حقوقِ انسانی

چین کا "چینی طور طریقوں" کا منصوبہ مساجد کے گنبدوں، اسلامی عقائد کو ختم کرتا ہے

پاکستان فارورڈ

image

نگرانی کے کیمرے اور خاردار تاریں، 4 جون 2019 کو سنکیانگ کے علاقے یانگیسار میں واقع جیلیکس نمبر 13 گاؤں کی مسجد کو گھیرے ہوئے ہیں۔ بیجنگ اپنے "چینی طریقہ کار اپنانے" کی مہم کے تحت، سنکیانگ اور ملک بھر میں ہزاروں مساجد کو نقصان پہنچا رہا ہے یا تباہ کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں جن میں ایغور اور دیگر نسلی اقلیتیں شامل ہیں، پر زیادہ 'چینی' بننے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ بیجنگ اپنے پانچ سالہ منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اسلامی فنِ تعمیر کی علامتوں کو مسمار کر کے اور مساجد میں سیاسی تعلیم کا حکم دے کر وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو مزید "چینی" بنا سکے۔

"چینی طور طریقے اپنانے" کے 2020-2018 کے منصوبے کے مطابق، چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے حکام مساجد کے گنبد، مینار اور اسلامی فنِ تعمیر کی دیگر علامتوں کو ہٹا رہے ہیں اور مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی لگا رہے ہیں۔

اس منصوبے کو، صرف مسلمانوں کے اکثریتی سنکیانگ علاقے میں ہی نہیں بلکہ پورے چین بھر میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

ایک برطانوی سفارت کار نے حال ہی میں صوبہ چنگھائی میں مسجد کے گنبدوں اور میناروں کو ہٹانے کی طرف توجہ دلائی۔

image

بائیں طرف، چین کے شہر زیننگ میں ڈونگ گوان عظیم مسجد کی تصویر، چار سال پرانی سفری گائیڈ بک میں دکھائی گئی ہے جس میں اس کے گنبد اور مینار برقرار ہیں۔ دائیں تصویر، 13 ستمبر کو اسی مسجد کو دکھاتی ہے۔ [چین میں برطانوی نائب سربراہ مشن کرسٹینا سکاٹ/ٹویٹر]

image

گانسو صوبے کے پنگ لانگ شہر میں زینتائی مسجد پر گنبد اور ہلال کو مسمار کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ 'پارٹی سے پیار کریں اور ملک سے پیار کریں'۔ اتحاد اور ہم آہنگی۔' نعرے کو لگا دیا گیا۔ [بِٹر ونٹر]

image

30 مئی 2019 کو لی گئی اس تصویر میں وہ خالی جگہ دکھائی گئی ہے جہاں کبھی سنکیانگ، چین کے علاقے ہوتن میں، گلک کوروک مسجد کھڑی تھی۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

زیننگ شہر میں ڈونگ گوان مسجد 1300 کی دہائی میں منگ خاندان کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔

بیجنگ میں برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کرسٹینا اسکاٹ نے ٹویٹر پر 13 ستمبر کو پوسٹ کیا، "میری (4 سال پرانی) گائیڈ بک پرانی ہو رہی ہے"۔ اس میں مشورہ دیا گیا ہے کہ ڈونگ گوان عظیم مسجد پر جائیں، ہے۔ میں چلی گئی۔ (جس میں لگتا ہے کہ گنبد اور میناروں کو ہٹانا شامل ہے...)"

انہوں نے اپنی گائیڈ بک سے مسجد کی تصویر شائع کی، جس میں ایک بڑا مرکزی سبز گنبد اور دو اونچے مینار دکھائے گئے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسجد کی وہ تصویر دکھائی جو انہوں نے خود لی، جس میں عمارت کو اسلامی زیب و زینت کے بغیر دکھایا گیا جس کے باہر چینی پرچم لہرا رہا تھا۔

ایک ٹوئٹر صارف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مینار جولائی میں نظر آتے تھے۔

سکاٹ نے قریبی نانگوان مسجد کی تصاویر بھی شائع کیں جس میں مسجد کے سفید گنبد کے ارد گرد مچان بندی کی گئی ہے اور گنبد اور میناروں سے ہلال اتار دیے گئے ہیں۔

'اتحاد اور ہم آہنگی'

منہدم کیے جانے کا کام پورے چین میں جاری ہے۔

چین میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق پر، اٹلی سے نکلنے والے رسالے، بِٹر ونٹر نے اپریل 2020 میں خبر دی تھی کہ حکام نے ہینان صوبے کی کم از کم پانچ مساجد سے گنبد اور چاند-ستارے کی علامتوں کو ہٹا دیا ہے۔

دسمبر 2019 میں، صوبہ گانسو کے پنگ لیانگ شہر میں کم از کم 16 مساجد سے ان کی اسلامی علامتیں ہٹا دی گئیں۔

کم از کم ایک واقعہ میں، کارکنوں نے ایک مسجد کے گنبد اور چاند-ستارے کو مسمار کر دیا اور ان کی جگہ نعرہ لگا دیا "پارٹی سے پیار کرو اور ملک سے محبت کرو۔ اتحاد اور ہم آہنگی۔"

مساجد کے لاؤڈ اسپیکر بھی مسمار کیے جا رہے ہیں، حکام کا دعویٰ ہے کہ اذان کی آواز لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔

نومبر 2019 میں، لیاؤچینگ میں گوان کاؤنٹی کے مذہبی امور بیورو نے مساجد کو اذان کے بجائے چینی قومی ترانہ بجانے کا حکم دیا۔

ایک مقامی امام نے بٹر ونٹر کو بتایا کہ "حکومت کا دعوی صرف ایک بہانہ ہے۔ لوگ ہر جگہ رقص کرتے ہوئے موسیقی بجاتے ہیں۔ کیا اس سے دوسرے پریشان نہیں ہوتے؟ حکومت نے اس کی طرف سے نظریں کیوں پھیر رکھی ہیں؟ "

اگرچہ بہت سے ائمہ اور دیگر چینی مسلمان ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ سی سی پی کی چینی طور طریقوں کی مہم کی مخالفت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔

ژیانگ کے ایک امام نے کہا کہ "حکومت کو خوف ہے کہ مسلمان غیر ملکیوں کے ساتھ متحد ہو جائیں گے، اس لیے وہ ہمیں اسلامی ڈھانچے کو چینی طرز میں تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اگر ہم نافرمانی کرتے ہیں تو وہ ہمیں گرفتار کر سکتے ہیں اور ہمیں امام کے طور پر نااہل کر سکتے ہیں"۔

'ہم حکم عدولی کی ہمت نہیں کر سکتے'

ڈونگ گوان مسجد کے قریب انار بیچنے والے کسان، علی نے مقامی اماموں کو درپیش مشکلات کی وضاحت کی۔

انہوں نے منگل (28 ستمبر) کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں این پی آر کو بتایا کہ "حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی مساجد کو زیادہ چینی بنائیں تاکہ وہ بیجنگ کے تیانانمین اسکوائر کی طرح نظر آئیں۔"

انہوں نے ساختی تبدیلیوں کے بارے میں کہا کہ "میرے خیال میں مسجد دونوں طرح ہی اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم کہہ ہی کیا سکتے ہیں؟ ہمارے امام اور ہمارے مسجد کے ڈائریکٹر کے پاس اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں تھا۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا اور گنبد ہٹانے کے حق میں دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔"

ڈونگ گوان کے نماز کے ہال میں 3,000 نمازیوں کی گنجائش تھی اور اس مسجد میں پورے چین میں سب سے بڑا اجتماع ہوتا تھا۔ یہ اسلامی تعلیم میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک تعلیمی مرکز اور ایک ادارے کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔

تاہم، ان تبدیلیوں کے بعد، بہت سے مقامی مسلمان دوسری جگہوں پر جا رہے ہیں۔

ایک مقامی مسلمان نے 2019 میں بٹر ونٹر کو بتایا کہ 2018 میں سی سی پی کے منتخب کردہ امام ما یوجیانگ کی تعیناتی کے بعد سے، "نمازیوں کی اکثریت نے ڈونگ گوان مسجد میں نماز پڑھنی چھوڑ دی کیونکہ نئے امام کے الفاظ قرآن سے متصادم ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا"۔

اسلامی عقائد سکھانے کی بجائے، امام "سیاسی و نظریاتی تعلیم" اور "چینی تاریخ" کے بارے میں سکھا رہے ہیں۔

ایک بزرگ مسلمان نے رسالے کو بتایا کہ "اس سے پہلے ہمارے پاس "سیاست" اور "چینی تاریخ" جیسے مضامین نہیں ہوتے تھے۔ صرف جب ما یوجیانگ کو تعینات کیا گیا تو انہوں نے بھرتی کردہ ملاؤں کے لیے ان کورسوں کا انتظام کیا"۔

انہوں نے کہا کہ "اگر ہم اطاعت نہ کریں تو حکومت ہمیں سزا دینے کے لیے مسلح پولیس کو متحرک کر دے گی۔ ہم عام لوگ حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتے" ۔

بٹر ونٹر نے خبر دی ہے کہ کچھ ائمہ نے تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کی لہذا حکام نے ننگزیا ہوا خودمختار علاقے کے گیوان شہر کے دورے کا اہتمام کیا تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ وہاں کی مساجد کو کس طرح "چینی طور طریقوں کے مطابق" کیا گیا ہے۔

رسالے نے خبر دی ہے کہ اس دورے کا مقصد "ملک بھر میں پالیسی کے نہ رکنے والے نفاذ کا مظاہرہ کر کے ان کے ارادوں کو توڑنا ہے"۔

سنکیانگ میں نسل کشی

صدر شی جن پنگ "چینی طور طریقوں کو اپنانے" کے لیے کئی سالوں سے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اگست میں اپنی تقریر میں، شی نے کہا کہ مذہبی اور نسلی گروہوں کو "چینی اتحاد کا پرچم بلند رکھنا چاہیے"۔

یہ پالیسی خاص طور پر سنکیانگ خطے میں بدنام ہوئی ہے، جہاں چینی حکام نے دس لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر ترک مسلمانوں کو -- جن میں کرغیز نژاد اور قازق نژاد بھی شامل تھے --- کو 400 سے زیادہ حراستی مراکز میں قید کیا جن میں "سیاسی تعلیم" کے کیمپ، مقدمات سے پہلے کے حراستی مرکز اور جیلیں شامل تھیں۔

مزید لاکھوں افراد سخت نگرانی اور کنٹرول کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔

بیجنگ ان مراکز کا "ووکیشنل تربیتی مراکز" کے طور پر دفاع کرتا ہے جن کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ کرنا اور ملازمت کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔

تاہم ان مراکز کے بارے میں بڑے پیمانے پر خبریں دی گئی ہیں کہ یہ غیر اِختیاری حراستی مراکز ہیں جن میں سے کچھ کو "حراستی کیمپوں" سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ ایغور اور دیگر جن میں سے اکثریت ترک مسلمانوں کی ہے، کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے۔

آزادانہ تفتیش اور سابقہ قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے انٹرویوز سے جسمانی و نفسیاتی تشدد، برین واشنگ، منظم عصمت دری، مسلمان خواتین کی جبری نس بندی، زبردستی اعضاء کا نکالنا ، جنسی استحصال اور دیگر مظالم کا پتہ چلا ہے۔

چینی حکام کی جانب سے سنکیانگ میں کیے گئے دیگر جرائم میں، علاقے میں 1,000 سے زائد اماموں اور مذہبی شخصیات کی صوابدیدی حراست اور تقریبا 16,000 مساجد کی تباہی یا نقصان شامل ہیں۔

2019 میں اے ایف پی کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس خطے میں درجنوں قبرستان تباہ کیے جا چکے ہیں، جس سے انسانی باقیات اور ٹوٹی ہوئی قبروں کی اینٹیں زمین پر بکھر گئی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500