سلامتی

چین روس اور ایران کا گزشتہ ریکارڈ افغانستان میں ’امن‘ کے نعروں کے برعکس

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

افغانستان پر طالبان کے عسکری تسلط کے بعد 19 اگست کو طالبان جنگجو کابل میں ایک گاڑی پر نصب اسلحہ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

افغانستان میں امن و استحکام کی حمایت میں چین، روس اور ایران کے عہد طالبان کے لیے ان کی عسکری حمایت یا جنگ سے تباہ حال ملک کے ساتھ صریح بغض سے سراسر متصادم ہیں۔

کریملِن نے 25 اگست کو کہا کہ روسی صدر ویلادیمیر پیوٹین اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے اپنے ممالک میں طالبان کے تسلط کے بعد افغانستان سے پیدا ہونے والے "خدشات" کی انسداد کے لیے کاوشیں تیز تر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ان رہنماؤں نے "دہشتگردی اور منشیات سمگلنگ" کے خلاف لڑائی کی ضرورت پر اتفاق کیا اور "ملحقہ خطوں تک عدم استحکام کے پھیلاؤ کی انسداد" پر بات چیت کی، جو ان دونوں کے لیے ایک حساس نقطہ ہے: وسط ایشیا میں متعدد سابقہ سوویت جمہوریتیں – جہاں ماسکو کے عسکری اڈے ہیں – افغانستان اور چین کے ساتھ سرحد کی حامل ہیں۔ تاجکستان کی دونوں کے ساتھ مشترکہ سرحد ہے۔

ایک ہفتہ قبل، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے 18 اگست کو اپنے روسی اور چینی ہم منصبوں کو بتایا کہ تہران افغانستان میں "امن و سلامتی" کے قیام کے لیے دونوں ملکوں سے تعاون کے لیے تیار ہے۔

image

جون 2020 میں پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں طالبان عسکریت پسند افغانستان میں ایک نامعلوم مقام پر روسی ساختہ اسلحہ سے نشانہ بازی کی مشق کر رہے ہیں۔ [فائل]

image

جولائی کے اواخر میں طالبان کے دورہٴ چین کے دوران طالبان کے شریک بانی ملّا عبدالغنی برادر چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی ان کے ساتھ۔ [اے ایف پی]

رئیسی کی سرکاری ویب سائیٹ پر کہا گیا کہ بیجنگ سے موصول ہونے والی ایک فون کال میں رئیسی نے ژی کو بتایا، "ایران سلامتی، استحکام اور امن قائم کرنے اور اس کے عوام کی ترقی، پیشرفت اور آسودہ حالی کے لیے کاوشوں کی غرض سے چین کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔"

پیوٹین کے ساتھ ایک فون کال میں انہوں نے "افغانستان میں امن اور سکون کے قیام" کے لیے ایران کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔

قول اور تاریخ میں تضاد

تاہم ایسے بیانات افغانستان میں تنازع کو تقویت دینے میں ایران کی طویل المدت کوششوں کے ساتھ تضاد رکھتے ہیں۔

تہران پر طویل عرصہ سے طالبان کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات ہیں، جبکہ حال ہی میں ایرانی ساختہ نشانہ باز بندوقیں استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کی تصاویر بنائی گئیں۔

ہرات شہر میں ایک عسکری تجزیہ کار سید محمّد کاکڑ نے اگست میں کہا کہ حکومتِ ایران کئی برسوں سے طالبان کی حمایت کر رہی ہے، لیکن یہ حمایت حال ہی میں خاصی واضح ہو گئی ہے۔

کاکڑ نے کہا، "ایرانی ساختہ نشانہ باز بندوقوں کی مدد سے طالبان طویل فاصلہ سے اپنے اہداف پر حملہ کر سکتے ہیں، اور نشانہ بازی کے انداز کی بندوقوں کی وجہ سے ہونے والی خونریزی کے لیے حکومتِ ایران اور اس کے قائدین ذمہ دار ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت کی جانب سے طالبان کو بڑی مقدار میں فراہم کی جانے والی اسلحہ کی رسد سے افغانستان میں تہران کے وہ وسیع تر مقاصد ظاہر ہوتے ہیں، جن کا نفاذ وہ ملک میں تنازع کو طول دے کر کرنا چاہتا ہے۔

زیادہ تر حمایت کا مقصد افغانستان کے بنیادی ڈھانچے – بطورِ خاص ایسے ڈیم جو ایران کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکتے ہیں – کو بتاہ کرنا ہے۔

اس وقت کے افغان عسکری اہلکاروں کے مطابق، جولائی میں صوبہ ہرات میں سلمیٰ ڈیم پر طالبان کے حملے میں مبینہ طور پر ایرانی جنگجو موجود تھے۔

صوبہ ہرات میں بین الاقوامی تعلقات کے ایک تجزیہ کار محمّد نصیر اکبری نے جولائی میں کہا کہ مغربی خطے میں جنگ پانی سے متعلق ہے، اور اس کے پیچھے حکومتِ ایران ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت واضح ہے کہ ایران مغربی خطے میں ڈیم تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اس مقصد کے حصول کے لیے حکومتِ ایران کے بہترین اور سستے ترین سپاہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلمیٰ اور کمال خان ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے مشرقی ایران میں پانی کی شدید قلّت پیدا ہو گئی ہے، انہوں نے حوالہ دیا کہ "افغانستان کے ساتھ سرحد کے حامل صوبوں میں زیادہ تر زرعی زمین بنجر ہو گئی ہے۔"

"حکومتِ ایران اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ان ڈیموں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"

’امن‘ کے عہد

روس اور چین کی جانب سے امن پر زور دینے کے بیانات بھی کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔

اس شدت پسند اسلام پسند گروہ کے 1980 کی دہائی میں سوویت کے خلاف جنگ میں نمو پانے کے باوجود، – جس میں تقریباً 15,000 روسی فوجی مارے گئے – اس گروہ سے متعلق روس کی رائے معقول ہے۔

تین دہائیوں بعد، بظاہر تکلیف دہ ماضی سے قطع نظر، کریملِن نے متعدد مرتبہ ماسکو میں مزاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے طالبان کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ کیا ہے – باوجودیکہ یہ تحریک روس میں ایک کالعدم دہشتگرد تنظیم ہے۔

اس تقرر نے بھی کریملِن کو کم از کم 2015 کے بعد سے طالبان کو مالیات اور اسلحہ فراہم کرنے سے نہیں روکا۔

نیو یارک ٹائمز نے جون 2020 میں خبر دی کہ یونٹ 29155 کے نام سے معروف ایک روسی انٹیلی جنس یونٹ نے 2019 میں امریکہ کی قیادت میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین جنگ بندی کے لیے امن مزاکرات کے دوران افغانستان میں اتحادی فوجیوں پر کامیاب حملوں کے لیے خفیہ طور پر انعامات کی پیشکش کی۔

حکام نے اخبار کو بتایا کہ مانا جاتا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں یا ان کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامل مسلح جرائم پیشہ عناصر نے کچھ انعامی رقم وصول کی۔

درایں اثناء، معلوم ہوتا ہے کہ بیجنگ افغانستان کے وسائل میں کچھ حصّہ کے عوض کسی بھی ممکنہ تشدد کو معاف کرنے کو تیار ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے 16 اگست کو کہا کہ چین طالبان کے ساتھ "دوستانہ اور معاون" تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہوا چُن یِنگ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "طالبان نے بارہا چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی امّید کا اظہار کیا ہے، اور وہ افغانستان کی تعمیرِ نو اور ترقی میں چین کی شرکت کے خواہاں ہیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک معاون انتظامیہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انشییٹیو (بی آر آئی) کی افغانستان میں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں سے توسیع کی راہ ہموار کرے گی۔

دیگر اہداف کے ساتھ ساتھ، بی آر آئی کا مقصد چین کے مفاد کے لیے غریب تر ممالک کے قدرتی وسائل کی کشید اور ترسیل میں تسہیل کاری ہے۔

درایں اثناء، طالبان چین کو براہِ راست یا بیجنگ کے قریبی اتحادی، پاکستان کے ذریعہ سرمایہ کاری اور معاشی معاونت کا ایک اہم منبع سمجھ سکتے ہیں۔

سہولت کے اس اتحاد میں محسوس ہوتا ہے کہ طالبان ژنجیانگ میں دسیوں لاکھوں مسلمانوں پر جبر کو نظرانداز کرنے پر آمادہ ہیں، جبکہ بیجنگ افغان حکومت کو گرانے کے لیے طالبان کے عسکریت پسندانہ نظریہ اور پرتشدد مہمّات سے متعلق خال ہی کوئی بیان دے رہا ہے۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500