دہشتگردی

'ہم تمہیں دبوچ لیں گے'، بائیڈن کی کابل بمباروں کو تنبیہہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

26 اگست کو کابل کے ہوائی اڈے کے باہر دو طاقتور بم دھماکوں کے بعد رضاکار اور طبی عملہ ہسپتال کے باہر ایک پک اپ ٹرک سے لاشیں اتارتے ہوئے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات (26 اگست) کو کابل ایئرپورٹ پر مہلک خودکش بم دھماکوں کے مجرموں کو تلاش کرنے کا عہد کیا جن کا دعویٰ دولت اسلامیہ عراق و شام "(داعش-کے) کی خراسان شاخ کی جانب سے کیا گیا ہے۔.

جمعرات کے روز کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر اس وقت دو دھماکے ہوئے جب طالبان کے زیرِ قبضہ افغانستان سے انخلا کی کوشش کے آخری دنوں میں لوگوں کے ہجوم جمع تھے، جن میں 13 امریکی فوجیوں سمیت کم از کم 85 افراد ہلاک ہو گئے۔

بحری کور کے ترجمان میجر جم سٹینجر نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاک اور کئی زخمی ہونے والوں میں دس امریکی بحری فوجی تھے۔

جمعہ کے روز ہسپتالوں میں لاپتہ رشتہ داروں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے لوگوں کی وجہ سے، خدشہ تھا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

image

26 اگست کو کابل کے ہوائی اڈے کے باہر دو دھماکوں کے بعد طبی اور ہسپتال کا عملہ ایک زخمی شخص کو علاج کے لیے گاڑی سے باہر لے جاتے ہوئے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

image

27 اگست کو کابل ائیرپورٹ پر 13 اگست کے جڑواں خودکش بموں، جن میں 13 امریکی فوجیوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے، کی جگہ پر انخلاء کے منتظر افغان باشندوں کے تھیلے اور دیگر سامان دیکھا جا سکتا ہے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

بائیڈن نے کہا، "جنہوں نے یہ حملہ کیا اور جو کوئی بھی امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، یہ جان لیں: ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم بھولیں گے نہیں۔ ہم تمہیں دبوچ لیں گےاور تم سے وصولی کریں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہزاروں شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور 31 اگست تک افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلاء کی آخری تاریخ پر قائم رہے گا۔

جمعہ کے روز پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی تھیں۔ 15 اگست کو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 100،000 سے زائد لوگ ملک سے پرواز کر چکے ہیں۔

بم دھماکے، جس کا دعویٰ داعش-کے نے عماق، اپنے خبری ادارے پر کیا، جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت ہوئے تھے جب سورج نے غروب ہونا شروع کیا تھا۔

جڑواں بم دھماکوں، جنہیں پینٹاگون کے ترجمان جان کربے نے "پیچیدہ حملے" کے طور پر بیان کیا، سے چند ہی گھنٹے پہلے مغربی حکام نے کہا تھا کہ انہیں مخبری ہوئی ہے کہ ایئرپورٹ پر خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

کربے نے کہا کہ ایک بم ایبے گیٹ پر ہوا، جو کہ ہوائی اڈے کا مرکزی داخلی راستہ ہے، "اور کم از کم ایک اور دھماکہ بارون ہوٹل پر یا اس کے نزدیک ہوا، جو تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔

14 اگست کو ہوائی جہازوں اسے اٹھانا شروع کرنے کے بعد سے کچھ ممالک نے انخلاء کے لیے سٹیجنگ پوائنٹ کے طور پر بارون ہوٹل کو استعمال کیا تھا۔

امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے دن کے اوائل میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی جس میں مشوروں کے ایک سلسلے میں اپنے شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ائیر پورٹ جانے سے گریز کریں۔

امریکی اور اس کے اتحادی حکام نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ انہیں مخبری ہوئی ہے کہ داعش-کے سے منسلک خودکش حملہ آور 31 اگست کو انخلاء کی آخری تاریخ سے پہلے ہوائی اڈے پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ بائیڈن نے داعش-کے کی جانب سے دہشت گردی کے "شدید" خطرے کا حوالہ دیا تھا۔

بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے خودکش حملہ آوروں کی جانب سے دھمکی کا حوالہ دیا، جبکہ برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو انتباہ جاری کیا تھا۔

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے انتباہ کے باوجود، طالبان سے فرار ہونے کے لیے بے قرار ہجوم ایئرپورٹ پر جمع ہوتا رہا۔

ہوائی اڈے کے اطراف میں قتل عام

دھماکے ہوائی اڈے کے اطراف میں ایک ہجوم میں ہوئے، جس کے نتیجے میں کچھ متاثرین ایک تعفن زدہ نہر میں منہ کے بل جا گرے۔

میلاد، جو پہلے دھماکے کے جائے وقوعہ پر تھا اور اس کے نام کا صرف پہلا حصہ بتایا گیا ہے، نے اے ایف پی کو بتایا، "لاشیں، گوشت اور لوگ قریبی نہر میں جا گرے تھے۔"

امدادی کارکنوں نے خون میں لت پت کپڑوں میں ملبوس زخمیوں کو چھکڑوں میں نہر کے پار پہنچایا، کیونکہ صدمے سے دنگ متاثرین قتل عام میں اپنے پیاروں کو تلاش کرتے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

ایک شخص نیم بیہوش متاثرہ شخص کو کہنی سے پکڑ کر اس کے سر کو گندے پانی کی سطح سے نیچے پھسلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک گواہ نے اے ایف پی کو بتایا، "جب لوگوں نے دھماکہ سنا تو ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔پھر طالبان نے گیٹ پر جمع ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔"

"میں نے ایک آدمی کو ایک زخمی بچہ ہاتھوں میں اٹھائے دوڑتے ہوئے دیکھا۔"

آسمان پر گہرا دھواں چھایا ہوا تھا جبکہ مرد، خواتین اور بچے جائے وقوعہ سے بھاگ رہے تھے۔

اطالوی این جی او ایمرجنسی نے کہا کہ وہ کابل میں جو ہسپتال چلاتی ہے وہ 60 سے زائد اموات سے بھر چکا تھا، جن میں سے 16 کو ہسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔

ہسپتال کے طبی رابطۂ کار البرٹو زینن نے تنظیم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ زخمی "بول نہیں سکتے تھے، بہت سے لوگ خوفزدہ تھے، ان کی آنکھیں خلا میں کھوئی ہوئی تھیں، وہ خالی نظروں سے گھور رہے تھے"۔

این جی او ایمرجنسی کی صدر روزیلا مکیو نے کہا کہ ہسپتال میں لائی جانے والی لاشیں "سبھی عام شہری تھے: خواتین، بچے"۔

ایک بیان میں، امریکی محکمۂ خارجہ نے ہلاک ہونے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا، بشمول "ایئرپورٹ کے قریب جمع ہونے والے افغانی باشندے جو دوسری جگہ نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملنے کے لیے پُرامید تھے"، اور ان کے عزیزوں سے "دلی تعزیت" کی۔

داعش-خراسان کی خونریز تاریخ

طالبان نے امریکی سربراہی میں لڑنے والی افواج کو ہوائی جہاز سے لوگوں کو نکالنے کی اجازت دی ہے، جبکہ وہ امریکی فوجیوں کے نکلتے ہی اپنی حکومت کو حتمی شکل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

لیکن داعش-کے، طالبان کی جانی دشمن اپنے وحشی حملوں کے ریکارڈ کے ساتھ، کابل میں افراتفری کا فائدہ اٹھانے کی نیت میں تھی۔

سنگاپور میں ایس راجہ رتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ریسرچ فیلو عبدالباسط نے کہا، "گزشتہ رات کے حملوں نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ کوئی بھی گروپ افغانستان میں تشدد پر اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے محفوظ بنانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔"

آسٹریلوی وزیر دفاع پیٹر ڈٹن نے داعش-کے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان سے بھی زیادہ انتہا پسند ہیں اور بنیادی طور پر طالبان کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔"

Iحالیہ برسوں میں، داعش-کے نے مساجد، مزارات، عوامی چوراہوں اور حتیٰ کہ ہسپتالوں تک میں شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔ اس گروہ نے خاص طور پر ان فرقوں کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں وہ آزاد خیال سمجھتا ہے، بشمول شیعہ۔

داعش کی جانب سے سنہ 2014 میں عراق اور شام میں خلافت کے قیام کے اعلان کے چند ماہ بعد، افغانستان میں پاکستانی طالبان سے جدا ہونے والے جنگجوؤں نے ایک مقامی شاخ بنائی، اور داعش کے رہنماء ابوبکر البغدادی کے ساتھ الحاق کا عہد کیا۔.

اگلے سال داعش-خراسان کو مرکزی داعش کی قیادت نے تسلیم کر لیا کیونکہ اس نے شمال مشرقی افغانستان، خاص طور پر کنڑ، ننگرہار اور نورستان صوبوں میں جڑیں بنا لی تھیں۔

اقوام متحدہ کے نگرانوں کے مطابق اس نے کابل سمیت پاکستان اور افغانستان کے دیگر حصوں میں خفیہ سیل بھی قائم کیے۔

"خراسان" خطے کا ایک تاریخی نام ہے، جو آج پاکستان، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیاء کے کچھ حصوں میں ہے۔

گزشتہ برس ، داعش-کے پر ایک حملے کا الزام عائد کیا گیا جس نے دنیا کو چونکا دیا -- کابل کے ایک شیعہ اکثریتی نواحی علاقے میں ایک زچہ وارڈ میں بندوق برداروں نے ایک خونریز ہنگامہ آرائی کی، جس میں 16 ماؤں اور زچاؤں کو قتل کر دیا گیا۔

کیا آپ اس امر سے متعلق خدشات رکھتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو گا؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500