سلامتی

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی جانب سے طالبان کے 'غیر پیشہ ورانہ' رویئے کی وجہ سے کابل کی پروازوں کی معطلی

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

13 ستمبر کو کابل میں مسافر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز میں سوار ہوتے ہوئے، جو طالبان کے گزشتہ ماہ دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی تجارتی بین الاقوامی پرواز تھی۔ ایک ماہ بعد، پی آئی اے نے طالبان کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے کابل جانے والی پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

کراچی -- پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے جمعرات (14 اکتوبر) کے روز کہا ہے کہ اس نے طالبان حکام کے "غیر پیشہ ورانہ رویئے" کی وجہ سے کابل کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں.

اگست کے وسط میں پی آئی اے نے طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد ملک کے لیے خصوصی پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں، اور یہ نئی حکومت اور معاشی بحران سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے بہت سے افغانوں کے لیے زندگی کی نوید تھیں.

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے اے ایف پی کو بتایا، "اکثر ہماری پروازوں کو کابل ہوا بازی حکام کے غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "رُوٹ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک کہ "حالات سازگار نہ ہو جائیں"۔

'تضحیک آمیز' طالبان

فضائی کمپنی کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان حکام اکثر "توہین آمیز" سلوک کرتے تھے اور ایک موقع پر عملے کے ایک رکن کے ساتھ "جسمانی طور پر بدتمیزی" کی گئی۔

پی آئی اے کو کابل سے اسلام آباد کے لیے 40 منٹ کی یکطرفہ پرواز کے لیے 1200 ڈالر سے زائد وصول کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خصوصی پروازیں زیادہ تر این جی اوز اور فلاحی اداروں کی جانب سے استعمال کی جاتی رہی ہیں، جن میں سے کچھ نے خطرے سے دوچار افغانوں کو بھاگنے میں مدد دی ہے، مگر ٹکٹ کی خریداری میں عام مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن فضائی کمپنی کا کہنا تھا کہ فلائٹ آپریشن "مالی طور پر بہت منافع بخش نہیں" تھا اور یہ صرف "انسانی ہمدردی بنیادوں پر" پروازیں چلا رہی تھی۔

طالبان کے قبضے سے پہلے ہوائی جہاز کا کرایہ تقریباً 150 ڈالر تھا۔

اس سے قبل طالبان نے ٹکٹوں کی قیمت کم نہ کرنے کی صورت میں فضائی کمپنی کی نصف پروازیں بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

افغانستان کی اپنی کام ایئر ایک ٹکٹ کے بدلے 1،600 ڈالر تک وصول کرتی رہی ہے۔

کابل کے ہوائی اڈے پر موجود تنصیبات کو 120،000 سے زائد افراد کے انخلاء کے دوران بری طرح نقصان پہنچا تھا جو 30 اگست کو آخری امریکی فوجیوں کے انخلاء پر اختتام پذیر ہوا تھا۔

26 ستمبر کو، طالبان نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کریں، ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مرکزی ہوائی اڈے پر تمام تکنیکی مسائل حل ہو چکے ہیں۔

کابل کے ہوائی اڈے پر خدمات زیادہ تر قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی کی تکنیکی مدد سے بحال کی گئی تھیں۔

صرف چارٹر پروازیں

صرف چارٹر پروازیں چلتی رہی ہیں، تاہم پی آئی اے، ایران کی مہان ایئر اور کام ایئر نے محدود تعداد میں خصوصی پروازیں چلائی ہیں۔

ایرانی حکومت مہان ایئر، جو کہ جزوی طور پر سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی ملکیت ہے ، کو پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے تک اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی کفالت کرنے کے لیے اسلحہ، فوجی سازوسامان اور غیر ملکی جنگجوؤں کی ترسیل کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

فضائی کمپنی نے جنوری اور فروری 2020 میں کوویڈ-19 وبائی مرض کے عروج کے دوران تہران اور چین کے درمیان درجنوں پروازیں بھی جاری رکھی تھیں، جس نے اسے ایران میں کورونا وائرس کی بڑے پیمانے پر وباء اور اس کے نتیجے میں پورے خطے میں وائرس کے مہلک پھیلاؤ کا اہم ذریعہ بنا دیا تھا.

طالبان کی وزارت خارجہ کے حال میں نئے مقرر کردہ ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ طالبان پُرامید ہیں کہ کابل ہوائی اڈے پر جلد ہی باقاعدہ کمرشل خدمات دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا، "بہت سے افغان شہری باہر پھنس گئے تھے اور اپنے وطن واپس آنے سے قاصر تھے۔"

"مزید برآں، بہت سے افغان شہری جو بین الاقوامی طور پر ملازمت کرتے ہیں یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں اب انہیں اپنی منازل تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔"

افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افراد کو اجازت دینے کے وعدوں کے باوجود، طالبان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران فرار ہونے کے متلاشی بہت سے شہریوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

بین الاقوامی برادری کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کرنے سے پہلے طالبان کو اپنی بات پر قائم رکھنے کی آرزومند ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500