سلامتی

چین کی طرف سے فوجی قوت کے جارحانہ مظاہرہ نے، اس کے محتاط و خوفزدہ پڑوسیوں کو چوکنا کر دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

تائیوان کی فضائیہ کے جیٹ جہاز، شہری موٹروے پر ٹیک آف اور لینڈ کر رہے ہیں۔ [اے ایف پی]

پنگ ٹنگ، تائیوان- سالانہ لائیو فائر فوجی مشق کے حصہ کے طور پر، لڑاکاجیٹ طیاروں نے گذشتہ ہفتے، جنوبی تائیوان کی ایک ہائی وے پر لینڈنگ کی مشق کی، جس میں چین کی طرف سے حملے کے خلاف جزیرے کے دفاع کی مثال دی گئی تھی۔

تائیوان، مسلسل بیجنگ کی طرف سے حملے کے خطرے تلے رہتا ہے جس کا دعوی ہے کہ یہ جزیرہ اس کے علاقے کا حصہ ہے اور اس نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ اس پر ایک دن قبضہ کر لے گا خواہ اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔

صدر شی جن پنگ کے دور میں، فوجی کشیدگی کئی عشروں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور چین اب باقاعدگی سے لڑاکا طیارے اور ایٹمی صلاحیت والے بمبار طیارے، تائیوان کے فضائی دفاعی علاقے میں بھیج رہا ہے اور سرکاری میڈیا باقاعدگی سے حملے کی مشقوں کی تشہیر کر رہا ہے۔

تائیوان کے مختلف لڑاکا طیاروں اور ایک ابتدائی انتباہی طیارے نے گزشتہ بدھ (15 ستمبر) کو پنگ ٹونگ کاؤنٹی کی صوبائی شاہراہ پر ٹیک آف اور لینڈنگ کی مشق کی۔

image

چینی فوجی اگست میں ساحل سمندر پر حملے کی مشق کے دوران، اپنی بَر بَحری گاڑی سے اتر رہے ہیں۔ [چینی وزارت دفاع]

image

ایک امریکی ساختہ، ای ٹوکے، ابتدائی انتباہی طیارہ 15 ستمبر کو سالانہ ہان کوانگ ڈرل کے دوران تائیوان کے شہر پنگ ٹونگ میں ایک موٹر وے سے اڑ رہا ہے۔ [سام یہ/اے ایف پی]

یہ مشق، جسے صدر تسائی انگ وین نے دیکھا تھا، جزیرے کی فضائی پٹیوں کو تباہ کر دیے جانے کی صورت میں، تائیوان کے پائلٹوں کی مہارت کا مبینہ مظاہرہ تھی۔

تائیوان پر حملہ کرنا بہت زیادہ مہنگا اور مشکل کام ہو گا مگر بیجنگ نے حالیہ سالوں میں عسکری خلاء کو پُر کر لیا ہے اور شی نے جزیرے پر قبضہ کرنے کی خواہش کو کبھی چھپایا نہیں ہے۔

اعلی امریکی جرنلوں نے عوامی طور پر انتباہ کیا ہے کہ چین ممکنہ طور پر حملہ کر سکتا ہے۔

گزشتہ سال چین کے جیٹ اور بمبار جہازوں نے تائیوان کے فضائی دفاعی شناختی زون (اے ڈی آئی زیڈ) میں ریکارڈ 380 چھاپے مارے۔

اس سال کے پہلے آٹھ ماہ میں مارے جانے والے چھاپوں کی تعداد پہلے ہی 400 سے بڑھ چکی ہے۔

جون میں، چین کے جیٹ جہازوں نے تائیوان کے اے ڈی آئی زیڈ کی ایک واحد دن میں سب سے زیادہ خلاف ورزی کیں۔ یہ جی سیون کے راہنماؤں کی طرف سے، آبنائے تائیوان میں امن کا مطالبہ کرنے والا، ایک تاریخی بیان جاری کیے جانے کے تھوڑی دیر بعد پیش آیا۔

سابقہ سب سے بڑی خلاف ورزی -- 25 جیٹ -- اپریل میں امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکن کی طرف سے چین کو اس انتباہ کے بعد ہوئی تھی کہ وہ تائیوان کی صورتِ حال کو بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

طاقت کے ذریعے تنازعات حل کرنا

ہمسایہ وسط ایشیائی ممالک تائیوان کی صورتِ حال، اور اس کے علاقے بھر پر ہونے والے اثرات کے پس منظر میں، قریبی جائزہ لے رہے ہیں۔

الماتے سے تعلق رکھنے والے فلسفے، پولیٹیکل سائنس اور مذہب کے معروف محقق، تلگٹ اسماگمبیتوف نے کہا کہ "اگر چین نے تائیوان پر قبضہ کر لیا تو اس کے عالمی سیکورٹی پر ناقابِلِ تَرمیم نتائج ہوں گے۔

"اس صورت میں بیجنگ، بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں خود کو کسی بھی قسم کی پابندی سے آزاد محسوس کرے گا اور مستقبل میں، اپنے علاقائی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کے لیے اپنے دعووں اور حق خود ارادیت پر انحصار کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ "چین کے جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام، ملائیشیاء اور فلپائن کے ساتھ علاقائی تنازعات ہیں جنہیں بیجنگ ممکنہ طور پر فوجی ذرائع سے حل کرنا چاہے گا"۔

اسماگمبیٹوف نے کہا کہ "امریکہ کو چین کو قابو کرنا ہو گا جو کہ ایشیائی بحر الکاہل کے علاقے میں ایک بالادست قوت بن گیا ہے"۔

چین بین الاقوامی اجارہ داری کا بھوکا ہے۔ یہ بات بشکیک کے عدیل اوسمن بیتوف نے کہی جو کہ بین الاقوامی معاملات و تنازعات کے ماہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے مگر وہ سب سے بڑی معیشت بننا چاہتا ہے۔ اس خواہش میں عالمی وباء کے دوران زیادہ مضبوطی آئی جب چین نے طبی سامان اور کووڈ-19 کی ویکسین فروخت کر کے بہت زیادہ پیسہ کمایا

عثمان بیتوف نے تائیوان کی طرف چین کی جارحیت کو "چینی طاقت اور صلاحیت کا امتحان" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "چین یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا وہ حد کو پار کر سکتا ہے"۔

خودمختاری کو خطرہ

چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ کنٹرول ذرائع ابلاغ کے مسلسل جاری دعوے کہ وسطی ایشیائی ممالک چین کے پاس ’’واپس ‘‘ آنے کے خواہاں ہیں، بیجنگ کی طرف سے، علاقائی رہنماؤں کی اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے آمادگی کو جانچنے کی ایک اور مثال ہے۔

2020 کے موسمِ بہار میں، جب قازقستان اور کرغزستان کرونا وائرس کی وباء کے باعث سخت قرنطینہ میں تھے، تو چین کی ویب سائٹس نے دونوں ممالک کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دیے جس سے غم و غصہ پیدا ہو گیا۔

اپریل میں، قازقستان کی وزارتِ خارجہ نے، نجی ملکیتی ویب سائٹ Sohu.com پر چھپنے والے ایک مضمون، جس کا عنوان "قازقستان چین کے پاس واپس جانے کے لیے کیون بے چین ہے" تھا، کی اشاعت کے بعد چین کے سفیر کو بلایا تھا۔

اسی مہینے، ویب سائٹ Toutiao.com نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا "آزادی کے بعد، کرغزستان اپنے آبائی ملک واپس کیوں نہیں آیا؟"

اس مضمون میں لکھا گیا ہے کہ کرغزستان، زار روس کی طرف سے 1846 میں چین سے کل 510,000 کلومیٹر، جس میں موجودہ کرغزستان بھی شامل ہے، لینے سے پہلے، ہزاروں سال تک چین کا حصہ رہا ہے۔

مصنف نے کہا کہ اگرچہ "اپنے آبائی وطن سے الگ ہونے والے علاقے اور ممالک آخر کار تڑپتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں" مگر جب کرغزستان نے 1991 میں آزادی حاصل کی تو ایسا نہیں ہوا اور اس کی بنیادی وجہ روس کا مسلسل اثر و رسوخ ہے۔

اس مضمون سے کرغیر معاشرے میں غم و غصہ دوڑ گیا جس نے اس مضمون کو اشتعال انگیر قرار دیا۔

بشکیک سے تعلق رکھنے والے نامہ نگار مارس ابییف جن کا تعلق ویب سائٹOrbita.kg سے ہے، نے کہا کہ "بیجنگ نہ صرف کرغزستان کی علاقائی سالمیت کے لیے بلکہ اس کی خودمختاری کے لیے ایک خطرہ بن رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایسے دعوے کرنے سے، بیجنگ "اپنے" علاقوں کی واپسی کا خیال پیش کر رہا ہے تاکہ وہ وسط ایشیائی ممالک کا ردِعمل جانچ سکے۔

جولائی 2020 میں، چین کے ذرائع ابلاغ نے ایک مضمون شائع کیا جس کا اشتعال انگیر عنوان "تاجکستان نے اپنی زمین چین کو منتقل کرنے کا آغاز کیا اور گمشدہ پامیر پہاڑوں کو اس کے حقیقی مالک کے سپرد کر دیا گیا" تھا۔

اس مضمون میں 2011 میں تاجکستان کے 1,158 کلومیٹر کے علاقے کو چین کو واپس کرنے کی بات کی گئی تھی جس نے اس وقت بہت سے تاجک شہریوں کو غصہ دلایا تھا۔

تاجکستان نے اپنا قرضہ چکانے کے لیے یہ زمین چین کے حوالے کی تھی۔

سنکیانگ کا مسئلہ

ابھی حال ہی میں، تاجکستان نے اپنے انتہائی بڑے ہمسائے کے سامنے کھڑے ہونے پر اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔

اس سال کے آغاز سے اب تک، قازق شہریوں نے الماتے میں چین کے سفارت خانے کے باہر، ہر روز مظاہرہ کیا ہے اور بیجنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر چین کے جبر کے حصہ کے طور پر گرفتار کیے جانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کو آزاد کر دے۔

قازق حکام نے گزشتہ اکتوبر میں، ایسے چار قازق نژاد افراد کو مہاجرین کا درجہ دیا تھا جو سنکیانگ سے، چین کی حکومت کے جبر سے جان بچا کر بھاگے تھے۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین سے تعلق رکھنے والے قازق نژادوں کو نور سلطان کی طرف سے مہاجرین کا درجہ دینا، سنکیانگ میں بیجنگ کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تسلیم کرنا ہے۔

بیجنگ نے ایک ملین سے زیادہ ایغور اور دیگر ترک مسلمانوں کو -- جن میں قازق نژاد بھی شامل ہیں -- چار سو سے زیادہ جگہوں پر قید کر رکھا ہے جن میں "سیاسی تعلیم" کے کیمپ، مقدمہ سے قبل حراستی مراکز اور جیلیں شامل ہیں۔ یہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر کیے جانے والے کریک ڈاون کا حصہ ہے۔

دیگر لاکھوں انتہائی کڑی نگرانی اور کنٹرول کے تحت رہتے ہیں۔

ابتدا میں بیجنگ نے سنکیانگ میں ایسے مقامات کی موجودگی سے انکار کیا تھا مگر بعد میں اس نے انہیں جائز ثابت کرنے کی کوشش کی اور انہیں ایسے "دوبارہ تعلیم دینے" کے کیمپ قرار دیا جنہیں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور ملازمت کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

تاہم، آزادانہ تحقیق اور سابقہ قیدیوں کے انٹرویوز سے جسمانی اور ذہنی تشدد، برین واشنگ، منظم عصمت دری، جبری نس بندی، جنسی زیادتی اور دیگر ہولناکیوں کا اشارہ ملا۔

[الماتے سے تعلق رکھنے والے کانات التین بائیف نے اس رپورٹ میں تعاون کیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500