صحت

مشکوک چینی ویکسینز نے پاکستان کی کووڈ-19 کے ساتھ جنگ سست کر دی

از زرک خان

image

پاکستانی محنت کش جو مشرقِ وسطیٰ کی پرواز پر جانا چاہتے ہیں 28 جون کو اسلام آباد میں ایک ویکسین لگانے کے مرکز پر فائزر ویکسین کی خوراک لگوانے سے قبل اندراج کروانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ بہت سے ممالک جہاں پاکستانی کام کرنا اور سفر کرنا چاہتے ہیں داخلے کے لیے چینی ویکسینز کو قبول نہیں کرتے۔ [فاروق نعیم / اے ایف پی]

اسلام آباد -- چین کی جانب سے عطیہ کردہ ویکسینز کی استعداد اور حفاظت پر شکوک نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کروا دیا ہے، جس میں مظاہرین پاکستان میں مغربی ممالک کے تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین کے ٹیکوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان فروری میں شروع ہونے والی ٹیکے لگانے کی سرکاری مہم کے جزو کے طور پر اپنے شہریوں کو زیادہ تر چینی ویکسینز -- سائنوفارم، سائنوویک اور کین سائنو بائیو -- کے ٹیکے لگاتا رہا ہے۔

البتہ، پاکستانی، بشمول سرکاری ملازمین اور محکمۂ صحت کے اہلکار، چینی ویکسین لگوانے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں ان کی استعداد پر شک ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف کارروائی کی نگرانی کرنے والے ایک سرکاری ادارے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے مطابق، 3 فروری کو ویکسین لگانے کی مہم شروع ہونے کے بعد سے، جمعہ کے دن (4 جولائی) تک، پاکستان نے اپنی 220 ملین کی آبادی میں سے 3.2 ملین افراد کو ویکسین لگائی ہے۔

image

پاکستان نے 2 جولائی کو اقوامِ متحدہ کی پشت پناہی کی حامل عالمی پہل کاری کوویکس کے ساتھ شراکت داری میں امریکہ سے موڈرنا کورونا وائرس ویکسین کی 2.5 ملین خوراکیں وصول کی تھیں۔ [امریکی سفارتخانہ اسلام آباد]

image

20 جون کو کراچی میں محکمۂ صحت کا ایک اہلکار ایک شہری کو سائنوفارم کورونا وائرس ویکسین کا ٹیکہ لگاتے ہوئے۔ [زرک خان/پاکستان فارورڈ]

کووڈ-19 ویکسین کا کم از کم ایک ٹیکہ لگوانے والی دنیا کی آبادی کی شرح فیصد کا حوالہ دیتے ہوئے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسلام آباد میں این سی او سی کے ایک اہلکار نے کہا، "اعدادوشمار عالمی اوسط 23.8 فیصد کے مقابلے میں پاکستان میں عالمی وباء کے خلاف جنگ میں ویکسینز کی انتہائی کم کوریج کو ظاہر کرتے ہیں۔"

اہلکار کا مزید کہنا تھا، "اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی چینی ساختہ ویکسین کی اثر انگیزی اور حفاظت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔"

کسی بھی دوسرے انتخاب کو باہر نکال کر، چینی ویکسینز کی دستیابی نے پاکستانیوں، خصوصاً تارکینِ وطن محنت کشوں میں اشتعال پیدا کر دیا ہے۔

سعودی عرب جانے کے خواہشمند سینکڑوں پاکستانیوں نے 28 جون کو اسلام آباد میں مرکزی ویکسینیشن مرکز پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، ان کا مطالبہ تھا کہ حکام صرف یورپی یا امریکہ ساختہ ویکسینز، جیسے کہ ایسٹرازینیکا یا فائزر، لگائیں تاکہ وہ دیارِ غیر میں کام دوبارہ شروع کر سکیں۔

سعودی حکام نے ابھی تک کسی بھی چینی ساختہ ویکسین کی ان کے قابلِ بھروسہ ہونے پر تشویشوں کی وجہ سے منظوری نہیں دی، جس سے ہزاروں پاکستانی محنت کشوں اور حاجیوں کا ملک میں داخلہ مشکل ہو گیا ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک تارکِ وطن محنت کش، نجم ولی نے کہا، "تمام ترقی یافتہ ممالک، بشمول سعودی عرب، چینی ساختہ ویکسینز کو ان کی استعداد اور حفاظت پر تشویشوں کی وجہ سے قبول نہیں کرتے۔"

ان کا کہنا تھا، تاہم، پاکستان متواتر چینی ساختہ ویکسینز وصول کرتا رہا ہے، جو کہ لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

3 جولائی کو این سی او سی نے تھوڑا ترس کھایا، اور اعلان کیا کہ طبی عملہ ان افراد کو امریکی ساختہ موڈرنا کورونا وائرس ویکسین لگائے گا جن کو سفر کرنے کے لیے یہ درکار ہے۔

ایک بیان میں این سی او سی کا کہنا تھا کہ ویکسین "دیارِ غیر میں مقیم ان محنت کشوں کے لیے دستیاب ہے جن کے لیے ایک معتبر ویزہ/اقامہ [رہائشی اجازت نامہ] کے ساتھ ان ممالک میں ملازمت کے لیے سفر کرنا ضروری ہے جہاں فی الحال چینی ویکسینز کو قبول نہیں کیا جاتا۔"

ویکسین سفارتکاری

کووڈ-19 ویکسینز کی تیاری اور عطیہ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ رہا ہے جن سے بیجنگ نے کووڈ-19 کو مشکوک طور پر سنبھالنے کو چھپانے کی کوشش کی ہے اور اس کے بعد غلط معلومات پھیلانے کی مہمات چلائی ہیں جن کا مقصد عالمی وباء کے ماخذوں کے بارے میں جھوٹ پھیلانا اور خود پر لگے الزام کو کسی اور پر لگانا تھا۔.

لیکن چین کے تدارکِ امراض کے ممتاز اہلکار نے سرِعام چینی ساختہ ٹیکوں کی اثر انگیزی پر تشویشوں کا اعتراف کیا ہے اور ملک کی کورونا وائرس ویکسینز کی استعداد بڑھانے کے لیے ایک ممکنہ منصوبہ بنانے کو کہا ہے۔

چینی مرکز برائے کنٹرول و تدارکِ امراض کے ڈائریکٹر، گاؤ فو، نے 10 اپریل کو چینگڈو میں ایک کانفرنس کو بتایا کہ محکمہ "غور کر رہا ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے کہ موجودہ ویکسینز کی اثر انگیزی زیادہ نہیں ہے".

بی بی سی کے مطابق، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چینی ویکسینز، بشمول سائنوویک اور سائنوفارم کی خوراکوں کی "حفاظتی شرح بہت زیادہ بلند نہیں ہے

22 جون کو دی نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ کئی ممالک جنہوں نے چینی ساختہ ویکسینز پر اعتماد کیا تھا، سے حاصل شدہ اعدادوشمار کا معائنہ ان تشویشوں کی تصدیق کرتا ہے۔

ڈیٹا کا حساب رکھنے والے ایک منصوبے، ہماری دنیا ڈیٹا میں، کے مطابق، مثال کے طور پر سیچلوئیس، چلی، بحرین اور منگولیا میں، 50 سے 68 فیصد آبادی نے مکمل طور پر ٹیکے لگوا لیے ہیں۔

اخبار کی تحقیق کے مطابق، البتہ چوٹی کے 10 ممالک جن میں وسط جون تک کووڈ-19 کی وباء سب سے زیادہ تھی، یہ چاروں ممالک ان میں شامل تھے۔

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ایک ماہرِ وبائیات، جن ڈونگیان نے کہا، "اگر ویکسینز اتنی اچھی ہیں، تو ہمیں یہ چال نظر نہیں آنی چاہیئے۔ اس کے تدارک کی ذمہ داری چینیوں پر عائد ہوتی ہے۔"

بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجیکل پراڈکٹس میں تیار ہونے والی، سائنوفارم ویکسین کی اثر انگیزی کی شرح 78.1 فیصد جبکہ سائنوویک کے ٹیکوں کی اثر انگیزی 51 فیصد ہے۔

اس کے مقابلے میں، امریکی-جرمن فائزر-بائیو این ٹیک اور امریکی ساختہ موڈرنا ویکسینز کی اثر انگیزی کی شرحیں بالترتیب 95 فیصد اور 94 فیصد ہیں۔

امریکی امداد

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ 2 جولائی کو امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی پشت پناہی کی حامل عالمی پہل کاری کوویکس کے ساتھ شراکت داری میں پاکستان کو موڈرنا ویکسین کی 2.5 ملین خوراکیں عطیہ کی ہیں۔

امریکی عارضی سفیر اینجلا اگیلر نے کہا، "یہ ویکسینز زندگیاں بچائیں گی اور اس بحران سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کریں گی، جس نے ہمارے دونوں ممالک میں بہت سے خاندانوں اور برادریوں کو تباہ کر دیا ہے"۔

انہوں نے کہا، "ویکسین شدہ عوام اس معاشی اور سماجی تعامل کو بھی واپس لانے میں مدد کرے گی جس کا ہم سب خیرمقدم کرتے ہیں۔"

وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے 2 جولائی کو ٹوئٹر پر کہا تھا، "یہ ویکسینز پاکستان میں جاری ویکسینیشن کی مہم کو تیز کریں گی۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "عالمی وباء کے خلاف ہماری جنگ میں امریکہ کی جانب سے متواتر مدد کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500