے باہر کوئی کردار ہے۔ [فائل]

تہران کے بل بورڈز کی اکثریت او ڈبلیو جے ثقافتی اور میڈیا تنظیم کے سپرد ہیں، جو کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) سے منسلک ہے ۔

یہ پہلی تشہیر نہیں کہ او ڈبلیو جے نے دلیرانہ طور پر خواتین کو اپنی تصاویر سے ہٹایا۔

2018 میں جب یہی بل بورڈ اس برس عالمی کپ میں جانے والے ایرانی فٹ بال کھلاڑیوں کی تشہیر کی ایک مہم کا جزُ تھا، تب بھی خواتین اس سے نمایاں طور پر غائب تھیں۔

اس مہم میں کہا گیا، "ہم اکٹھے ہیرو ہیں"، اور اس میں تمام ایرانی نسلوں سے متعدد عام، پرعزم مرد دکھائے گئے – اور کوئی عورت نہیں تھی۔

بعد ازاں عوام اور چند مقامی میڈیا آؤٹ لٹس کی جانب سے تنقید نے او ڈبلیو جے کے ڈائریکٹرز کو اس تصویر میں خواتین کا اضافہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

جب خواتین عوامی تصاویر میں دکھائی جاتی ہیں، او ڈبلیو جے انہیں صرف گھریلو مخلوق کے طور—مائیں گھر میں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے— پر بیان کرتا ہے، اس نے 2018 میں اسی بل بورڈ پر ایسا ہی کیا۔

جنسی امتیازی نظریات

عورتوں سے اس قسم کی نفرت ایران کے اعلیٰ عہدیداران میں عام ہے، جو فوری طور پر ایران کی آبادی میں اضافے کی سست رفتار کا الزام خواتین پر لگا دیتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ان کی موجودگی ہی کو ختم کر دیا۔

اکتوبر کے وسط میں آئی آر این اے نے ایران کی وزارتِ کھیل و نوجوانان کے ایک عہدیدار محمّد مہدی توندگویان کے حوالے سے کہا کہ وہ شادی کے لیے تعداد خواتین کی کم تعداد کی شکایت کرتے ہیں۔

تونگویان نے کہا، شادی کرانے کے لیے تیار 122 مردوں کے لیے "صرف" 100 خواتین ایسی صورتِ حال میں ہوتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعداد "آبادی میں کمی کے ایک ڈھلوانی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔"

نومبر کے اوائل میں حکومتِ ایران نے اعلان کیا کہ 2020 میں نوزائدگان کی تعداد میں 0.5 فیصد کمی آئی، جو کہ ایک "تشویشناک حقیقت" ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے خواتین محض – آبادی میں اضافے کی تسہیل کار ہیں۔

1979 میں انقلابِ ایران کے بعد سے حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی پابندیوں کے نتیجہ میں معاشرے میں خواتین کی بطورِ کل شرکت کم ہوئی ہے۔

ایران کے مرکزِ شماریات کی جانب سے 2015 میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد کے مطابق، صرف 12 فیصد خواتین کا گھر سے باہر کوئی کردار ہے۔

ایران میں خال ہی خواتین کوئی باقاعدہ حکومتی عہدہ سنبھالتی ہیں۔ شوریٰ ٴنگہبان، مجمعٴ تشخیصِ مصلحتِ نظام اور مجلسِ خبرگانِ رہبری کے تمام ارکان مرد ہیں، اور کسی خاتون صدارتی امّیدوار کو کبھی عہدے کے لیے منظوری نہیں دی گئی – باوجودیکہ ایرانی سیاسیت میں خواتین کی شرکت کے خلاف کوئی قائدہ نہیں۔

شرکت کی کمی حکومت کی جانب سے خواتین کے گھروں میں رہنے کی حوصلہ افزائی کی مؤثر کاوشوں کی وجہ سے ہے، بطورِ خاص صدر محمود احمدی نژاد کے دو سابقہ ادوار میں (2005-2013)۔

مثال کے طور پر 2006 میں خواتین کی سرکاری ملازمت سے سبکدوشی کی اہلیت کے لیے درکار برسوں کی تعداد میں کمی کی حکومتی افرادی قوت سے نکل جانے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کی ایک کاوش جے جزُ کے طور پر تشریح کی گئی۔

مردوں کو سبکدوشی کے لیے اہل ہونے سے قبل 30 برس ت کام کرنا ہوتا ہے، جبکہ خواتین، جو مردو جیسی ہی صورتِ حال میں ہوتی تھیں، کو احمدی نژاد کے دور میں، سبکدوشی کے لیے اہل ہونے سے قبل صرف 25 برس خدمات سرانجام دینے کی ضرورت ہوتی تھی۔

جبکہ حکومت ان فیصلوں کی تشہیر مثبت منفعت اور خواتین کے لیے خصوصی فوائد کے طور پر کرتی ہے، متعدد کی نظر میں یہ ایسے ہیں کہ خواتین کو گھروں تک محدود اور معاشرے میں فعال شرکت سے دور رکھنے کے مقصد سے کیے گئے ہوں۔

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے صدر ابراہیم رئیس کی انتظامیہ کے ایک اور حالیہ فیصلے سے متعلق خدشات کا اظہار کیا، جس میں خواتین کو ناگزیر کارکنان نہ ہونے کی صورت میں کرونا وائرس وبا کے بعد بھی دور سے کام جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایک ٹویٹر صارف نے لکھا، "ہو سکتا ہے یہ عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہی نہ دیں۔"

ایک دیگر نے کہا، "تو ان کا مقصد واقعی عورتوں کو یہ کہنا ہے کہ گھروں ہی پر بیٹھی رہیں۔"

خواتین کے حقوق

مارچ میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر خصوصی ایلچی جاوید رحمٰن کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران میں خواتین کے حقوق کی صورتِ حال مسلسل ابتر ہے۔

رحمٰن کی رپورٹ کا مرکزی ارتکاز خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق کی صورتِ حال تھی، جنہیں وہ بڑے پیمانے پر ہولناک اور ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "اگر کواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی بات کی جائے تو آج ایران میں سب سے زیادہ قابلِ تشویش مسائل میں سے ایک بچپن کی شادیاں ہیں۔"

"حکومت اور ملک میں دیگر قائدین کو اب شادی کی عمر میں اضافہ کر دینا چاہیئے اور ملک میں اس عمل کو کم کرنے کے لیے مزید پالیسیاں اور منصوبے متعارف کرانے چاہیئں۔"

رحمان کی رپورٹ نے گھریلو تشدد سے متعلق بھی شدید خدشات کو بھی نمایاں کیا۔ چند مثبت اقدامات، جیسا کہ تیزاب کے حملوں کے خلاف قانون، کو نوٹ کیا گیا ہے، تاہم، رحمٰن نے حکومتِ ایران پر مزید کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

انہوں نے کہا، "خواتین اور بچوں کو جامعیت کے ساتھ تحفظ فراہم کرنے کے لیے تشدد کے خلاف موجودہ حفاظتی اقدامات کافی نہیں۔"

رحمٰن نے بیان کیا، "اگرچہ چند مثبت اقدامات – جیسا کہ تعلیم اور شہری حقوق میں – کا اعتراف کیا جاتا ہے، تاہم قانون، معمول اور معاشرتی رویّوں میں انتہائی درجے کا جنسی امتیاز موجود ہے جو خواتین اور لڑکیوں کو معاشرے میں شرکت کرنے اور کردار ادا کرنے سے روک رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500