معیشت

تاریک مستقبل کا سامنا کرنے والے افغان نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں

از عمران

طالبان کی طرف سے گزشتہ ماہ ملک پر قبضہ کیے جانے کے بعد اور ملازمتوں کے امکانات کے کم ہو جانے کے باعث، افغان نوجوان ملک کو چھوڑ کر جانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ [عمران/ عبداللہ عزیزی]

ہرات -- ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ پہلے، طالبان کی طرف سے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد سے، نوجوان افغان شہری ملازمتوں کے مواقع کے کم ہونے اور غیر یقینی مستقبل کے باعث، افغانستان کو چھوڑنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملازمتوں کی کمی کے باعث، بہت سے لوگوں کو مجبور ہونا پڑا ہے کہ وہ بیرونِ ملک چلے جائیں۔ یہ بات تخار صوبہ کے شہری، رحمت اللہ نے 14 ستمبر کو نمروز صوبہ کے دارالحکومت زرنج میں کہی جو کہ ایرانی سرحد کے ساتھ واقعہ ہے۔

رحمت اللہ جو کہ ایران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، نے کہا کہ "ماضی میں نوجوانوں کے لیے تعلیم کے مواقع تھے، مگر اب نوجوانوں کو ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے اور اگر وہ یہاں رہے تو وہ ممکنہ طور پر وہ منشیات یا جرائم میں ملوث ہو جائیں گے"۔

ہرات شہر کے ایک شہری فرہاد حیدری نے کہا کہ "طالبان کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کیے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے مگر ہم ابھی تک غیر یقینی حالات میں رہ ہے ہیں"۔

image

بہت سے افغان نوجوانوں کو 16 ستمبر کو نمیروز کے صوبائی دارالحکومت، زرنج میں دیکھا جا سکتا ہے جب وہ ایران جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ [عبداللہ عزیزی]

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تعلیم یافتہ اور بارسوخ شہریوں کی اکثریت، جن میں علماء اور سرمایہ کار بھی شامل ہیں، نے موجودہ حالات سے مایوس ہو کر ملک چھوڑ دیا ہے۔

حیدری جو کہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ انہیں طالبان کی حکومت میں کسی روشن مستقبل کی امید نہیں ہے، کہا کہ "میں خود افغانستان کو چھوڑ دینے کا عزم رکھتا ہوں"۔

'افغانستان کے لیے ایک سانحہ'

افغانستان کے نوجوان، جن میں سے بہت سے، طالبان کی واپسی کے باعث تعلیم اور ملازمتوں سے محروم ہو گئے ہیں، حیدری جیسے شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔

بغلان صوبہ کے رہنے والے فرید احمد مرزائی جو کہ اب جوازجان میں رہتے ہیں، نے کہا کہ افغانستان "ایک جیل بن گیا ہے جہاں وہ اب رہنا نہیں چاہتے"۔

انہوں نے کہا کہ "افغانستان تباہ ہو گیا ہے اور یہاں رہنے یا کام کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سب سے بدتر تو یہ ہے کہ لوگوں کا خیال رکھنے کے لیے کوئی حکومت نہیں ہے"۔

"میں نے اپنے آپ کو کبھی اتنا بےبس اور تھکا ہوا محسوس نہیں کیا جتنا کہ میں آج ہوں۔ میرے پاس اپنے ملک کو چھوڑ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا ہے"۔

ادریس، جو کہ اصل میں صوبہ ننگرہار کے رہنے والے ہیں، نے کہا کہ وہ غیر یقینی صورتحال اور طالبان کی حکومت کے خوف سے بچنے کے لیے ایران جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ یہ درحقیقت "افغانستان کے لیے ایک سانحہ ہے" کہا کہ "غیر یقینی مستقبل کے باعث، ہر روز ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں"۔

سید ادریس حسینی، جو کہ تیسرے سال کے طالبِ علم ہیں اور ہرات یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، نے کہا کہ انہیں تعلیم چھوڑ دینے پر مجبور ہو جانے کے بعد اب کوئی امید نہیں رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان صرف خود کو ہی حکومت میں ملازمت دیتے ہیں اور سارے تعلیم یافتہ اور مہارت رکھنے والے نوجوان بے روزگار ہیں۔

حسینی نے کہا کہ "مجھے بہت زیادہ شبہ ہے کہ اگر میں گریجوئٹ ہو گیا تو طالبان مجھے اپنی حکومت میں ملازمت دیں گے"۔

ملازمتوں سے محرومی

دریں اثناء دوسرے افراد جیسے کہ مریم احمدی جو کہ ہرات شعبہ تعلیم کی سابقہ ملازم ہیں، طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اپنی ملازمت سے محروم ہو گئی ہیں۔

احمدی نے کہا کہ طالبان کے آنے سے پہلے، وہ اپنی تنخواہ سے اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھیں۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ وہ افغانستان کے لیے ایک تاریک اور غیر یقینی مستقبل کا خوف رکھتی ہیں، کہا کہ "طالبان نے مجھے دفتر جانے سے منع کر دیا اور اس لیے اب میرے پاس تنخواہ نہیں ہے اور مجھے دوسرے شعبوں میں بھی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے"۔

اللہ داد، جو کہ سابقہ افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کی ویں ظفر کور میں افسر تھے، بھی ملازمت سے محروم ہو گئے ہیں۔

سابقہ حکومت نے داد کو پچھلے دو مہینوں سے ادائیگی نہیں کی اور کور کے نئے تعینات شدہ طالبان کمانڈر نے انہیں بتایا کہ کسی کو بھی پہلے کے وقت کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

داد نے کہا کہ "میں طالبان کے پاس گیا اور کہا کہ میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہوں مگر طالبان کے کمانڈر نے مجھے بتایا کہ میں اپنی سابقہ ملازمت پر واپس نہیں آ سکتا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معمولی مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے مگر پھر بھی انہیں کام نہیں مل رہا، اس لیے وہ مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ ہمسایہ ملک ہجرت کر جائیں تاکہ اپنے گھر والوں کو ممکنہ فاقوں سے بچا سکیں۔

تخار صوبہ کا ایک اور شہری فیصل اکبری، جو کہ زرنج میں رہائش پذیر ہے، چار سال تک تخار میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے لیے کام کرتا رہا تھا، کو اپنا کام روکنا پڑا اور گزشتہ ماہ اسے اپنے غیر ملکی عملے کو ملک سے باہر نکالنا پڑا۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ افغانستان میں کوئی کام نہیں ہے، کہا کہ "میں نمروز آیا ہوں تاکہ یہاں سے ایران جا کر وہاں کام کر سکوں"۔

8 ستمبر کو، انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی ان تنظیموں سے درخواست کی کہ وہ افغانستان واپس آ جائیں، جن میں سے بہت سی، طالبان کی طرف سے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک چھوڑ گئی تھیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500