سلامتی

چینی فونز اور حفاظتی خطرات کے درمیان تعلق پر تشویش میں اضافہ

از پاکستان فارورڈ

image

15 جنوری کو لوگ بیجنگ میں ایک ژیاؤمی سٹور کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

ولنیئس، لتھوینیا -- دنیا بھر میں چینی فونوں کی زیادہ سے زیادہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کیونکہ مطالعات فونز کو قومی سلامتی کے خطرات، سینسر شپ، رازداری کے مسائل اور ڈیٹا لیک کے ساتھ جوڑنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لتھوینیا چینی فونز سے کنارہ کشی کرنے والا تازہ ترین ملک ہے، حال ہی میں اس کی وجہ ژیاؤمی فون میں ایک نصب شدہ سینسر شپ ٹول ہے۔

دارالحکومت ولنیئس میں حکام کی تاریخ ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کی جمہوریت مخالف اقدار، جغرافیائی و سیاسی غنڈہ گردی ، اور اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور سنسر شپ پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

گزشتہ ماہ لتھوینیا کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ سرکاری اداروں اور صارفین کو چینی فون استعمال کرنے سے محتاط رہنا چاہیئے، اور ممکنہ حفاظتی خامیوں اور ڈیٹا لیک کے بارے میں انتباہ کیا تھا۔

image

سنکیانگ، چین میں ایک مسلمان خاتون اپنے موبائل فون کو استعمال کرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ حکام خطے کے مسلمانوں کو قانونی طرزِعمل، بشمول بیرون ملک رشتے داروں کو فون کال کرنا یا بار بار اپنا فون بند کرنا، کے لیے زیرِ نگرانی رکھ رہے ہیں۔ [فریڈرک جے براؤن/اے ایف پی]

وزارت نے یورپ میں فروخت ہونے والے تین مشہور چینی ساختہ فونز: ژیاؤمی ایم آئی 10 ٹی 5 جی، ہواوے پی 40 5 جی اور ون پلس 8 ٹی 5 جی کا تجزیہ کیا تھا۔

ملک کے قومی سائبر سیکورٹی سنٹر نے 22 ستمبر کو اطلاع دی کہ اسے ہواوے اور ژیاؤمی 5 جی ماڈلوں میں "سائبر سیکیورٹی خطرات" ملے ہیں۔

یورپ کا سب سے مشہور اسمارٹ فون، ژیاؤمی میں اس نے ایک پہلے سے نصب شدہ سینسر شپ ٹول ملنے کی اطلاع دی جو تلاش کی اصطلاحات کچھ کو بلاک کر سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ یورپ میں فروخت ہونے والے فون کے ورژن میں بلیک لسٹ فنکشن کو غیر فعال کر دیا گیا تھا، انہوں نے خبردار کیا گیا ہے کہ اسے چین میں سوئچ کے ذریعے دور بیٹھ کر فعال کیا جا سکتا ہے۔

سینسر شدہ اصطلاحات ہمیشہ تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہیں، اپریل 2021 میں 449 الفاظ یا جملے بلیک لسٹ میں تھے اور ستمبر تک یہ 1،376 ہو گئے تھے۔ ان میں چینی الفاظ اور لاطینی رسم الخط میں الفاظ بھی شامل ہیں۔

بلاک کی گئی اصطلاحات میں "آزاد تبت"، "تائیوان کی آزادی زندہ باد"، "تحریکِ جمہوریت"، "طلباء تحریک"، "آمریت"، اور کچھ مغربی کمپنیوں اور خبر رساں اداروں کے نام شامل ہیں۔

لتھوینیا کے نائب وزیر دفاع مارگرس ابوکیوسیوس نے وائس آف امریکہ (وی او اے) کو بتایا، "ہم نے واضح طور پر دیکھا کہ یہ تمام کلیدی الفاظ کا محرک سیاسی ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ بہت پریشان کن ہے کہ نصب شدہ سینسر شپ کا ایک ٹول اور کلیدی الفاظ موجود ہیں، جو ویب پر آپ کی تلاش کو فلٹر کرتا ہے یا کر سکتا ہے"

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہواوے فون ایک خطرہ کا سبب ہے کیونکہ یہ صارفین کو خود بخود باہر کی کمپنیوں کے ایپ سٹورز پر بھیج دیتا ہے جن پر وائرس سے متاثرہ ایپس ہو سکتی ہیں۔

حقیقی خطرات

یورو نیوز نے 28 ستمبر کو بتایا، رپورٹ کے بعد، لتھوینیا اس قانون سازی پر کام کر رہا ہے جو اپنے سرکاری محکموں کو "ناقابلِ اعتماد" آلات استعمال کرنے سے روک سکتا ہے۔

ایک ترجمان نے کہا، "اس وقت، ہم قانون سازی کے دائرہ کار کی وضاحت کرنے پر کام کر رہے ہیں، اس لحاظ سے کہ کون سے ادارے (جو قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں) نئے قانون کے تحت آئیں گے، کون سی آئی سی ٹی [انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی] مصنوعات/ہارڈ ویئر/سافٹ وئیر کی خریداری متاثر ہو گی، اور صرف قابل اعتماد سامان فراہم کنندگان کو خریداری کے عمل میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے کیا کسوٹی مقرر کی جائے گی۔

اسی اثناء میں، ابوکیوسیوس نے بتایا کہ لتھوینیا میں تقریباً 200 سرکاری ادارے چینی ساختہ آلات استعمال کرتے ہیں اور کہا کہ مجموعی طور پر سرکاری شعبے کو قومی سلامتی کی بنیاد پر ژیاؤمی اور ہواوے فون "استعمال نہیں کرنا چاہیئے"۔

ابوکیوسیئس نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم جن خطرات کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ حقیقی ہیں۔ یہ خطرے کو کم کرنے کا بہترین اقدام ہے۔"

انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کو تحقیق کو ذہن نشین رکھنا چاہیئے اور ایسا ہی کرنے پر غور کرنا چاہیئے۔

انہوں نے وی او اے کو بتایا، "میرے خیال میں ہماری تحقیق اس بات کی تمثیل ہے کہ ہمیں ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں اس بحث سے آگے کیسے جانا چاہیئے، کہ ہمیں دوسرے شعبوں کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔"

امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے سیکیورٹی کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ہواوے فونز کو 5 جی موبائل نیٹ ورکس سے بلاک کر دیا ہے۔

لتھوینیا کے ساتھی یورپی یونین (ای یو) کے ارکان سے آنے والے دنوں میں اس تحقیق پر تبادلہء خیال کیے جانے کی توقع ہے، اور وزیر خارجہ گیبریلیوس لینڈزبرگس نے گزشتہ ماہ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹونی بلنکن سے واشنگٹن میں ملاقات کی تھی تاکہ معاونت کی جائے۔

لینڈزبرگس نے کہا کہ لتھوینیا کا چھوٹا ہونا -- جس کی آبادی 3 ملین سے کم ہے اور معیشت کا حجم چین کے حجم کا 270 واں حصہ ہے -- اسے ایک آسان ہدف بنا دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ کا "حساب یہ ہے کہ اپنے سے بہت ہی چھوٹے دشمنوں کو چنا جائے، انہیں لڑائی کے اکھاڑے میں کھینچا جائے اور پھر انہیں مار کر ان کا بھرکس نکال دیا جائے"۔

بلنکن نے "عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے جبر کی کوشش کے پیش نظر لتھوینیا کے لیے بھرپور امریکی حمایت" کا وعدہ کیا۔

وی او اے نے بتایا کہ جرمن دفاعی قوتوں نے اپنی طرف سے ژیاؤمی فون کی تکنیکی جانچ شروع کر دی ہے۔

معاشی تکلیف پہنچانے کی کوشش

لتھوینیا کی چینی ساختہ فونز میں نصب سنسر شپ رجسٹری کے بارے میں تازہ رپورٹ خاص طور پر چین کے لیے پریشان کن تھی۔

بیجنگ نے بالٹک ریاست سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور بیجنگ میں لتھوینیا کے سفیر بھی وطن واپس چلے گئے ہیں۔

اس سے پہلے جولائی میں، جب لتھوینیا نے تائیوان کو ولنیئس میں اپنے منصوبہ بند بظاہر-سفارت خانے کے لیے "تائی پے" کے بجائے لفظ "تائیوانی" استعمال کرنے کی اجازت دی، تو بیجنگ نے کارگو ٹرینوں کو لتھوینیا میں داخل ہونے سے روک دیا اور لتھوینیا کے غذائی برآمد کنندگان کے لیے چین میں اپنا سامان فروخت کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا۔

لیکن لتھوینیا نے چین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔

لتھوینیا کی وزیر برائے معیشت و جدت اوسرین ارمونائتے نے نتائج کو جھٹک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نقصان "بہت زیادہ نقصان دہ نہیں ہے" کیونکہ لتھوینیا کی چین کو برآمدات اس کی کل برآمدات کا صرف 1 فیصد ہے۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500