سلامتی

طالبان کے راہنمائے اعلی کا دراندازوں کے بارے میں انتباہ گہری تقسیم کو بے نقاب کرتا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

16 اگست کو لی گئی اس تصویر میں، طالبان جنگجو کابل میں زنبق اسکوائر کے قریب ایک گلی میں پہرے پر کھڑے ہیں۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

کابل -- طالبان کے راہنمائے اعلی کا جمعرات (4 نومبر) کا ایک بیان، جس میں تحریک میں غداروں اور دراندازی کرنے والوں کے خطرے کے خلاف انتباہ کیا گیا ہے، اس تقسیم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے جس نے عسکریت پسندوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

خطرے کی سنگینی کی عکاسی کرتے ہوئے، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نایاب تحریری عوامی بیان جاری کیا جس میں طالبان کمانڈروں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی صفوں کو صاف کریں۔

اس میں انہوں نے کہا کہ "اپنے گروپوں کے تمام بزرگوں کو اپنی صفوں کے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کہیں کوئی نامعلوم ادارہ تو حکومت کی مرضی کے خلاف کام نہیں کر رہا ہے، جسے جلد از جلد ختم کیا جانا ضروری ہے"۔

انہوں نے متعدد طالبان اکاؤنٹس کے ذریعے ٹویٹ کیے گئے ایک بیان میں متنبہ کیا کہ "جو بھی غلط ہوتا ہے، بزرگ اس دنیا اور آخرت میں ان اعمال کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے"۔

طالبان کے کمانڈروں کا اصرار ہے کہ وہ استحکام اور سلامتی کو دوبارہ قائم کر سکتے ہیں، لیکن طالبان عناصر پر ہلاکتوں کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے، خود کو طالبان کے طور پر پیش کرنے والے بندوق برداروں نے ایک شادی میں، تین مہمانوں کو موسیقی بجانے کے تنازعہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جس کی تحریک نے مذمت کی تھی۔

طالبان کے ایک ترجمان نے اصرار کیا کہ قاتل احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے اور انہوں نے انہیں سزا دلانے کا وعدہ کیا۔

اپنے بیان میں، ہیبت اللہ نے کہا کہ طالبان کے یونٹ کمانڈروں کو اپنے رنگروٹوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے اور "ان کے آداب اور رویے پر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہ مجاہدین اپنے راہنماؤں کے لیے بہتر کام کر سکیں"۔

چین کے خلاف 'جہاد'

ہیبت اللہ کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان بہت سے معاملات پر منقسم ہیں جن میں گروہ کے چین کے ساتھ تعلقات بھی شامل ہیں۔

جہاں طالبان کے راہنماء بیجنگ کے ساتھ اس امید پر قریب ہو رہے ہیں کہ انہیں نقد رقم اور بین الاقوامی طور پر قانونی درجہ مل جائے گا، وہاں گروہ کے ارکان، وسیع پیمانے پر اعتماد کی جانے والی قرآن ایپ کو چین کی طرف سے بند کرنے اور سنکیانگ میں مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کے خلاف، افغانستان کی سڑکوں پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

مسلمان اکثریت کے علاقے سنکیانگ میں، چین کے حکام نے ایک ملین سے زیادہ ایغور اور دیگر مسلمانوں کو -- جن میں کرغیز اور قازق النسل بھی شامل ہیں -- کو 400 کے قریب قید خانوں میں قید کر رکھا ہے جن میں "سیاسی تعلیم کے کیمپ" اور مقدمات سے قبل کے حراستی مراکز اور جیلیں شامل ہیں۔

سابق قیدیوں کے بارے میں کی جانے والی آزادانہ تحقیقات اور ان کے انٹرویوز سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد، برین واشنگ، منظم عصمت دری، مسلم خواتین کی جبری نس بندی، اعضا کو جبری طور پر نکالنے، جنسی زیادتی اور دیگر ہولناکیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کے گروہوں، مغربی حکومتوں اور بہت سے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ چین کے مظالم نسل کشی کے برابر ہیں۔

بیجنگ نے گزشتہ ماہ ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ وہ چین میں اپنے ایپ اسٹور سے قرآن مجید ایپ کو ہٹا دے اور اسے لاکھوں صارفین کے لیے بند کر دیا تھا۔

اگرچہ طالبان کی قیادت چین کے مظالم کو نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن عام ارکان اس کے بارے میں مختلف احساسات رکھتے ہیں۔

ہرات شہر میں طالبان کے ایک رکن حمزہ مہاجر نے کہا کہ "چین مسلمانوں کی اخلاقیات اور مقدسات کی کھلم کھلا توہین کر رہا ہے، اور [حکومت] اپنی مسلم آبادی پر ظلم کر رہی ہے۔"

"چین کی حکومت کے خلاف جہاد کا وقت آ گیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "[چین] میں مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے مظالم اور تشدد کو روکنے کا بہترین ہتھیار جہاد کرنا ہے۔"

قائدین کی غیر حاضری نے بے اطمینانی کو جنم دیا

طالبان کے جنگجو بھی اسی طرح ہیبت اللہ اور دیگر رہنماؤں کی رہبانیت سے مایوس ہیں جنہوں نے پردے میں رہنا جاری رکھا ہوا ہے اور عوام کے سامنے آنے سے انکار کر دیا ہے۔

ہیبت اللہ نے 30 اکتوبر کو قندھار میں ایک مدرسے سے خطاب کیا مگر طالبان نے اس تقریب کی صرف سمعی ریکارڈنگ ہی جاری کی۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد، عام افغان اور یہاں تک کہ طالبان جنگجو بھی طالبان کے "وفاداروں کے کمانڈر" کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

طالبان کی قیادت کا عوام کے سامنے آنے یا اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے انکار، گروپ کی صفوں میں بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا باعث بنا ہے۔

کابل میں مقیم ایک طالبان جنگجو گلاب منصوری نے اکتوبر میں، ہیبت اللہ کے قندھار کے دورے سے کچھ دن پہلے کہا کہ" انشاء اللہ ہیبت اللہ زندہ ہے، لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ اب تک عوام کے سامنے کیوں نہیں آیا۔"

کابل میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار احمد بہروز نے کہا کہ طالبان نے ہمیشہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ بے ایمانی کی ہے۔

انہوں نے طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی مثال دی، جن کے ٹھکانے کے بارے میں، برسوں تک عام افغانوں کے ساتھ ساتھ، طالبان کے ارکان کو بھی علم نہیں تھا۔

2013 میں جب ملا عمر کا انتقال ہوا تو طالبان نے ان کی موت کی تصدیق کے لیے دو سال انتظار کیا۔

انہوں نے کہا، "اگر ہیبت اللہ زندہ ہے، تو اسے عوام کے سامنے آنا چاہیے اور عوام سے بات کرنی چاہیے اور اپنے گروپ کی طرف سے جنگ چھیڑنے اور معصوم شہریوں کے قتل عام کی وجہ بتانی چاہیے۔"

سیکورٹی کی بگڑتی صورتِ حال

دریں اثنا، طالبان افغانستان میں سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں، جسے دہشت گردانہ حملوں اور بڑھتے ہوئے جرائم کا سامنا ہے۔

اگست میں طالبان کے قبضے کو گروپ نے ملک کی سلامتی کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیا تھا۔

لیکن 20 سال کی گوریلا جنگ کے بعد، طالبان سابق دشمنوں، اتحادی اسلام پسند عسکریت پسندوں اور مدرسے کے نوجوان طلباء کو بھرتی کرکے، اپنی صفوں کو تیزی سے آگے بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اب جب کہ وہ اقتدار میں آ گئے ہیں، اب تحریک کی باری ہے کہ وہ قدامت پسند دھڑوں جیسے کہ دولتِ اسلامیہ کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے حملوں کا سامنا کرے۔

یہ گروپ سخت حریف ہیں، لیکن دونوں نے سابق حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خودکش بم دھماکوں اور عام شہریوں کے قتل عام جیسے حربے استعمال کیے ہیں۔

یہ مشکلات منگل کو اس وقت کھل کر سامنے آئیں، جب کابل کے وسط میں واقع ایک فوجی ہسپتال پر، داعش کے حملے میں ایک سینئر طالبان کمانڈر مارا گیا۔

سخت گیر حقانی نیٹ ورک کا رکن اور بدری کور اسپیشل فورسز کا افسر، حمد اللہ مخلص، طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے ہلاک کی جانے والی سب سے سینئر شخصیت ہیں۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500