حقوقِ انسانی

طالبان نے ہزارہ کسانوں کو بے دخل کر دیا، زمین بارسوخ پشتون راہنماؤں کو دے دی

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

image

ایک ہزارہ کسان 15 مارچ کو بامیان کے مضافات میں تاریخی شہر، شہرِ ذوق کے کھنڈرات کے قریب بیلوں کے ساتھ ایک کھیت میں ہل چلا رہا ہے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

کابل- وسطی افغانستان میں ہزارہ اکثریتی کاشتکار برادری کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کے ان جنگجوؤں نے اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے جو ایسے پشتون زمینداروں کے لیے کام کر رہے ہیں جو ان کی فصلوں اور دکانوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ہزارہ سیاسی رہنما، محمد محقق جو گذشتہ ماہ طالبان کے طرف سے قبضہ کیے جانےکے بعد سے جلاوطن تھے، نے اس ہفتے کے شروع میں سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے ایک خط میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کابل کے جنوب مغرب میں دایکندی اور اروزگان صوبوں میں پھیلے ہوئے ایک دور دراز ضلع میں 800 سے زائد خاندانوں کو گھروں سے باہر جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اے ایف پی نے جن مقامی افراد سے رابطہ کیا ہے انہوں نے اس خبر کی تصدیق کی اور حکام سے درخواست کی کہ ان کی مدد کی جائے۔

امتیازی سلوک اور دہشت گردی

افغانستان کی 38 ملین افراد کی آبادی کا تقریبا 10 سے 20 فیصد حصہ بنانے والے ہزارہ، زیادہ تر شیعہ نسل اقلیت ہے جسے افغانستان میں صدیوں سے سنی اقلیت کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پچھلی دو دہائیوں میں، انہیں خاص طور پر طالبان اور "دولت اسلامیہ" (داعش) کے عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا ہے، جو انہیں ملحد سمجھتے ہیں۔

اقتدار میں دوبارہ آنے کے کچھ دیر بعد، طالبان نے ایک ہزارہ رہنما کا مجسمہ اڑا دیا جسے انہوں نے 1996 میں قتل کیا تھا۔

مئی میں، کابل میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ بم دھماکے میں 80 سے زائد ہزارہ سکول کی طالبات جاں بحق ہوئیں جو کہ حالیہ برسوں میں ہزارہ افراد کو نشانہ بنانے والے ایسے ہی مظالم میں سے ایک ہے۔ اس طرح کے مظالم میں کابل زچگی وارڈ میں ماؤں کو ذبح کرنے سے لے کر ان بسوں میں مسافروں کو قتل کرنا شامل ہے، جسے طالبان نے چوکیوں پر روکا۔

اس ماہ کے شروع میں جب طالبان نے اپنی حکومتی صف بندی کا اعلان کیا - جس میں واضح طور پر افغانستان کی بڑی شیعہ اور ہزارہ برادریوں کے نمائندوں کو خارج کیا گیا تھا - یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ یہ گروپ ملک میں سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرے گا۔

ایک مقامی بزرگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان جنگجو، ضلع گیزاب میں پک اپ ٹرکوں سے اترے اور لوگوں کو یہ کہہ کر باہر جانے کا حکم دیا کہ وہ وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو مدد کے لیے کسی کو ڈھونڈنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "گاؤں میں ٹیلی مواصلات کام نہیں کر رہیں"۔

جلاوطن ہزارہ رہنما محقق نے طالبان کے دایکنڈی کے نئے صوبائی گورنر امین اللہ زبیر کا دستخط کردہ ایک خط دکھایا جس میں کہا گیا کہ یہ زمین حاجی ظہیر نامی بزرگ کی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ جنہیں اس پر اختلاف ہے انہیں عدالت جانا چاہیے۔

فوری بے دخلی

محقق نے کہا کہ طالبان کی طرف سے بے دخلی کے احکامات، بغیر مقدمے چلائے دیے جانے والا فیصلہ تھے۔

مقامی دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی جڑ، طاقتور زمینداروں کی طرف سے انہیں ان کے گھروں اور فصلوں سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔

ایک دیہاتی - جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ 40 سال پہلے بنجر زمین پر منتقل ہوئے تھے اور اسے گندم اور بادام اگاتے ہوئے پیداواری کھیتوں میں بدل دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اور زمین کے دعویدار اس ہفتے کے اوائل میں پہنچے اور ان کی بے دخلی کا اعلان کرنے سے پہلے، انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے اعزاز میں ایک گائے ذبح کریں۔

اس مہینے کے شروع میں، افغان نیشنل آرمی کے سابق فوجیوں کی آبادی والے ایک محلے کے ہزاروں مظاہرین نے قندھار میں مارچ کیا تھا تاکہ وہ طالبان کی طرف سے انہیں ان کے گھروں سے نکال دینے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کر سکیں۔

سرکاری رہائش گاہوں اور عارضی جھونپڑیوں سے بنے نواحی علاقے، زارا فرقہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں طالبان نے وہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا، لیکن ان کے پاس جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500