جرم و انصاف

دبئی میں چین کا ’سیاہ مقام‘، بیجنگ کے پھیلتے ہوئے کریک ڈاؤن کا عندیہ

سلطان الباری

image

22 فروری کو استنبول میں ایک مظاہرے میں ایک ایغور کی رشتہ دار اپنے اقربا سے متعلق اطلاع کے مطالبہ پر مشتمل ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہے۔ [اوزان کوسے/اے ایف پی]

قاہرہ – ایک 26 سالہ چینی خاتون، وُو ہان نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ اسے مئی کے اواخر میں دبئی میں ایک ہوٹل سے اغوا کیا گیا اور ایک چینی اہلکار نے اسے حراستی مرکز میں تبدیل کیے گئے ایک وِلا کے اندر زیرِ حراست رکھا۔

اگر درست ہے تو یہ اس امر کا پہلا ثبوت ہو گا کہ چین اپنی سرحدوں سے پار نام نہاد "سیاہ مقام" چلا رہا ہے۔

اے پی کے مطابق، سیاہ مقام ایسے مخفی قید خانے ہیں جہاں عموماً قیدیوں پر کسی جرم کا الزام نہیں ہوتا اور ان کے پاس کوئی قانونی چارہ جوئی، ضمانت یا عدالتی حکم نہیں ہوتا۔

16 اگست کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، وُو نے کہا کہ اس کے اغوا کنندگان نے 8 جون کو اسے آزاد کرنے سے قبل اس سے چینی زبان میں پوچھ گچھ کی اور – ایک مخالف – اپنے منگیتر پر اسے حراساں کرنے کا الزام لگانے والی قانونی دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

image

22 فروری کو استنبول میں ایک مظاہرے کے دوران ایک ایغور اپنے اقربا سے متعلق اطلاع کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی ترکستان کے پرچم والا فیس ماسک پہنے ہوئے ہے۔ [اوزان کوسے/ اے ایف پی]

اس نے کہا کہ سیاہ مقام پر قیام کے دوران وُو نےدو دیگر قیدیوں کو دیکھا یا سنا جو ایغور تھیں۔ اس نے خواتین کی ظاہری شکل و صورت اور لہجے کی وجہ سے ان کی شناخت ایغور اساسی کے طور پر کی۔

اب وُو ہالینڈ سے پناہ مانگ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اے پی انفرادی طور پر وُو کے اکاؤنٹ کی تصدیق نہ کر سکی، اور وہ اس سیاہ مقام کے محلِ وقوع کی نشاندہی نہیں کر سکی۔

تاہم اے پی نے اس کے پاسپورٹ پر مہروں، اس سے سوالات کرنے والے ایک چینی اہلکار کی فون ریکارڈنگ اور ان ٹیکسٹ پیغامات سمیت جو اس نے جیل سے اس کی اور وانگ کی معاونت کرنے والے ایک روحانی پیشوا کو بھیجے تھے، تصدیقی شواہد دیکھے اور سنے۔

حقوقِ انسانی اجلاس کی ایک خلاف ورزی

جبکہ چین کی سرحدوں کے اندر سیاہ مقامات عام ہیں، بیرونِ ملک ایک ایسے مقام کی موجودگی بیجنگ کے پھیلتے ہوئے بین الاقوامی رسوخ کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔

اس سے مخالفین اور ایغور جیسی نسلی اقلیتوں کے بیرونِ ملک ہونے کے باوجود ان کے خلاف چین کے کریک ڈاؤن کے مزید شواہد ملتے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے وُو کی کہانی کی تردید کر دی۔

دبئی پولیس نے 16 اگست کو کہا کہ ایسے تمام دعوے غلط ہیں کہ کسی چینی خاتوں کو مقامی حکام نے ایک غیر ملک کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے، اور یہ کہ تین ماہ قبل وُو اپنے دوست کے ساتھ آزادانہ طور پر ملک سے چلی گئی۔

بین الاقوامی فوجداری قانون کے ایک پروفیسر وائیل الشارمی نے کہا کہ اگر وُو کا اکاؤنٹ درست ثابت ہو جاتا ہے تو اس سیاہ مقام کی موجودگی انسانیت کے خلاف ایک جرم اورجبری طور پر غائب کیے جانے کے خلاف تمام افراد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مجلس کی ایک خلاف ورزی قرار دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ایسے مقامات پر ایسے افراد کو رکھا جاتا ہے جنہیں ممکنہ طور پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقہ ہائے عملداری کے باہر سے گرفتار کیا جاتا ہے، ان سے ممکنہ طور پر گرفتاری اور آزادانہ عدالتی کاروائی پر قانونی معیارات اور طریق ہائے کار کے مطابق سلوک نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی، نسلی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر ہونے والی گرفتاریاں1976 میں نافذ ہونے والے 1966 کے شہری اور سیاسی حقوق کے اجلاس کی خلاف ورزی ہیں۔

الشارمی نے کہا کہ ایسی گرفتاریوں کی فوجداری ذمہ داری "ان افراد کو حراست میں لینے والے اور اس آپریشن کی ہدایات جاری کرنے والے افراد سے لے کر حکم جاری کرنے والی اعلیٰ قیادت تک جاتی ہے۔"

چین کی جانب سے مخالفین اور دشمنوں کا شکار

حالیہ برسوں میں بیجنگ نے سنکیانگ کی مسلم اکثریتی آبادی کی نگرانی اور انہیں مطیع کرنے کے لیے "سیاسی تعلیمی کیمپوں"، قبل از مقدمہ حراستی مراکز اور جیلوں سمیت 400 تنصیبات میں ایک ملین سے زائد ایغور اور دیگر ترک ملسمانوں کے خلاف وحشیانہ پالیسیوں کی ایک لہر شروع کی۔

ایسی پالیسیوں میں ایغور کی چین کو دوبارہ تحویل بھی شامل ہے۔

ریاض میں جامعہ شاہ سعود میں سیاسیات کے ایک لیکچرار عبداللہ الداخل نے کہا کہ چین ایغور سمیت اپنے مخالفین کے خلاف خفیہ آپریشن کرنے اور ان کا شکار کرنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے معاشی رسوخ کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں کی غیر قانونی ساخت اور چینی علاقہٴ عملداری کے باہر جیلیں مکمل طور پر خفیہ رکھے جانے کا تقاضا کرتی ہیں۔

عبدالنبی بکّر نے کہا کہ دبئی میں خفیہ چینی سیاہ مقام کی تصدیق کرنا مشکل ہے، کیوں کہ اسے خفیہ رکھنے کے لیے چند گھنٹوں میں اسے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنا ممکن ہے۔

بکّر نے کہا کہ وُو کے واقعہ میں ہو سکتا ہے کہ اسے اس لیے حراست میں لیا گیا ہو کہ چینی اسے اور وانگ کو واپس لے جا سکیں اور اسے مخالفانہ سرگرمیاں روکنے پر آمادہ کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک میزبان ملک میں اپنے غلط کاموں پر پردہ ڈالنے اور اپنے سیاسی اور معاشی تعلقات کسی بھی اثر کی انسداد کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500