سفارتکاری

طالبان کے قبضے نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے

از پاکستان فارورڈ

image

23 ستمبر کو کابل میں زنباق چوک کے قریب ایک گلی میں ایک طالبان جنگجو پہرہ دیتے ہوئے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

تہران کے طالبان کو برسوں سے فنڈنگ اور معاونت فراہم کرنے کے باوجود، ایرانی قائدین اب عسکریت پسندوں کے ساتھ اپنے تعلقات سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایران، جس کی افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترکہ ہے، نے 2001-1996 کے اقتدار کے دوران طالبان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

لیکن حالیہ وقتوں میں تہران نے عملیت کے نام پر سُنی عسکریت پسندوں کے بارے میں اپنے موقف کو نرم کر دیا ہے جس میں سابقہ افغان حکومت کو کمزور کرنے کے مقصد سے عسکری امداد کا سلسلہ متواتر رکھا ہے۔

حال ہی میں جون کے مہینے میں، ایرانی حکومت کو طالبان کو وسیع پیمانے پر فوجی مدد فراہم کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں ایرانی فوجی مغربی افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے ہمراہ لڑائی میں نظر آئے.

image

طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو 1 فروری کو تہران میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران دیکھا گیا ہے۔ [فارس نیوز]

سابقہ حکومت کے افغان عہدیدار باقاعدگی سے ایرانی حکومت پر الزام لگاتے تھے کہ وہ ایران میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کی کوشش کے ایک جزو کے طور پر، افغانستان کے مغربی علاقے میں ڈیم کی تعمیر کو ناکام بنانے کے لیے طالبان کی حمایت کر رہی ہے۔

طالبان اور تہران کو سیاسی طور پر بھی قریب دیکھا گیا تھا۔

محض چند ماہ قبل، طالبان قائدین کے ایک گروہ کی تہران میں خوب خاطر تواضع کی گئی تھی، جہاں اس وقت کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے انہیں "بھائی" کہا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایران میں ہمیشہ ایک گھر ہو گا۔

تاہم، اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس رشتے پر اب سوالیہ نشان لگتے نظر آتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد، اوائلِ ستمبر میں تحریک کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنج شیر پر طالبان کے حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ایک اور واقعے میں ایرانی افواج نے بظاہر افغان فوجی سامان قبضے میں لیا اور اسے ایران بھیج دیا.

ایران نے ابھی تک طالبان حکومت کو تسلیم بھی نہیں کیا ہے اور اب وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہے کہ باگ ڈور ان کے ہاتھ میں ہے۔

عسکریت پسندوں کے صرف طالبان اور لگ بھگ صرف پشتون نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ایک حکومت تشکیل دینے کے بعد، 18 ستمبر کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا، "صرف ایک نسلی یا سیاسی گروہ سے تعلق رکھنے والی حکومت افغانستان کے مسائل کو حل نہیں کر سکتی"۔

رئیسی نے ایک ایسی حکومت کا مطالبہ کیا جس میں تمام افغانوں کی نمائندگی ہو - جس سے سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ منسلک گروہ بھی شامل ہو جائیں گے.

عدم اطمینان

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد ایرانی حکومت اب اس گروہ سے خطرہ محسوس کرتی ہے۔

صوبہ نمروز کے مقامی بین الاقوامی امور کے ماہر محمد نادم سروری نے کہا، "حالیہ دنوں میں، ایرانی قائدین نے، ماضی کے برعکس، جنہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی، نے اس گروہ کے خلاف بات کی۔"

سروری نے کہا، "یہ تبدیلی ملک کے طالبان پر عدم اطمینان کو ظاہر کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایرانی حکومت طالبان پر دباؤ ڈالے گی کہ وہ ان کے مطالبات کا مثبت جواب دیں۔ اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ خود کو ایرانی حکومت کے قابو میں رکھیں گے یا آزادانہ طور پر کام کریں گے۔"

کچھ افغانوں کی پیش گوئی ہے کہ ایرانی حکومت کا غصہ اور طالبان سے دوری اختیار کرنا افغانستان میں نئی مداخلت کا آغاز ہیں۔

صوبہ بادغیس کے علاقے قلعۂ نو کے مکین نیاز محمد نیازی نے کہا، "ایرانی حکومت کبھی بھی افغانستان کی دوست نہیں رہی اور اس کی بجائے اس نے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔"

نیازی نے کہا، "ہماری ایرانی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے ملک میں مداخلت کرنا بند کر دے۔"

ان کا کہنا تھا، "یہ کافی ہے کہ [ایرانی قائدین] نے گزشتہ 20 سالوں میں ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ ڈالی؛ اب براہِ کرم مزید جنگوں اور بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کا سبب مت بنیں۔"

نیا تنازعہ

صوبہ غور میں سول سوسائٹی کے ایک کارکن حسن حکیمی نے سلام ٹائمز کو بتایا، "اگرچہ ایرانی حکومت نے حالیہ برسوں میں طالبان کو نمایاں مالی اور عسکری مدد فراہم کی ہے، طالبان کے خیالات اور مفادات ایرانی حکومت سے مختلف ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایرانی حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات اور تنازعات مستقبل میں ان کے درمیان لڑائی پر منتج ہو سکتے ہیں۔"

صوبہ نمروز کے علاقے زرنج میں ایک سیاسی تجزیہ کار حمزہ بلوچ نے سلام ٹائمز کو بتایا، "حالیہ برسوں میں، ایرانی حکومت نے افغانستان میں ڈیموں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو روکنے کے لیے طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کو بڑی بھاری رقوم اور وسائل فراہم کیے ہیں۔"

بلوچ نے کہا، "اب اگر طالبان نے ڈیم کی تعمیر جاری رکھی، تو ایران ان کے خلاف کسی دوسرے گروہ کو مسلح کر دے گا۔"

آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی میں ایک افغان محقق، نعمت اللہ ابراہیمی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران یا روس جیسی علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پراکسی گروپوں کی مالی معاونت دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ "پُرتشدد تنازعات یا دوسروں کی جانب سے مزاحمت کا نسخہ ہے"۔

ایک مشمولہ حکومت کا فقدان "علاقائی طاقتوں کی جانب سے استحصال کے مواقع پیدا کرتا ہے جو اُن [طالبان] سے خوش نہیں ہونے والے"۔

[ہرات سے عمران نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500