صحت

چین کی کووڈ-19 'عالمی عوامی بھلائی' ایک خراب صورتحال کو بدتر کر رہی ہے؟

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

29 جون کو بوگور ہسپتال کے باہر لگائے گئے ایک خیمے میں طبی اہلکار کووڈ-19 کے مریضوں کی خبرگیری کرتے ہوئے، جبکہ انڈونیشیا میں پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے۔ [آدتیہ اجی/اے ایف پی]

بیجنگ -- بیجنگ کے پرندے کا گھونسلہ نامی اسٹیڈیم میں کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کے ایک شاندار جشن میں سوموار (28 جون) کی شام کو ' چین کا کووڈ-19 کو 'شکست' دینا اہم ترین موضوع تھا۔

انتہائی فضول خرچی سے سجائے گئے شو میں خصوصیت کی حامل چیزوں میں کمیونسٹ تاریخ کے مضبوطی کے ساتھ کوریوگراف کیے گئے مقررہ شہ پارے، ماؤ زیدونگ سے لے کر صد شی جن پنگ تک اہم قائدین کو بڑی سکرین پر خراجِ تحسین پیش کرنا، 100 ٹرمپٹ، اور اس وقت خلاء میں موجود چینی خلاء بازوں کے ایک گروہ کی جانب سے تہنیتی پیغام شامل تھے۔

تاہم شو میں سے چین کی حالیہ مضطرب تاریخ کے تکلیف دہ ابواب خارج تھے: قحط، ثقافتی انقلاب کے اخراج، تیانانمن اسکوائر میں احتجاجی طلباء پر کریک ڈاؤن، ہانگ کانگ میں جمہوریت حامی بغاوت، اور ایک ملین سے زائد یغوروں اور سنکیانگ کے علاقے میں دیگر مسلمانوں کی جبری حراست اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں۔

اس کی بجائے، فن کا مظاہرہ کرنے والوں نے فخریہ طور پر ہوا میں مُکے لہرائے، رقص کیا اور جماعت کی جھلکیاں تھیڑ کے انداز میں پیش کیں۔

image

24 دسمبر کو بحرینی افراد دارالحکومت مانامہ میں بحرینی مرکز برائے بین الاقوامی نمائش و اجتماع میں اپنی کووڈ-19 ویکسین کی اسناد دکھاتے ہوئے۔ [مازن مہدی/اے ایف پی]

ایک خصوصی انتساب چین کے کووڈ-19 کی عالمی وباء سے نمٹنے کے نام کیا گیا، جس میں فنکاروں نے ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) اور سپاہیوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔

ایک 'عالمی عوامی بھلائی'

صدر شی نے محتاط طریقے سے عالمی وباء، جس کا ظہور وسطی چینی شہر ووہان سے ہوا تھا، کو ایک نئے پیرائے میں جماعت کی تنظیم اور ان کی نگرانی میں چینی لچکداری کی فتح کے طور پر بیان کیا۔

عالمی وباء کے پھوٹنے کے بعد سے، چینیوں کو ایسے ہی پراپیگنڈے میں غرق رکھا گیا ہے اور ایک ریاستی آلہ جو معلومات کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے، خصوصاً انٹرنیٹ پر، تیزی کے ساتھ اختلاف کرنے والے خیالات کو مٹا دیتا ہے۔

چینی سفارتکاروں نے چین سے باہر بیانیہ ترتیب دینے اور ساتھ ہی ساتھ وائرس کے ماخذوں پر غلط معلومات پھیلانے اور چینی ساختہ ٹیکوں کی بہتر متبادل کے طور پر تشہیر کر کے مغربی ممالک کی جانب سے تیار کردہ ویکسینز کی اثرانگیزی پر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی ہے۔

چین نے پچھلے سال اپنی ویکسین سفارتکاری مہم کا آغاز کیا تھا، جس میں شی نے ایک ایسا ٹیکہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے باآسانی ذخیرہ کیا جا سکے اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں، خصوصاً غریب ممالک تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے اسے "عالمی عوامی بھلائی" قرار دیا، ایک فقرہ جسے جماعت کے دیگر قائدین کی جانب سے دوہرایا گیا۔

زیادہ مہنگی ویکسین کی خریداری کرنے سے قاصر ممالک اور زیادہ طلب والے ممالک کو ویکسین کی رسد بیجنگ کی نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کا کلیدی عنصر ہے۔

90 سے زائد ممالک چین کی بنی ہوئی کووڈ-19 ویکسین استعمال کر رہے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مقامات میں سے چند ایک میں وائرس کے بہت زیادہ پھیلاؤ کو خبردار کرنے والے انتباہ کے طور پر لینا چاہیئے۔

چینی ویکسینیشنز کے درمیان وبائیں

چین کی ویکسین سفارتکاری کی کوششیں صرف اتنی ہی مؤثر ہیں جتنی کہ اس کی جانب سے پیش کی جانے والی مصنوعہ کا معیار مؤثر ہے، اور ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ معیار کا فقدان ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ اپریل میں، چینی مرکز برائے کنٹرول و تدارک بیماری کے سربراہ، گاؤ فو، نے اعتراف کیا تھا کہ محکمہ "غور کر رہا ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے کہ موجودہ ویکسین کی اثرانگیزی بلند نہیں ہے۔"

بی بی سی نے کہا کہ ان کا کہنا تھا موجودہ ویکسینز، بشمول سائنوویک بائیوٹیک اور سائنوفارم، "میں حفاظت کی بہت بلند شرحیں نہیں ہیں۔"

22 جون کو دی نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ کئی ممالک جنہوں نے چینی ساختہ ویکسینز پر اعتماد کیا تھا اس سے موصول ہونے والے اعدادوشمار کا معائنہ ان تشویشوں کی تصدیق کرتا ہے۔

ڈیٹا کا حساب رکھنے والے ایک منصوبے، ہماری دنیا ڈیٹا میں، کے مطابق، مثال کے طور پر سیچلوئیس، چلی، بحرین اور منگولیا میں، 50 سے 68 فیصد آبادی نے مکمل طور پر ٹیکے لگوا لیے ہیں۔

اخبار کی تحقیق کے مطابق، لیکن چوٹی کے 10 ممالک جن میں وسط جون تک کووڈ-19 کی وباء سب سے زیادہ تھی، یہ چاروں ممالک ان میں شامل تھے، اور چاروں نے سائنو فارم اور سائنوویک کی جانب سے تیار کردہ ویکسین پر بہت زیادہ انحصار کیا تھا۔

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ایک ماہرِ وبائیات، جن ڈونگیان نے کہا، "اگر ویکسینز اتنی اچھی ہیں، تو ہمیں یہ چال نظر نہیں آنی چاہیئے۔ اس کے تدارک کی ذمہ داری چینیوں پر عائد ہوتی ہے۔"

بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجیکل پراڈکٹس میں تیار ہونے والی، سائنوفارم ویکسین کی اثر انگیزی کی شرح 78.1 فیصد جبکہ سائنوویک کے ٹیکوں کی اثر انگیزی 51 فیصد ہے۔

اس کے مقابلے میں، امریکی-جرمن فائزر-بائیو این ٹیک اور امریکی ساختہ موڈرنا ویکسینز کی اثر انگیزی کی شرحیں بالترتیب 95 فیصد اور 94 فیصد ہیں۔

پریشان کن اعدادوشمار

دی نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ کوئی بھی ویکسین مکمل طور پر پھیلاؤ کو نہیں روکتی، لیکن چینی ٹیکوں کی اثر انگیزی کی نسبتاً کم شرحیں حالیہ وباؤں کے ممکنہ سبب کے طور پر شناخت کی گئی ہیں۔

ایڈیلیڈ، آسٹریلیا میں، فلنڈرز یونیورسٹی کالج آف میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ کے ایک پروفیسر، نکولائی پیٹرووسکی کے مطابق، تمام تر ثبوت کے ساتھ، یہ فرض کرنا برمحل ہے کہ سائنوفارم ویکسین کا پھیلاؤ کو روکنے پر سب سے کم اثر ہے۔

انہوں نے اخبار کو بتایا کہ چینی ٹیکوں کا ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ ویکسین لگوانے والے میں ہو سکتا ہے کہ چند ایک یا کوئی علامت نہ ہو اور پھر بھی وہ دوسروں تک وائرس پھیلا دے۔

امریکہ میں ٹینیسی ریاست میں نیشویلے میں وینڈربلٹ یونیورسٹی میں نیشنل فاؤنڈیشن فار انفیکشیئس ڈیزیز کے طبی ڈائریکٹر، ولیم شیفنر نے کہا کہ چینی ٹیکوں کی اثر انگیزی کی شرحیں اتنی کم ہو سکتی ہیں کہ "وہ کچھ پھیلاؤ کو برقرار رکھیں، نیز بہت زیادہ ویکسین لگوانے والی آبادی میں کافی زیادہ مقدار میں بیماری پیدا کر دے، حتیٰ کہ یہ بہت حد تک لوگوں کو ہسپتال سے باہر رکھتی ہے۔"

لیکن حالیہ اعدادوشمار پریشان کن ہیں۔

انڈونیشی میڈیکل ایسوسی ایشن کی خطرے کی تخفیفی ٹیم کے مطابق، مثال کے طور پر، انڈونیشیا میں، 350 سے زائد ڈاکٹروں اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کو سائنوویک کے ساتھ مکمل طور پر ویکسین شدہ ہونے کے باوجود کووڈ-19 کی بیماری لگ گئی۔

فروری اور 7 جون کے درمیان، ملک بھر میں بیماری سے 61 ڈاکٹر انتقال کر گئے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، ان میں سے دس نے چینی ساختہ ویکسین لگوائی تھی۔

ان اعدادوشمار نے سنگاپور کے میڈیکل سروسز کے ڈائریکٹر، کینتھ ماک کو ویکسینز کے معیار میں فرق یاد دلا دیا ہے۔

18 جون کو ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا، "یہ مسئلہ فائزر کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔ یہ دراصل سائنوویک ویکسین کے ساتھ وابستہ ایک مسئلہ ہے۔"

باقی ہر جگہ سے، چینی ساختہ ویکسینز لگوانے کے باوجود لوگوں کے بیمار پڑنے کی وسیع اطلاعات ملتی رہی ہیں۔

بحرین اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پہلے دو ممالک تھے جنہون نے آخری مرحلے کی طبی آزمائش کے اعدادوشمار جاری ہونے سے بھی پہلے سائنوفارم کے ٹیکوں کی منظوری دے دی تھی۔

ہماری دنیا ڈیٹا میں، کے مطابق، بحرین نے کہا تھا کہ اس کے ویکسین لگانے کے پروگرام شروع ہونے کے بعد "معمول کی زندگی کی طرف واپسی" ہو جائے گی، لیکن 29 مئی کو ملک میں فی ملین لوگوں میں سے کووڈ-19 کے روزانہ 1،923 کیس رجسٹر ہو رہے تھے۔

جبکہ بحرین اور یو اے ای کے حکام نے اپنے ویکسین لگانے کے پروگراموں کا دفاع کیا ہے، وہ ایک بوسٹر ٹیکے -- ایک تیسری خوراک -- کی پیشکش بھی کر رہے ہیں جس میں سے ایک فائزر ویکسین بھی ہے۔

ایک سخت انتباہ

بیجنگ کی کووڈ-19 کی خراب ٹیسٹ کٹوں، ناقص وینٹی لیٹروں اور "جعلی" ماسک اور دیگر پی پی ای کی برآمدات ایک اور انتباہ کا کام کرتی ہیں۔

گزشتہ برس عالمی وباء کے عروج پر، پاکستانی ہسپتالوں نے کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے محکمۂ صحت کے اہلکاروں میں بیماری اور اموات کے سلسلے کے بعد چین کی جانب سے بنائے گئے پی پی ای کو مسترد کر دیا تھا۔

پاکستانی حکام کو یہ بھی معلوم ہوا کہ کووڈ-19 کا سراغ لگانے والی چینی ساختہ کٹیں غلط نتائج دے رہی تھیں۔

گزشتہ جون میں، امریکی محکمۂ انصاف نے ایک چینی کمپنی پر اپریل میں جب کووڈ-19 کی وباء دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی، تقریباً نصف ملین نقلی اور غیر معیاری این95 ماسک فروخت کرنے پر مقدمہ کر دیا تھا۔

گرمیوں کے آخر میں جب پاکستان میں کوروناوائیرس سے اموات میں اضافہ ہوا، تو سینکڑوں مریضوں کی اموات کو چین میں تیار کردہ غیر معیاری وینٹی لیٹرز کے ساتھ منسوب کیا گیا۔

دریں اثناء، گزشتہ اگست میں، جب پاکستانی ریگولیٹرز نے سین سائنوبائیو اور بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چین کی جانب سے تیار کی جا رہی ویکسین کی آخری مرحلے کی جانچ کی منظوری دی تھی تو محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی وباء کے دوران منافعے کو حفاظت پر ترجیح دینا چین کی تاریخ رہی ہے اور چینی ساختہ ویکسینز بھی مختلف نہیں ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500