سلامتی

ہرات سے گرفتار شدہ طالبان سیل کے ایرانی انقلابی گارڈز سے مراسم

از علی

افغان انٹیلیجنس سروس، نیشنل ڈائریکٹوریٹ سیکیورٹی (این ڈی ایس) نے 2 جون کو ہرات صوبہ میں ایک سات رکنی طالبان سیل کو گرفتار کیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق، اس سیل کو مغربی افغانستان میں حملے کرنے کے لیے، ایرانی حکومت کی طرف سے مدد مل رہی تھی۔ [علی/ سلام ٹائمز]

ہرات - حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈائریکٹوریٹ سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے عملے نے 2 جون کو ہرات شہر میں 7 ارکان پر مبنی طالبان کے ایک سیل کو گرفتار کیا جسے ایرانی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔

ہرات کے گورنر سید واحد قتالی نے 3 جون کو کہا کہ یہ گروہ ہرات شہر میں دہشت گردی کے ایک درجن واقعات میں ملوث تھا۔

قتالی نے کہا کہ "ان دہشت گردوں کو ملا شیر احمد جو ضلع گزاراہ میں طالبان کے کٹھ پتلی گورنر ہیں اور ملا کریم شینداندی جو شینداد ضلع میں طالبان کے عسکری سربراہ ہیں، نے قتل اور کار بم دھماکے کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

قتالی نے کوئی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد ملزمان ہمسایہ ممالک سے بھرتی کیے جانے والے کرایے کے فوجی تھے۔

image

ہرات کے حکام، 3 جون کو ہرات شہر میں، طالبان کے سیل کے ان گرفتار شدہ ارکان کو پیش کر رہے ہیں جنہیں مبینہ طور پر ایرانی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ [عمر/ سلام ٹائمز]

قتالی نے کہا کہ طالبان ہمسایہ ممالک اور علاقے کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی خدمت کرنے والے عناصر اور کرایے کے فوجی ہیں اور وہ ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو افغانستان کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہرات کے ایک سینئر اہلکار نے سلام ٹائمز کو اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے سیل کو ایرانی حکومت کی طرف سے مدد مل رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ "ان دہشت گردوں کا کمانڈر مشہد، ایران میں رہتا ہے اور اسے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی طرف سے سیکورٹی فورسز کے ارکان اور مشہور افراد پر حملہ کرنے اور انہیں قتل کرنے اور ہرات کے شہر اور اضلاع میں بم دھماکے کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

ایران کے سپاہی

ہرات صوبہ کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے اور طالبان غیر قانونی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان آتے جاتا رہتے ہیں۔

جنوری میں ہرات کی سیکورٹی کا جائزہ لینے والے ایک ولسی جرگے کے وفد نے پتہ لگایا تھا کہ ایرانی حکومت ہرات میں 26 دہشت گرد گروہوں کو مالی اور فوجی مدد فراہم کرتی ہے۔

خبروں کے مطابق، ہرات میں تہران کے حمایت یافتہ دہشت گرد قتل، سیکورٹی فورسز پر حملوں، سیکورٹی کی چوکیوں پر قبضہ کرنے، اغوا اور دہشت گردی کی دیگر سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ہرات شہر سے تعلق رکھنے والے ایک عسکری تجزیہ نگار میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد فیصل الکوزئی نے کہا کہ طالبان، افغانستان کے مغربی علاقے، خصوصی طور پر ہرات میں، ایرانی حکومت کے سپاہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان، ایرانی حکومت کی خدمت کرنے کے لیے سستے ترین سپاہی ہیں اور وہ افغانستان میں تہران کے مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی علاقے میں طالبان کے تمام حملوں کے منصوبے، سرحد پار خراسان اور دیگر ایرانی صوبوں میں بنائے جاتے ہیں۔

الکوزئی نے کہا کہ "ایران کے افغانستان میں طویل المعیاد مقاصد ہیں"۔

انہوں نے ایک ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاء جو کرایے کے افغان فوجیوں سے مل کر بنی ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "وہ طالبان، فاطمیون ڈویژن اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرتے ہوئے، ملک میں اپنی موجودگی کو قائم رکھنا چاہتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدم تحفظ اور قتل کے واقعات کو بڑھانے سے، ایران خوف پھیلانے اور افغان عوام اور حکومت میں ایک خلا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنگ اور تباہی

ہرات یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم فیصل جمشیدی نے کہا کہ ایران جیسے ہمسایہ ممالک افغانستان میں جنگ اور تباہی کی وجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ایران کبھی بھی افغانستان میں امن اور ترقی نہیں چاہتا۔ ملک میں جنگ جتنی زیادہ دیر تک چلتی رہے گی، اتنا ہی ایران اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے پاس مداخلت کرنے کی آزادی ہو گی"۔

جمشیدی نے کہا کہ "ایران کی حکومت کا ایک بنیادی مقصد طالبان کو استعمال کرتے ہوئے، ملک میں آب پاشی کے منصوبوں اور پن بجلی کے ڈیموں کی تعمیر کو روکنا ہے۔ اس لیے وہ طالبان کو رقم اور ہتھیار دیتا ہے تاکہ وہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر کو روک سکیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی کی حکومت، بے گناہ افغانیوں کے روز ہونے والے قتل میں ملوث دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے۔

ہرات شہر کے ایک دکاندار ولی محمد حسینی نے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ جاسوس اور دہشت گرد افغانستان کے بہت سے صوبوں میں سرگرم ہیں اور وہ حکومت اور ملکی سلامتی کی جڑوں کو جذام کی طرح کھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اگرچہ وہ ہمیشہ افغانستان کا دوست ہونے کا دعوی کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک تباہ کن دشمن ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایران دہشت گردوں کی پرورش کرنے والا ملک ہے جو علاقے کے بہت سے ممالک بشمول افغانستان، میں ہونے والے تنازعات کے پیچھے ہے۔

"ایران کبھی بھی افغانستان کا اچھا ہمسایہ نہیں رہا ہے اور وہ ہمیشہ سے ہمارے ملک کو کمزور بنانے کا متلاشی رہا ہے"۔

حسینی نے کہا کہ ایران اور دوسرے علاقائی ممالک کی طرف سے خود اپنی غلامی کو قبول کرتے ہوئے، طالبان ہر روز بے گناہ افغان شہریوں کا خون بہاتے ہیں۔

ہرات شہر سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن آرش بشریار نے کہا کہ آئی آر جی سی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو تنازعات اور قتل کے لیے مشہور ہے۔

انہوں نے کہا کہ "فاطمیون ڈویژن جسے آئی آر جی سی نے شام، یمن اور افغانستان کے باسیوں کو قتل کرنے کے لیے تیار کیا ہے، طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ہے"۔

بشیریار نے کہا کہ "اگر اس دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں کو نہ روکا گیا تو اس کے دہشت گردوں کی طرف سے کیے جانے والا جبر، مستقل قریب میں طالبان کے جبر سے بھی آگے نکل جائے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کئی سالوں سے افغانستان میں جنگ اور عدم استحکام میں ملوث رہی ہے اور حالیہ سالوں میں اس نے طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی امداد میں اضافہ کر دیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500