سلامتی

افغان، پاکستانی علماء کی جانب سے طالبان کے افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کی مذمت

از سلیمان

image

افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے علمائے دین افغان جنگ کے جاری رہنے کی مذمت کرنے اور طالبان سے امن کے خواہش مند ہونے کا مطالبہ کرنے کے لیے 10 جون کو مکہ، سعودی عرب میں جمع ہوئے۔ [افغان وزارتِ حج و مذہبی امور]

کابل -- افغان اور پاکستانی علمائے دین نے گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی میزبانی میں ایک کانفرنس کے بعد مشترکہ طور پر طالبان کے افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کی مذمت کی۔

دو روزہ اجلاس 10 جون کو شہرِ مکہ میں مسلم ورلڈ لیگ کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔

دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے علمائے دین نے گفت و شنید کی حمایت میں آواز اٹھائی اور دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں جاری خون ریزی کو فوری طور پر روکا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے جنگ کی رفتار کی مذمت بھی کی کہ انتہاپسندی، دہشت گردی اور خودکش حملے سبھی اسلامی اقدار کے خلاف ہیں۔

علماء نے افغانستان میں امن عمل میں عملی اقدامات اٹھانے اور فتاویٰ کا انتظام کرنے کے لیے دونوں ممالک سے بڑے علماء پر مشتمل ایک رابطہ کونسل قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

افغان وزیر برائے حج و دینی امور محمد قاسم حلیمی اور پاکستانی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے اجلاس کی صدارت کی۔

حلیمی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ سنہ 2018 کے موسمِ گرما میں سعودی عرب میں علمائے اسلام کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران افغانستان، پاکستان اور سعودی عرب نے افغانستان میں امن عمل پر گفتگو کرنے کے لیے کسی روز علماء کے سہ طرفہ اجلاس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مہینے ہونے والا اجلاس ناگزیر تھا کیونکہ، پہلی بار، پاکستانی علماء نے خصوصی طور پر امن عمل میں افغانستان کے موقف اور افغان حکومت کے جواز کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام اور علماء نے زور دیا کہ افغانستان میں استحکام کا مقصد ہے پاکستان میں استحکام۔

مشترکہ ربط

حلیمی کے مطابق، اجلاس کے نتیجے میں قائم ہونے والی مشترکہ رابطہ کونسل ہر ایک ملک کے خلاف فتاویٰ کو روکنے میں مدد دے گی۔

ماضی میں، افغان اور پاکستانی علمائے اسلام نے متنازع فتاویٰ جاری کیے، جس سے امت میں تذبذب پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا، "اجلاس کے اعلامیہ کی بنیاد پر، دونوں اطراف یقینی بنائیں گی کہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہ ہو، اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو ہر ایک ملک کے علماء کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔"

حلیمی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے علماء نے اتفاق کیا کہ جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے اور یہ "جہاد" نہیں ہے اور یہ کہ فساد کسی کی بھی مدد نہیں کرتا۔

حلیمی نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیر برائے مذہبی امور، قادری نے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں تشدد، خودکش حملے اور تخریبی کارروائیاں بلاجواز ہیں اور اس لیے دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے علماء کو چاہیئے کہ تشدد اور انتہاپسندی کی ایسی کارروائیوں کی مذمت کریں۔

حلیمی نے کہا، "میری مکہ میں امامِ کعبہ اور حرمین شریفین کے عمومی صدر عبدالرحمان السدیس سے بہت مفید بات چیت ہوئی تھی۔"

انہوں نے کہا، السدیس نے اجلاس کے اعلامیہ کی حمایت کی اور دونوں متحارب فریقین سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جاری جنگ بند کر دی جائے۔ انہوں نے ۔۔۔ افغان امن عمل کی بھی حمایت کی اور زور دیا کہ افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔"

مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل، ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ افغانستان میں جنگ جاری رکھنے سے کسے کو فائدہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے دونوں فریقین سے فوری طور پر لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغان علماء کونسل کے چیئرمین، سردار محمد زدران نے کہا کہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے علماء نے انتہاپسندی کی بیخ کنی کرنے اور متاخر اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعے دوستانہ انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ مشغول رہنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔

زدران نے کہا کہ مکہ میں ہونے والے اجلاس کا مقصد یہ اعتراف کرنے میں افغان اور پاکستانی علماء کی آوازوں کو ملانا تھا کہ افغان جنگ بلاجواز ہے اور یہ کہ افغانستان میں ایک دیرپا امن قائم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا، "مکہ کے اجلاس میں شرکاء نے اتفاقِ رائے کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ جاری جنگ بلاجواز ہے اور افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔"

قیامِ امن

افغان مکہ میں ہونے والے اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

کابل کے ایک مکین، 30 سالہ شیر شاہ کوہ دامنی نے کہا، "اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان کا خون بہنے کی حوصلہ شکنی کی ہے، اور ہم پوری مسلمان دنیا سے تعلق رکھنے والے علماء سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں اور جاری لڑائی کو ختم کرنے اور افغانستان میں ایک دیرپا امن قائم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔"

فریاب سے مشرانو جرگہ کے ایک رکن، گل محمد رسُولی نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان کے معروف علماء نے کھلے عام افغان جنگ کی مذمت کی ہے اور دونوں فریقین کو لڑائی ختم کرنے اور امن قائم کرنے پر قائل کرنے میں مدد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا، "بطور ایک عوامی نمائندہ، میں مکہ میں ہونے والے اجلاس کے نتیجے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔"

رسُولی نے کہا، "اب جب کہ غیر ملکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں، طالبان کے پاس لڑائی جاری رکھنے اور افغان عوام کو مارنے کی کوئی یقینی دلیل موجود نہیں ہے۔"

ان کا کہنا تھا چونکہ پاکستان علماء نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان میں لڑائی اور عدم تحفظ پاکستان میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا سبب بنے گا، تو امن کی رفتار میں اضافہ کرنے اور جنگ ختم کرنے میں ایسے اجلاسوں کا جاری رہنا مفید ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے علماء دونوں ممالک کے پُرامن اور مستحکم رہنے کو یقینی بنانے کے لیے اپنی مشغولیت کو جاری رکھیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500