جرم و انصاف

امریکہ فضائی حملوں سے افغان فروسز کی مدد کر رہا ہے جبکہ طالبان کا صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوج، طالبان کے ان عسکریت پسندوں کے خلاف افغان فورسز کی جنگ میں مدد کرنے کے لیے، جو ملک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، افغانستان پر بی-52 جہاز اڑا رہی ہے۔ [سینٹکام]

کابل -- افغان نیشنل ڈیفینس اینڈ سیکورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) افغانستان کے جنوبی شہروں میں، امریکی بمبار طیاروں کی مدد سے طالبان کے ساتھ جنگ کر رہی ہیں۔ یہ بات حکام نے پیر (9 اگست) کو ویک اینڈ پر ہونے والی یلغار کے بعد بتائی جس میں طالبان نے چھہ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ سینکڑوں عسکریت پسند ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں اور روایتی طور پر طالبان کے مضبوط ٹھکانوں -- قندھار اور ہلمند صوبوں میں لڑائی کی خبریں آئی ہیں۔

وزارتِ امورِ داخلہ کے ترجمان میرویس ستانکزئی نے مطابق، طالبان کو "بھاری نقصان" اٹھانا پڑا ہے اور سیکورٹی کی صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "افغان سیکورٹی فورسز شہروں میں گشت کر رہی ہیں"۔

image

طالبان کے حملے کے ایک دن کے بعد، 8 اگست کو قندوز شہر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [سوشل میڈیا]

image

یکم اگست کو لی جانے والی اس فائل فوٹو میں، افغان نیشنل آرمی کمانڈو فورسز ایک سڑک کے کنارے چوکس کھڑی ہیں جبکہ طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان ہرات صوبہ کی انجیل ڈسٹرکٹ میں جنگ جاری ہے۔ امریکہ کی گرین بیرٹس کی طرف سے تربیت یافتہ اور انتہائی جدید ساز و سامان سے لیس افغان آرمی کی خصوصی فورسز، طالبان کے خلاف صفِ اول کا ہتھیار ہیں۔ [ہوشانگ ہاشمی/ اے ایف پی]

دی ٹائمز نے ہفتہ کو خبر دی کہ امریکی فوج نے اے این ڈی ایس ایف کو طالبان کے خلاف لڑائی میں مدد دینے کے لیے فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے -- اور قطر میں موجود ایئر بیس سے بی-52 بمبار طیاروں اور سپیکٹر جنگی جہازوں کو بھیجا ہے۔

ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ بی -52 قندھار، ہرات اور لشکرگاہ کے قریب اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دی ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکہ مسلح ریپیر ڈرون اور اے سی -130 سپیکٹر بندوق بردار جہازوں کو استعمال کر رہا ہے اور وہ ہر روز کم از کم پانچ مہمات کے لیے پرواز کر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان میجر نیکول فریرا نے ہفتہ کے دن اے ایف پی کو بتایا کہ "امریکی فورسز نے حالیہ دنوں میں اپنے افغان شراکت داروں کے دفاع میں بہت سے فضائی حملے کیے ہیں"۔

عسکریت پسند قندھار اور لشکر گاہ پر قبضہ کرنے کے لیے کئی ہفتوں سے کوشش کر رہے ہیں -- دونوں پشتون اقلیتوں کے تعاون سے، جہاں سے طالبان اپنی طاقت حاصل کرتے ہیں -- مگر حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک صرف مضافات تک، یا قرب و جوار کے جھنڈ تک ہی پہنچنے میں ہی کامیاب ہو سکے ہیں۔

افغان نیشنل آرمی کی 215ویں میوند کور کے کمانڈر میجر جنرل سید سمیع صادت نے لشکرگاہ سے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہم طالبان کے قبضہ شدہ، گھروں، سڑکوں اور عمارات کو خالی کروا رہے ہیں"۔

دریں اثناء، یونیسیف نے بچوں میں ہلاکتوں کی خبر دی ہے۔ یونیسیف نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ 72 گھنٹوں میں لڑائی کے دوران کم از کم 27 بچے ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 20 قندھار، 2 خوست اور 5 پکتیا صوبہ میں ہلاک ہوئے۔

تنظیم نے کہا کہ "یونیسیف کو ایسی خبروں پر گہری تشویش ہے کہ مسلح گروہوں کی طرف سے بچوں کو زیادہ سے زیادہ اس تنازعہ میں بھرتی کیا جا رہا ہے"۔

افراتفری اور لوٹ مار

طالبان نے جمعہ سے اب تک، چھہ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے جس سے مقامی شہریوں میں افراتفری پیدا ہو گئی ہے اور ان میں سے بہت سے اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

نمروز کا دارالحکومت زرنج، جمعہ کو طالبان کے قبضے میں آنے والا پہلا شہر تھا۔

یہ شہر -- جو کہ ایرانی سرحد کے قریب واقعہ ہے -- حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم نہیں ہے مگر زرنج میں داخل ہونے کے بعد، طالبان کے عسکریت پسندوں نے شہر کی جیل کے دروازے کھول دیے اور دوسرے مجرموں کے ساتھ طالبان کے قیدی ارکان کو بھی چھوڑ دیا۔ یہ بات حکام نے بتائی۔

ٹوئٹر پر موجود ویڈیوز میں ہجوم کو سرکاری دفاتر کو لوٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہاں وہ میز، دفتر کی کرسیاں، الماریاں اور ٹیلی ویژن چوری کر رہے ہیں۔

ان جھلکیوں کی سچائی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی دن، طالبان کے عسکریت پسندوں نے افغان حکومت کے ترجمان دعوی خان مینپال کو کابل میں ایک مسجد میں قتل کر دیا۔ وزارتِ امورِ داخلہ اور طالبان کے ایک ترجمان نے اس کی تصدیق کی۔

ان کا قتل، طالبان کی طرف سے وزیرِ دفاع بسم اللہ محمدی کو قتل کرنے کی ناکام کوشش اور اس بات کی دھمکی کے کچھ دن کے بعد ہواکہ وہ گروہ کے خلاف امریکہ کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے انتقام میں اعلی انتظامی اہلکاروں کو نشانہ بنائیں گے۔

ہفتہ کو، طالبان نے، اے این ڈی ایس ایف اور مقامی ملیشیاء فورسز کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد، جواز جان صوبہ کے دارالحکومت شبرغان پر قبضہ کر لیا۔ یہ بات جوازجان کے نائب گورنر عبدل قادر مالیہ نے اے ایف پی کو بتائی۔

وزارتِ امورِ داخلہ کے ترجمان ستانکزئی نے اصرا کیا کہ عسکریت پسند شہر کے کچھ حصوں پر ہی قابض ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "سیکورٹی فورسز جنہیں امدادی قوت اور باغی فورسز کی مدد حاصل ہے، ایک بار پھر دہشت گردوں سے شہر کو پاک کر دیں گی"۔

شبرغان کے شہری نے کہا کہ شہری گھروں میں بند ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔

انہوں اے ایف پی سے، ان کا نام نہ بتائے جانے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ "طالبان ہر جگہ ہیں، اپنے جھنڈوں کے ساتھ مگر میں اپنی کھڑکی سے جتنا دیکھ سکتا ہوں، سڑکیں ویران ہیں"۔

یہ شہر سابقہ نائب صدر عبدل رشید دوستم کا گھر ہے جو ترکی سے علاج کروانے کے بعد اسی ہفتے افغانستان واپس آئے ہیں اور اس وقت کابل میں ہیں۔

معاونین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہفتہ کو صدر اشرف غنی سے کمک کی درخواست کرنے کے لیے ملاقات کی۔

ان کی جماعت کے ایک ترجمان احسان نیرو نے کہا کہ "ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ کم از کم 500 کمانڈوز کو تعینات کرے تاکہ ہم شہر کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کام کر سکیں"۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اے این ڈی ایس ایف اہم تنصیبات پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے لڑ رہی ہے۔

ستانکزئی نے کہا کہ کمک جس میں خصوصی فورسز شامل ہیں، کو سرِ پل اور شبرغان بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ شہر جن پر طالبان قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جلد ہی ان کا قبرستان بن جائیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500