معیشت

امریکی ڈالروں کی افغانستان اسمگلنگ کے خلاف پاکستانی حکام کی سخت کارروائی

از زرک خان

image

16 مئی 2019 کو لاہور میں ایک پاکستانی شخص کرنسی ایکسچینج میں امریکی ڈالر گنتے ہوئے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

اسلام آباد -- پاکستانی حکام امریکی ڈالر افغانستان کو اسمگل کرنے والے منی ایکسچینج ڈیلروں اور دیگر افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کروا رہے ہیں۔

اگست کے وسط میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے افغانستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، افغانی روپے کی قدر میں کمی آئی ہے اور افغانوں کے اربوں ڈالر کے ذخائر بیرون ملک منجمد ہو چکے ہیں کیونکہ بین الاقوامی برادری نے اب تک نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

پیسے کے منجمد ہونے کے بعد، دا افغانستان بینک (ڈی اے بی) نے اگست میں ایک صارف کے لیے 200 ڈالر فی ہفتہ رقم نکالنے کی عارضی حد مقرر کی تھی۔ اس نے تاجروں اور پرائیویٹ کمپنی مالکان کو بھی 25,000 ڈالر ماہانہ رقم نکالنے تک محدود کر دیا تھا۔

دریں اثنا، ملک کے اندر بہت سے لین دین امریکی ڈالر میں کیے جاتے ہیں، اور جنوبی سرحدی تجارتی راستوں کے قریب والے علاقوں میں پاکستانی روپے استعمال کیے جاتے ہیں۔

image

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اعلیٰ حکام اکتوبر میں اسلام آباد میں ایک میٹنگ میں شریک ہیں جس میں امریکی ڈالر افغانستان اسمگل کرنے والے منی ایکسچینج ڈیلروں اور دیگر افراد کے خلاف کریک ڈاؤن پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ [ایف آئی اے]

افغانوں کے بٹووں کو مزید نچوڑتے ہوئے، طالبان نے منگل (2 نومبر) کے روز غیر ملکی کرنسیوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک اخباری بیان میں کہا، "ملک کی اقتصادی صورتحال اور قومی مفادات کا تقاضہ ہے کہ تمام افغان ہر لین دین افغانی کرنسی استعمال کرتے ہوئے کریں۔"

وسیع تر اثر

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام کے مطابق، جیسے ہی افغانستان میں امریکی ڈالر کی رسد کم ہونا شروع ہوئی، پاکستان میں کچھ ایکسچینج کمپنیوں اور افراد نے سرحد پار سے ڈالر اسمگل کرنا شروع کر دیئے۔

کراچی میں منی ایکسچینج ڈیلر ظہیر عباس نے کہا کہ اس صورتحال نے ڈالر کی شرحِ تبادلہ کو متاثر کیا ہے اور پاکستانی روپے کی قدر کو کم کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "افغانستان میں امریکی ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، اور سقوطِ کابل کے بعد سے بڑی تعداد میں امریکی ڈالر پاکستان سے وہاں اسمگل کیے جا رہے ہیں۔"

رائٹرز نے خبر دی ہے کہ، نیویارک میں قائم کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی، فِچ ریٹنگز نے 30 ستمبر کو افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی روپے کے لیے اپنی پیشین گوئیوں پر نظر ثانی کی تھی۔

اس میں کہا گیا، "کرنسی کے مزید کمزور ہونے کی ہماری توقع پاکستان کی تجارت کی بگڑتی ہوئی شرائط، سخت امریکی مالیاتی پالیسی بمعہ امریکی ڈالر کے پاکستان سے باہر اور افغانستان میں بہاؤ پر مبنی ہے۔"

27 اکتوبر کو پاکستانی روپیہ تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے مقابلے میں 175 روپے سے زیادہ گر گیا تھا اور اب تک کی کم ترین سطح 175.27 پر کھڑا تھا۔

قابو پانے کے سخت اقدامات

مندی کے رجحان کو روکنے میں مدد کے لیے، پاکستانی حکومت نے ایف آئی اے کو ڈالر کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

بزنس ریکارڈر نے 6 اکتوبر کو بتایا کہ کسٹمز حکام کے مطابق، روزانہ تقریباً 2 ملین ڈالر افغانستان اسمگل کیے جا رہے تھے۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 13 اکتوبر کو بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایف آئی اے نے "ان افراد کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے جنہوں نے حال ہی میں غیر ملکی زرِمبادلہ کی کمپنیوں سے 63 ملین امریکی ڈالر خریدے اور انہیں افغانستان بھیج دیا"۔

اہلکار نے کہا کہ ادارے نے پاکستان میں تقریباً 96 رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز، منی ایکسچینج ڈیلروں ، تعلیمی اداروں اور آن لائن مارکیٹوں کی نشاندہی کی اور ان کے نام ظاہر کیے جنہوں نے ذخیرہ اندوزی کے مقاصد کے لیے امریکی ڈالر تھوک میں خریدے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے شناخت کردہ مجرموں کو تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دریں اثناء، سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اب اوپن مارکیٹ سے 500 ڈالر یا اس سے زیادہ خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کا تقاضہ کر رہا ہے۔

اس سے قبل کوئی بھی شخص اپنے قومی شناختی کارڈ کی نقل فراہم کر کے ایکسچینج کمپنیوں سے ڈالر خرید سکتا تھا۔

ایس بی پی نے 7 اکتوبر کو ایک بیان میں کہا، "ایکسچینج کمپنیوں کو 500 ڈالر اور اس سے زیادہ کی تمام غیر ملکی کرنسی کی فروخت کے لین دین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کرنا درکار ہو گا۔"

سٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے مطابق، افغانستان کا سفر کرنے والے ہر فرد کو فی پھیرا زیادہ سے زیادہ 1,000 ڈالر لے جانے کی اجازت ہو گی، جس کی سالانہ حد 6,000 ڈالر ہے۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500