جرم و انصاف

ہرات میں طالبان کی جانب سے سرعام پھانسیاں دینے پر افغانوں کو صدمہ، دنیا غصہ میں

از عمر

image

طالبان کی جانب سے ایک پولیس مقابلے کے دوران چار مبینہ اغواء کاروں کو ہلاک کرنے اور بعد میں ان کی لاشیں لٹکانے کے بعد 25 ستمبر کو ہرات شہر میں ایک شخص کی کرین سے لٹکتی ہوئی لاش۔ [عمران/سلام ٹائمز]

ہرات ، افغانستان -- طالبان کے شریک بانی اور جیل کے عہدیدار ملا نورالدین ترابی کے حالیہ اعلان سے افغانستان میں خوف اور بین الاقوامی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا ہے کہ ان کا گروپ ایک بار پھر سزائے موت دے گا اور ہاتھ کاٹے گا۔

جبکہ بین الاقوامی برادری افغان طالبان پر اعضاء کاٹنے اور سرعام پھانسی دینے جیسی پالیسیاں نافذ نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے، ترابی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے سابقہ سزائے موت پر غم و غصے کو مسترد کر دیا۔

ترابی، جن پر اقوام متحدہ نے پابندیوں لگائی ہوئی ہیں، دیگر کئی طالبان رہنماؤں کے ساتھ، طالبان کی سابقہ حکومت (1996-2001) میں وزیر انصاف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر وزارت کی سربراہی کر چکے ہیں۔

اگرچہ انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ اس بار سرِعام پھانسی نہیں دے گا نہ ہی ہاتھ کاٹے گا، طالبان نے ہفتہ (25 ستمبر) کو بندوقوں کی لڑائی میں اغواء کے چار ملزمان کو گولی مار دی اور ان کی لاشیں ہرات کے وسط میں لٹکا دیں۔

image

25 ستمبر کو ہرات میں کرین پر ایک لاش لٹک رہی ہے۔ [اے ایف پی]

شہر کے وسط میں خون آلود لاشوں کی موجودگی نے ہرات کے مکینوں کو خوفزدہ کر دیا، جن میں سے بہت سے لوگ اس مقام سے گزرتے ہوئے درد سے رونے لگے۔

ہرات شہر کے مکین احمد جاوید عظیمی نے کہا کہ طالبان کو بین الاقوامی اور افغان قوانین پر عمل کرنا چاہیئے اور کھیلوں کے سٹیڈیم میں سرِعام پھانسی دینے اور ہاتھ کاٹنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

عظیمی نے گروپ کے سابقہ دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم طالبان رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دوسرے اسلامی ممالک کی طرح کام کریں اور ایک بار پھر افغانستان کو دنیا کے تاریک ترین ملک میں تبدیل نہ کریں۔"

فیروز کوہ کے صوبہ غور کے مکین محمد سرور قاسمی کا کہنا تھا کہ عوام سرِعام پھانسیاں دینا اور ہاتھ کاٹنا دوبارہ شروع کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

دیرپا صدمہ

ہرات شہر کے مکین نور اللہ افغان نے کہا کہ شہر کے مرکز میں سرِعام پھانسیوں نے ہرات کے باشندوں، بشمول خواتین اور بچوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ مناظر دیکھنے والا تقریباً ہر شخص حیران اور صدمے سے دوچار تھا۔"

انہوں کا کہنا تھا، "طالبان کے سابقہ دورِ حکومت کے دوران، انہوں نے ہرات شہر میں کئی لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا، اور میں نے بچپن میں یہ منظر دیکھا تھا۔ تقریباً 20 سال بعد، وہ تصویر اب بھی میرے ذہن میں ہے اور رات کو مجھے پریشان کرتی ہے۔"

افغان نے کہا، "میری طرح، درجنوں بچے جنہوں نے شہر میں لٹکی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں وہ ختم ہو جائیں گے اور آنے والی دہائیوں تک زندگی کی خوشیوں سے محروم رہیں گے۔"

بادغیس کے صوبائی دارالحکومت قلعۂ نو کے مکین قدرت اللہ سکندری نے کہا کہ بغیر مقدمہ چلائے ملزمان کی جان لینا اور ان کی لاشوں کو سرعام لٹکانا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے.

انہوں نے کہا کہ ہرات جیسے ثقافتی دارالحکومت کے درمیان خون میں لت پت لاشوں کو لٹکا ہوا دیکھنا خوفناک ہے اور یہ منظر وسیع اور طویل نفسیاتی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "غیر جانبدار اور منصفانہ مقدمہ چلائے بغیر لوگوں کو پھانسی دینا ناصرف مایوسی اور اضطراب کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا بلکہ نوجوانوں کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اسلام سے دوری اختیار کر لیں۔"

من مانے قتل

فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو عدالتی احکامات یا مضبوط مجرمانہ ثبوت کے بغیر قتل کرنا واضح طور پر ملزمان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

غور میں سول سوسائٹی کے ایک کارکن حسن حکیمی نے کہا کہ مجرموں کی سزا کا ایک عملی ڈھانچہ اور اصول ہیں جن پر قانون نافذ کرنے والوں کا اسلامی اخلاقیات اور مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر عمل کرنا لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مناسب عدالتی کارروائی کے بغیر قتل جہاں ملزم کو اپنے قانونی استحقاق کا دفاع اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، اسے انسانیت کے خلاف جرم سمجھا جاتا ہے۔

حکیمی کا کہنا تھا، "صرف ایک جج کو ہی مدعا علیہان اور مجرموں کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ان کو من مانے طور پر قتل کرے یا پھانسی دے۔"

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے مجاز عدالتی فیصلے کے بغیر ملزمان کو گولی مارنا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے۔

نمروز کے مقامی ایک کارکن حسیب اللہ نادرے نے کہا کہ طالبان نے حال ہی میں ہرات شہر میں ان چار افراد کی لاشوں کو لٹکایا جنہیں انہوں نے ہرات شہر میں قتل کیا تھا، جو کہ واضح طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھی، کیونکہ کسی عدالت یا محکمے نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان افراد نے کن جرائم کا ارتکاب کیا تھا، یا ان کے مجرمانہ افعال سے کون متاثر ہوا تھا۔

نادرے نے کہا کہ سزائے موت اور اعضاء کو کاٹنا جرائم کی شرح کو کم نہیں کر سکتا، کیونکہ جب سے طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے، افغانستان میں غربت اور بے روزگاری بے مثال سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس کے ساتھ جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان پائیدار حفاظتی ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سزائے موت اور اعضاء کاٹنے سے گریز کرنا چاہیئے اور اس کی بجائے نوکریاں فراہم کرنی چاہیئیں، تاکہ افغان اپنے کنبوں کو پالنے کے لیے جرائم کا سہارا نہ لیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500