سلامتی

طالبان رہنماؤں کی طرف آپے سے باہر عسکریت پسندوں پر قابو پانے سے متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ

سلیمان

image

18 جولائی کو قطر، دوحہ میں طالبان کی مزاکراتی ٹیم کے سربراہ ملّا عبدالغنی برادر (درمیان) اور دیگر عسکریت پسند رہنما۔ [کریم جعفر / اے ایف پی]

کابل – اپنے رہنماؤں کی حکم عدولی کرتے ہوئے مسلسل عوامی املاک کو تباہ اور شہریوں کے خلاف جرائم سرزد کرنے والے جنگجؤں کی کاروائیوں پر قابو پانے کی طالبان رہنماؤں کی استعداد سے متعلق شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

18 جولائی کو اس عید پر، طالبان رہنما ملّا ہیبت اللہ اخنزادہ نے کمانڈروں کو سکولوں اور جامعات کو چلتے رہنے دینے، شہریوں سے عزت کے ساتھ پیش آنے اور صحت کے کلینکس، اداروں اور تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔

انہوں نے پیغام میں کہا، "مجاہدین [طالبان عسکریت پسندوں] کو ہماری ہدایت ہے کہ امارتِ اسلامی کے زیرِ انتظام علاقوں میں دینی اور جدید تعلیم کو خصوصی توجہ دیں، سکول اور جامعات کھلی رکھیں ۔۔۔ اور جارحانہ کاروائیاں کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کریں،"

مزید کہا گیا، "[طالبان] ہیلتھ کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ملک بھر، بطورِ خاص نو مفتوحہ علاقوں میں کلینکس اور مراکزِ صحت کو فعال رکھیں".

image

یکم اگست کو ضلع انجیل، صوبہ ہرات میں افغان نیشنل آرمی اور طالبان کے مابین جھڑپوں کے دوران افغان نیشنل آرمی کا ایک کمانڈو سڑک پر پہرہ دے رہا ہے۔ [ہوشنگ ہسمنی/ اے ایف پی]

یہ پیغام 7-8 جولائی کو نائب سربراہ مزاکرات کار شیر محمّد عبّاس ستانکزئی کے ایران میں افغان حکومت کے ہم منصب کے ساتھ مزاکرات منعقد کرنے اور عوامی تنصیبات کو ہدف نہ بنانے اور شہریوں کا قتل بند کرنے پر اتفاق کرنے کے بعد سامنے آیا۔

مزاکرات کے آخر میں جاری ہونے والے بیان میں طرفین نے ایسے حملوں کی مذمت کی جن میں گھروں، مساجد اور ہسپتالوں کو تباہ کیا جاتا ہے۔

تشدد میں اضافہ

رہنماؤں کے احکامات کے باوجود، طالبان عسکریت پسند مسلسل شہریوں کو بے رحمی سے نقصان پہنچا رہے ہیں اور مزید علاقہٴ عملداری حاصل کرنے کے ساتھ عوامی اداروں کو برباد کر رہے ہیں ۔

حکومتِ افغانستان کے آزادانہ انتظامی اصلاحات اور سول سروس کمیشن (آئی اے آر سی ایس سی) کے چیئرمین نادر نادری نے 15 جولائی کو کہا کہ آئی اے آر سی ایس سی کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان کی جانب سے حال ہی میں قبضہ کیے جانے والے اضلاع میں ناگزیر سرکاری خدمات معطل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد یا تو زخمی ہو گئی یا صوبائی صدرمقام کو بھیج دی گئی۔

نادری نے نقصان کا تخمینہ 500 ملین ڈالر لگاتے ہوئے کہا کہ طالبان نے 116 اضلاع میں 260 سرکاری عمارتیں اور اثاثے تباہ کیے۔

نادری نے کہا کہ طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں میں تیرہ ملین افغان سوشل سروسز سے محروم ہوئے اور طالبان کی کاروائیوں سے خواتین سمیت 50,000 ملازمین متاثر ہوئے۔

نادری نے کہا، "طالبان حالیہ ہفتوں میں قبضہ کیے گئے اضلاع میں عوامی تنصیبات تباہ کرنے اور لوٹ مار کرنے کے ذمہ دار ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ طالبان کے ایک آسودہ حال افغانستان کی تعمیر کے عزم کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا۔

درایں اثناء، کابل میں امریکی سفارتخانے نے پیر (2 اگست) کو ایک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ایک ممکنہ جنگی جرم کے طور پر اس کی تعریف کی، جس میں طالبان نے شہریوں کا قتلِ عام کیا۔

سفارتخانے نے ایک ٹویٹ میں کہا، "سپِن بولدک، قندھار میں طالبان نے انتقامی قتل میں درجنوں شہریوں کا قتلِ عام کیا۔ یہ قتل جنگی جرائم پر مشتمل ہو سکتے ہیں؛ ان کی تحقیقات کی جانی چاہیئں اور ذمہ دار طالبان جنگجوؤں یا کمانڈروں کا احتساب ہونا چاہیئے۔"

مزید کہا گیا، "طالبان قیادت کو ان کے جنگجوؤں کی جانب سے کیے گئے جرائم کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیئے۔ اگر آپ ابھی اپنے جنگجوؤں کو قابو نہیں کر سکتے، تو بعد میں انتظامیہ میں آپ کا کوئی کام نہیں۔"

طالبان کی منافقت

کابل اساسی سیاسی تجزیہ کار مقصود حسنزادہ نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، "طالبان رہنماؤں کے الفاظ اور اس گروہ کے عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں کھلا تضاد ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ناقابلِ تردید مثالیں عوامی اداروں اور اثاثوں سے طالبان کی دشمنی کی تصدیق کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی ہے، جس میں دکھایا گیا کہ کیسے طالبان نے ان اضلاع پر قبضہ کے بعد صوبہ فاراح کے ضلع انار دارا میں ایک انتظامی عمارت اور ملستان، صوبہ غزنی میں ایک دیگر تنصیب کو تباہ کر دیا۔

وزارتِ امورِ داخلہ کے نائب ترجمان حامد روشن نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے خود کو انسانیت، اسلام یا افغان معاشرے کے اصولوں سمیت کسی اصول کا پابند نہیں کر رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے قندھار، ہرات، فاراح، فریاب اور تاخار صوبوں میں عوامی عمارتوں کو تباہ کیا اور درجنوں شہریوں کو شہید کیا۔

"انہوں نے صرف قندھار ہی میں سینکڑوں شہریوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالا اور درجنوں معصوم افراد کا قتلِ عام کیا۔"

انہوں نے کہا کہ طالبان کسی اصولِ جنگ کی پاسداری نہیں کرتے۔ وہ شہریوں کے گھروں کو ڈھالوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور بالآخر انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔

فریاب کے ایک 25 سالہ رہائشی غیبت اللہ نے کہا کہ طالبان رہنماؤں کے قول اور ان کے جنگجوؤں کے حقیقی فعل میں بہت بڑا فرق ہے۔

واقعاتی مثالوں میں، اس نے طالبان کی جانب سے ضلع قیصر میں پولیس ہیڈکوارٹرز اور متعدد سیکیورٹی ناکوں، ضلع خواجہ سبزپوش میں ایک پل اور درجنوں دکانوں کی تباہی حوالہ دیا۔

اس نے مزید کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران، طالبان جنگجوؤں نے میمنہ شہر پر مارٹر گولے پھینکے، جس سے ایک امام مسجد اور متعدد عورتیں اور بچے جاںبحق ہو گئے۔

’طالبان کا کوئی بھروسہ نہیں‘

غیبت اللہ نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کو افغان ایسے جنگجوؤں کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو اپنے رہنماؤں کو نظرانداز کر رہے ہیں، اس نے اس امر پر زور دیا کہ افغانوں کو طالبان رہنماؤں کے بیانات پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔

ایک عسکری تجزیہ کار زلمی افغانیار نے کہا کہ طالبان رہنماؤں نے بارہا افغان عوام کے مفاد میں قومی منصوبوں کی معاونت اور تحفظ کا دعویٰ کیا ہے اور انہوں نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات دی ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ پر دست درازی نہ کریں۔

لیکن، انہوں نے کہا کہ حقیقت اس سے مختلف ہے، کیوںکہ طالبان ارکان اپنے رہنماؤں کے احکامات پر قطعاً عمل نہیں کرتے۔

افغانیار نے کہا کہ طالبان عسکریت پسند قومی منصوبوں میں رکاوٹ بنتے، عوامی اداروں کو تباہ اور شہریوں کو ہدف بناتے ہوئے جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے اپنے رہنماؤں کی نافرمانی نے طالبان رہنماؤں کے بیانات اور نعروں پر اعتبار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500