کاروبار

پیوٹن کے 'شیف' کو دنیا بھر میں افراتفری، خون خرابے کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہوئے دیکھا گیا

از کاروانسرائے اور اے ایف پی

image

"دی ٹورسٹ" کی جھلکیوں سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ جس میں روس کے ایک "مشیر" کو، وسط افریقی جمہوریہ میں مسلح اور خون میں لت پت دکھایا گیا ہے۔ [این ٹی وی/ یوٹیوب]

بنگوئی، وسط افریقی جمہوریہ -- اس سال کے آغاز میں جبکہ اقوامِ متحدہ (یو این) کے ماہرین نے روس کے کرایے کے فوجیوں پر، وسط افریقی جمہوریہ (سی اے آر) میں "انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں" کا الزام لگایا تھا، کریملین کے ساتھی یوجین پرگوزن پہلے ہی ایک ایسی فلم کی سرمایہ کاری کر رہے تھے جس کا مقصد خبروں سے بننے والے منفی تاثرات کا خاتمہ کرنا تھا۔ یہ بات کئی تحقیقات سے سامنے آئی ہے۔

"دی ٹورسٹ" جس کی عکس بندی مارچ اور اپریل میں سی اے آر میں کی گئی تھی، روسی فوج کے مشیروں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے جو گزشتہ سال کے انتخابات کے بعد، قاتل خونی باغیوں کے ایک گروہ سے مقامی افراد کا تحفظ کرتے ہیں۔

فلم کے آغاز کے انتساب میں کہا گیا ہے کہ یہ فلم ان 300 روسی عسکری استادوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے جنہوں نے صدر فوسٹن آرچینج ٹوڈیرا کی حکومت کی حمایت کی تھی۔ روس نے 2018 سے اس کی مدد کی تھی۔

فلم میں، روسی بہادر، مہربان اور دریا دل ہیں۔ مگر یہ تصویر سی اے آر سے ملنے والی پریشان کن خبروں سے انتہائی متضاد ہے۔

image

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے یارِ غاز، یوجینی پرگوزن پر پوٹن کے لیے 'گندے کام' کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ [فائل]

image

انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کی عمارت، جسے روس کی ٹرول فیکٹری کہا جاتا ہے، کو 2018 میں سینٹ پیٹرزبرگ، روس میں ساوشکینا اسٹریٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فروری میں، امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے پرگوزن جو کہ 2016 اور 2020 میں امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کے پیچھے تھے، کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر 250,000 ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ [فائل]

31 مارچ کو، اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے، سی اے آر میں27 دسمبر کے صدارتی انتخابات کے بعد سے ہونے والے پرتشدد حملوں کے سلسلے سے کرائے کے روسی فوجیوں کے تعلق پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے تین گروہوں کا حوالہ دیا: سیوا سیکیورٹی سروسز، لوبے انویسٹ سارلو اور ویگنر گروپ۔

کرائے کے فوجی "بڑے پیمانے پر سزائے اموات، صوابدیدی حراستوں، تفتیش کے دوران تشدد، جبری گمشدگیوں، سویلین آبادی کو زبردستی بے گھر کرنے، شہری تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانے، صحت کے حق کی خلاف ورزیوں اور انسانی ہمدردی کے عناصر پر حملوں میں ملوث تھے"۔ یہ بات کرائے کے گروہوں پر اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ایک بیان میں کہی۔

لندن سے تعلق رکھنے والے، روسی سیکورٹی کے ایک عالم مارک گیلیوٹی نے کہا کہ یہ فلم پرگوزن کے لیے ذاتی "بناوٹ اور خاکے کا منصوبہ" ہونے کے علاوہ، ایک عملی مقصد بھی رکھتی تھی۔

انہوں نے مئی میں دی ماسکو ٹائمز کو بتایا کہ "اس وقت، ویگنر کو بہترین رنگروٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں حکومت کے حمایت یافتہ عسکری گروہ جیسے کہ پیٹریاٹ اور شچٹ (شیلڈ) بھرتی کر لیتے ہیں کیونکہ وہ بہتر شرائط اور تنخواہ کی پیشکش کرتے ہیں"۔

ویگنر پہلی بار 2014 میں یوکرین میں سامنے آئی تھی۔ اس وقت سے، اس کے کرایے کے فوجی دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات میں ملوث رہے ہیں جن میں شام، موزمبیق، سوڈان، وینیزویلا، لیبیا، سی اے آر اور چاڈ شامل ہیں۔

یوکرین میں کرائے کے فوجیوں کے لیے پروپیگنڈا کو فروغ

ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی کے مطابق، 18 اگست کو، پرگوزن کی ایک اور سرمایہ شدہ فلم روسی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والے این ٹی وی پر پیش کی گئی۔

سولنٹسیپیوک" (جس کا ترجمہ "سن بیکڈ" کے طور پر کیا گیا ہے) کی جھلکیوں میں، 2014 کے موسم گرما میں لوہانسک، یوکرین میں زندگی کو دکھایا گیا ہے، جب پہلی بار جنگ شروع ہوئی تھی اور روس نے کریمیا پر غیر قانونی قبضہ کر لیا تھا۔

اس جھلکی میں ایک خاندان کو کھانے پر جام ٹکراتے، فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص کو شہر کے مرکز سے گزرتے ہوئے اور کچی سڑک پر چلتی ہوئی ایک گاڑی کو دکھایا گیا ہے۔

پرگوزن کے قریبی ذرائع نے آزاد خبر رساں ادارے میڈوزا کو بتایا کہ یہ فلم ان کا دوسرا پروجیکٹ ہے جو مشرقی یوکرین میں، کیف کی افواج کے خلاف لڑنے والے کریملن کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی حمایت میں ویگنر گروپ کے کردار کو پیش کرتا ہے۔

میڈوزا نے 12 اگست کے ایک مضمون میں، پرگوزن کے ایک قریبی ذریعہ کے بیان سے اقتباس کرتے ہوئے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ --- عوام کو اپنی ایک رومانوی اور مبلغانہ قسم دکھائی جائے"۔

پرگوزن کے حیلہ باز پریس آفس نے میڈوزا کے سامنے دعویٰ کیا کہ نہ تو وہ اور نہ ہی تاجر خود جانتا ہے کہ آیا اس نے فلم کو سرمایہ دیا ہے۔

اس نے کہا کہ "یوجینی وکٹورووچ [پرگوزن] کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ آیا اس نے 'سن بیکڈ' کی عکس بندی کے لیے مالی اعانت فراہم کی ہے۔"

پریس آفس نے کہا کہ فلم کے پروڈیوسر، سرگئی شیگلوف نے اس خیال کے لیے فلم کے "ابتدا کار" کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے مزید کہا کہ"آیا یہ یوجنی وکٹورووچ کا حوالہ تھا، ہم نہیں جانتے۔"

پرگوزن جو کہ طویل عرصے سے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے قریبی ساتھی رہے ہیں، نے ویگنر سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے اور ماسکو نے ویگنر کے کرایے کے فوجیوں کے بارے میں خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کی ہے۔

ماسکو کا 'بدترین رکھا جانے والا راز'

پرگوزن نے اپنے آپ کو قانونی خطرات میں گھرا پایا ہے کیونکہ تفتیش کار انتخابات سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور دنیا بھر میں کریملین نواز کرایے کی فوجوں کو سرمایہ فراہم کرنے میں اس کے کردار کے بارے میں پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واشنگٹن نے 2018 اور 2020 میں پرگوزن پر پابندیاں لگائیں اور کہا کہ اس کی انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (آئی آر اے) جو کہ سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک "ٹرول فیکٹری" ہے، 2016 اور 2020 میں ہونے والے امریکہ انتخابات میں مداخلت کے پیچھے تھی۔

آئی آر اے پر انتخابات اور دوسرے ممالک جیسے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں ریفرنڈم کے دوران تباہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام بھی ہے۔

بیلاروس نے گزشتہ سال ویگنر کے 33 "عسکریت پسندوں" کو گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ انتخابات سے پہلے حزبِ مخالف کے ساتھ مل کر ہنگاموں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

گزشتہ اکتوبر میں یورپین یونین نے، ویگنر گروہ کی حمایت کرتے ہوئے، لیبیا کو غیر مستحکم کرنے پر، پرگوزن پر پابندیاں لگائی تھیں۔

فروری میں، امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے پرگوزن کی گرفتاری میں مدد کے لیے فراہم کردہ معلومات پر 250,000 ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ "امریکہ کو دھوکہ دینے کی ایک ساز میں مبینہ شمولیت" کی بنیاد پر مطلوب ہے۔

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس تھنک ٹینک نے ویگنر کو "ماسکو کے بدترین رازوں میں سے ایک" قرار دیا ہے۔

اس نے کہا کہ گروہ کے دو بنیادی مقاصد ہیں: جنگ کے علاقوں میں جنگجوؤں کی تعیناتی کرتے ہوئے، کریملن کو ممکنہ طور پر انکار کرنے کے قابل بنانا" اور "اثر پذیر ریاستوں پر اثر و رسوخ کی ڈالنے کی پہلے سے تیار شدہ صلاحیت حاصل کرنا"۔

لیبیا کی بتائی گئی کہانی میں ٹیبلٹ

پرگوزن کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، جو کہ اب ایک بین الاقوامی مفرور ہے، کیونکہ حالیہ ہائی پروفائل غلطیوں اور اسکینڈلز نے ویگنر گروپ کے "سیکورٹی" کے بہادارانہ انداز کو بے نقاب کر دیا ہے۔

لیبیا میں گروپ کے ایک رکن کی طرف سے چھوڑی گئی ایک ٹیبلٹ- جہاں 2018 سے ویگنر نے لیبیا کے طاقتور اور روسی مؤکل خلیفہ حفتر کو آگے بڑھانے میں مدد کی ہے، جس نے بین الاقوامی حمایت یافتہ قومی معاہدے کی حکومت (جی این اے) کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی-- ایک تازہ ترین ثبوت ہے۔

بی بی سی نے 12 اگست کو خبر دی کہ ٹیبلٹ پر موجود اعداد و شمار نے روسی کرائے کے گروپ کی نقل و حرکت، رہائشی محلوں میں اس کی بارودی سرنگیں لگانے کے شواہد اور مشکوک گروپ کے پیچھے رقم کے بارے میں سراغ پر روشنی ڈالی ہے۔

بی بی سی نے ٹیبلٹ پر درجنوں فائلیں دریافت کیں، بشمول اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) کے کتابچے، جاسوسی کی ڈرون فوٹیج اور ایک نقشے کی ایپلی کیشن جس میں صف اول کے فوجی نقشوں کی تہوں کو دکھایا گیا جو سب روسی زبان میں نشان زد ہیں۔

ویگنر گروپ کے دو سابقہ جنگجوؤں کے ایک انٹرویو کے بعد، بی بی سی نے کرایے کی فوج کے جنگ کے طریقوں سے دو تفصیلات کی خبر دی ہے: یہ اپنے ارکان کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق پیش نہیں کرتا اور اپنے قیدیوں کو معمول میں قتل کر دیتا ہے۔

ویگنر کے ایک سابقہ کرایے کے فوجی نے بی بی سی کو بتایا کہ "کوئی بھی ایک اضافی شخص کو کھانا کھلانا نہیں چاہتا"۔

ایک خونی راستہ

لیبیا میں ویگنر کی سرگرمیاں، شام کے تنازعہ میں روس کے کردار سے بھی جڑی ہیں۔

2020 میں Suwayda.com نے شام کے 20,600 افراد کی ایک فہرست حاصل کی تھی جنہیں لیبیا کا سفر کرنے کے لیے سیکورٹی کے اجازت نامے ملے تھے تاکہ وہ روس کی معاوضہ کردہ کرایے کی فورسز کے لیے لڑ سکیں۔

تاہم، نیوز سائٹ نے اپریل اور جون میں ایسے ناراض شامی شہریوں کے ساتھ انٹرویو کیے جنہوں نے ان فورسز کے ساتھ قلیل المعیاد معاہدوں کو مکمل کیا تھا۔

اپریل میں ایک نامعلوم شامی جنگجو نے واٹس ایپ کے ذریعے Suwayda.com سے بات چیت کی۔ اس نے کہا کہ وہ لیبیا میں پھنسا ہوا ہے اگرچہ کہ اس کا پانچ ماہ کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جب ایک نئے فراہم کُنِندہ نے خوارک کے الاؤنس کو بہت زیادہ حد تک کم کر دیا تو اپنی تنخواہ سے وہ خود اپنا پیٹ بھی نہیں بھر سکتا تھا۔

اس نے کہا کہ شام میں اس کے رشتہ دار اسے، لیبیا میں اس کے کمانڈر کے ایک بھائی کے ذریعے پیسے بھیج رہے تھے۔

جون میں، لیبیا سے واپس آنے والے دیگر شامی سابق کرائے کے فوجیوں نے Suwayda.com کو بتایا کہ روسیوں نے انہیں اپنی وعدہ کردہ تنخواہوں میں سے صرف آدھی کی ادائیگی کی ہے، انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلانے میں ناکام رہے، انہیں معمولی مزدوری کرنے پر مجبور کیا اور ان کے ساتھ غیر مخصوص طریقے سے بدسلوکی کی۔

ویگنر کے کرائے کے فوجیوں کے ہاتھوں قتل اور جنگی جرائم کی کہانیاں شام میں بھی عام ہیں جہاں یہ گروپ شام کے صدر بشار الاسد کی فوج کی طرف سے ستمبر 2015 میں ماسکو کی مداخلت کے بعد تنازعہ میں داخل ہوا تھا۔

ایک مخصوص واقعہ میں، ویگنر کے جنگجوؤں کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے 2017 میں ایک شامی شخص کو قتل کیا تھا۔

15 مارچ کو فرانس، شام اور روس کے تین وکالتی گروہوں نے ماسکو میں ویگنر گروپ کے خلاف، 2017 میں ایک شامی شخص کا سر قلم کرنے اور ایسی بدسلوکی جو کہ "جنگی جرائم" کے برابر ہے، پر ایک تاریخی قانونی شکایت دائر کی تھی۔

اس کارروائی میں ویگنر اور گروپ میں پرگوزن کے کردار کو سب کے سامنے لانے کی ایک نایاب کوشش کی گئی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500