صحت

عالمی وباء نے ایرانی حکومت میں موجود درپردہ انتشار کو کیسے بے نقاب کیا

بہروز لاریگانی

image

ایرانی شہری، 16 اگست کو تہران کے اندرونِ شہر میں تہران بازار میں بند دکانوں کے سامنے سے گزر رہے ہیں جبکہ کووڈ کی عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پانچ روزہ پابندیوں کو دوبارہ سے نافذ کیا گیا تھا۔ [عطاء کنارے/ اے ایف پی]

ایرانی حکومت کا کرونا وائرس کے بحران کے خلاف ردعمل میں، غلطیوں، حساب کتاب کی غلطیوں، غلط معلومات اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی طرف سے مغربی ویکسینز پر مکمل پابندی بھی شامل ہے۔

جنوری میں خامنہ ای کی طرف سے عائد کردہ پابندی کو درست ثابت کرنے کے لیے، حکومت نے پروپیگنڈا نیوز ایجنسیوں بشمول سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی(آئی آر جی سی) سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے، جھوٹی معلومات کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا۔

اگرچہ ایران نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ یو ایس جرمن فائزر/بائیو ٹیک کووڈ- 19 ویکسین کی دو ملین خوراکیں خریدنے پر غور کر رہا ہے، بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کے مہلک وبا کی شدت کو کم کرنے میں بہت دیرآئد ہو گا۔

ایک طرف ایرانی حکومت نے تاخیر کی اور دوسری طرف حکومت کی طرف شروع کی جانے والی غلط معلومات کی دو جہتی مہم نے ایک طرف مغربی ویکسین کو بدنام کرنے کی کوشش اور دوسری طرف امریکی پابندیوں کے تحت کھانے اور ادویات کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کی کوشش کی۔

image

بہت سی خبروں کے مطابق، اکتوبر کے آغاز سے، ایران میں کووڈ-19 سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد، سرکاری اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ [آر ایف آئی فارسی]

یہاں تک کہ یہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو امریکی حکومت کا "ایگزیکٹو بازو" کہنے تک جا پہنچا۔

تہران میں مقیم دوا ساز مجتبی سادات احماری نے کہا کہ "آئی آر جی سی کے قریبی ذرائع ابلاغ میں بہت سے مضامین اور رپورٹیں شائع کی گئی ہیں تاکہ مغربی ویکسین پر پابندی کے رہنما کے اعلان کی 'سائنسی بنیادیں' بنائی جائیں۔"

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ نے "جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ فائزر کی طرف سے حالیہ برسوں میں افریقہ کو چیچک، ہیپاٹائٹس اور پولیو سے لڑنے کے لیے جو مفت ویکسینز دی گئی ہیں، ان میں 'ایچ آئی وی [ہیومن امیونو ڈیفیسیئنسی وائرس' موجود تھا"۔

حکومت اس طرح کی غلط باتوں کو فروغ دیتی رہی، یہاں تک کہ امریکی محکمہ خارجہ اور خزانہ نے بارہا اور عوامی طور پر کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں خوراک اور ادویات پر لاگو نہیں ہوتیں۔

مبصرین نے کہا کہ اس کے برعکس تمام شواہد کے موجود ہوتے ہوئے بھی، ایرانی حکومت اس بات پر قائم رہی کہ اسے مغربی ویکسین پر بھروسہ نہیں ہے، جبکہ اسی دوران مغرب پر ویکسین کے حصول کی اجازت نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران، ایرانی حکومت کے اس بحران کے بارے میں ردِعمل نے، بہت طریقوں سے اس کو زیادہ سنگین تر بنا دیا۔

'حکومت پر کوئی اعتبار نہیں'

سادات احماری نے کہا کہ شروع سے ہی ایران "وائرس کی نمو پذیری اور پھیلاؤ" کو کم سمجھتا رہا، جس نے اس بحران کے بدانتظامی میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے اب تک تقریبا 300،000 ایرانیوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔

حکومت قرنطینہ کو نافذ کرنے میں ناکام رہی اور اس نے متعلقہ کمپنی مہان ایر کو جنوری اور فروری 2020 میں، چین تک پروازیں جاری رکھنے کی اجازت دی جہاں اس وقت وائرس تیزی سے پھیل رہا تھا۔

عالمی وباء کے ابتدائی دنوں میں، سابقہ ایرانی صدر حسن روحانی نے دعوی کیا کہ "اس مسئلے کو چند ہفتوں میں حل کر لیا جائے گا" اور "حالات معمول پر آ جائیں گے"۔

خامنہ ای نے خود دعوی کیا کہ وائرس کوئی "بڑی آفت" نہیں ہے۔

تاہم جب تک انہیں احساس ہوا کہ وائرس کو آسانی سے قابو نہیں کیا جا سکتا، اس وقت تک بہت دیر ہو گئی تھی اور عوام پہلے ہی حکام پر اعتماد کھو چکے تھے۔

کرمان سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار، فرامرز ایرانی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ عوام کو حکومت پر کوئی اعتبار نہیں ہے کہا کہ "ایک اہم عنصر ملک کے منتظمین کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان تھا اور جو اب بھی موجود ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "جبکہ مجلس (پارلیمنٹ) نے دعوی کیا کہ روحانی انتظامیہ، کووڈ- 19 سے جنگ کرنے کے لیے قومی ہیڈکواٹرز کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ دار تھی مگر روحانی نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا"۔

ایرانی نے کہا کہ روحانی کا انکار "اس بنیاد پر تھا کہ فوجی اور سیکورٹی کے ادارے صدارتی دفتر کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں اور وہ صرف راہنما اور آئی آر جی سی کو ہی جوابدہ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ درحقیقت سچ سے بہت دور ہے اور اس کے علاوہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ روحانی نے کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا"۔

بے مثال عوامی عدم اعتماد

وزارتِ صحت نے کووڈ- 19 کے کیسز اور اموات کی تعداد کو انتہائی کم رپورٹ کیا ہے- وبائی امراض کے آغاز کے بعد سے 118،000 اموات کا اعلان کیا گیا جو کہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد کا تقریبا-ایک تہائی ہے۔

مجلس کے نمائندے غلام علی جعفر زادہ-ایمن آبادی، احمد امیرہ آبادی فرحانی اور علی نجفی ان لوگوں میں شامل ہیں جو کہتے ہیں کہ ایران میں وبائی امراض کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ویب سائٹ جاون نے یہاں تک کہا کہ حقیقی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے سات گنا زیادہ ہے، جسے زیادہ تر ذرائع نے کافی حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کردہ قرار دیا ہے۔

کورونا وائرس وبائی مرض اور ملک کی معاشی پریشانیوں کی وجہ سے، سرکاری افسران پر عوامی عدم اعتماد اس دوران بے مثال سطح پر پہنچ گیا ہے، یہاں تک کہ سرکاری میڈیا نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کچھ نے خبردار کیا ہے کہ یہ موجودہ ایرانی حکومت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

ایرانی نے کہا کہ "اگرچہ حکومت پر وبائی مرض کے اثرات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے، لیکن کچھ غیر ملکی سیاسی شخصیات کے بیانات بتاتے ہیں کہ کووڈ-19 اسلامی جمہوریہ سے منتقلی کے لیے ایک عمل انگیز کا کام دے سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500