پناہ گزین

تصاویر میں: بے گھر ہونے والے افغان شہری تاریخی اسلامی جگہ کے کھنڈرات میں آباد

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

ہلمند صوبہ کے دارالحکومت میں لشکر گاہ کے تاریخی مقام پر، 27 مارچ کو قدیم محل کے قریب لوگ ایک راستے پر جا رہے ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکر گاہ، ہلمند صوبہ کے مضافات میں واقعہ علاقے بوست میں، 27 مارچ کو قلعہ بوست کے تاریخی قعلہ کی ایک محراب کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکر گاہ، صوبہ ہلمند میں قعلہ کوہنا کے تاریخی مقام پر، 27 مارچ کو اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والی ایک افغان خاتون اپنے گھر کی طرف جا رہی ہے۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکرگاہ، ہلمند صوبہ کے تاریخی مقام قعلہ کوہنا میں، 27 مارچ کو اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والا ایک افغان مرد اور بچے، ایک محل کے کھنڈرات میں کھڑے ہیں، جہاں وہ رہ رہے ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افغان بچے، 27 مارچ کو قلعہ کوہنا کے تاریخی مقام پر، ایک محل کے کھنڈرات کے درمیان چل رہے ہیں، جہاں وہ اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکرگاہ، صوبہ ہلمند کے مضافات میں واقعہ بوست میں تاریخی قلعہ، قلعہ بوست کے قریب ایک محل کی باقیات کی 27 مارچ کو لی گئی تصویر۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

ہلمند صوبہ کے دارالحکومت لشکر گاہ میں قعلہ کوہنا کے تاریخی مقام پر، اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والا افغان آدمی، 27 مارچ کو ایک محل کے کھنڈرات میں آرام کر رہا ہے جہاں اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے خاندان قیام پذیر ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

ہلمند صوبہ کے علاقے لشکر گاہ میں قعلہ کوہنا کے تاریخی مقام پر، اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افغان بچے، 27 مارچ کو ایک محل کے کھنڈرات میں چل رہے ہیں جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکرگاہ، ہلمند صوبہ کے تاریخی مقام قعلہ کوہنا میں، جہاں اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے خاندان قیام پذیر ہیں، 27 مارچ کو ایک مرد اورلڑکا، قدیم محل کے قریبی راستے پر جا رہے ہیں۔[وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افغان مرد اور لڑکے، 27 مارچ کو ہلمند صوبہ میں لشکرگاہ کے مقام پر واقعہ، قلعہ کوہنا کے تاریخی مقام پر ایک قدیم محل کی دیوار کے ساتھ چل رہے ہیں جہاں وہ دیگر خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

لشکرگاہ، صوبہ ہلمند کے مضافات میں واقعہ بوست میں تاریخی قلعہ، قلعہ بوست کے قریب ایک محل کی باقیات کی 27 مارچ کو لی گئی تصویر۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

لشکر گاہ، ہلمند صوبہ کے مضافات میں واقعہ علاقے بوست میں، 27 مارچ کو قلعہ بوست کے تاریخی قعلہ کے قریب آدمی چل رہے ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

ہلمند -- کسی زمانے میں مشہور اسلامی خاندانوں کے سلطانوں کی سردیوں کی رہائش گاہ، صوبہ ہلمند کے ایک ہزار سالہ قدیم شاہی شہر کے کھنڈرات میں ایسے سینکڑوں افغان باشندے آباد ہوگئے ہیں جو طالبان کے تشدد سے بھاگ رہے ہیں۔

گیرو مٹی سے بنے حیران کن اور پیچدہ محل جو کہ دریائے ہلمند کے کنارے چٹانوں سے باہر نکلے ہوئے ہیں، کو بوسیدگی اور بڑھتی ہوئی شہری آبادیوں کے ساتھ ساتھ ان عارضی تعمیرات سے خطرہ ہے جو اس کے اندر پنپ رہی ہیں۔

اکتوبر کے بعد سے، طالبان کے حملوں میں ہونے والے اضافے کے بعد، ہلمند صوبہ بھر میں سینکڑوں افغان شہری بے گھر ہو گئے ہیں اور اگرچہ ان میں سے بہت سے دارالحکومت لشکر گاہ میں دوبارہ سے آباد ہو گئے ہیں -- جو ابھی بھی حکومت کے کنٹرول میں ہے -- کچھ نے ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ کھنڈرات میں پناہ لی ہے۔

قلعہ کوہنا، جیسا کہ یہ مقامی طور پر جانا جاتا ہے یا ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے لشکری بازار، نے اپنے پیمانے، قابل ذکر فنِ تعمیر اور دیواری تصاویر کے باعث بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔

image

اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افغان مرد، 27 مارچ کو ہلمند صوبہ میں لشکرگاہ کے مقام پر واقعہ، قلعہ کوہنا کے تاریخی مقام پر ایک قدیم محل کے ساتھ جانے والے راستے پر چل رہے ہیں جہاں وہ اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ [وکیل کوہسار/ اے ایف پی]

یہ جگہ جو کہ 10 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، غزنوی اور غوری بادشاہوں -- دو خاندان جنہوں نے10ویں اور 13ویں صدی کے دوران اس علاقے پر حکومت کی جس میں حالیہ افغانستان بھی شامل ہے اور وہ اسلامی فنون کو دور دور تک، یہاں تک کہ شمالی انڈیا تک پھیلانے کے ذمہ دار تھے، کی واحد معلوم سرمائی رہائش گاہ ہے۔

افغانستان میں فرانسیسی آثار قدیمہ کے وفد (ڈی اے ایف اے) کے ڈائریکٹر فلپی مارکس نے کہا کہ "اسلامی دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ایسا کچھ موجود ہو -- ایک جگہ جو اتنی مربوط اور وسیع ہو اور جہاں سب کچھ ہو جانے کے باوجود وہ نسبتا اچھی طرح سے محفوظ شدہ ہو"۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "اسے محفوظ رکھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ہمیں اس دور کے بارے میں بہت کچھ سکھائے گی "۔

طالبان کے تشدد سے بھاگنا

قدیم میناروں کے درمیان، شہریوں نے دروازے اور کھڑکیاں لگا لی ہیں اور ریزہ ریزہ ہوتی ہوئی دیواروں پر مٹی اور گھانس پھونس کا لیپ کر دیا ہے تاکہ انہیں مضبوط بنایا جا سکے اور ان میں موجود شگافوں کو بند کیا جا سکے۔

ایک نیلا دھاتی دروازہ آغا محمد کے دو کمروں کے تنگ گھر کی طرف جاتا ہے جس میں 11 افراد رہتے ہیں اور بانس کی چھت سے اس کے نوعمر بیٹے کے لیے عارضی طور پر بنایا گیا پالنا لٹک رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "چھت میں دراڑیں دیکھیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کسی رات یہ گر جائے گی"۔

افغان حکومت اور طالبان کے راہنماؤں کے درمیان امن مذاکرات رک جانے اور امریکہ اور نیٹو کی طرف سے اپنی آخری فوجیوں کو 11 ستمبر تک ملک سے نکال لے جانے کے فیصلے کے باعث، جنوبی افغانستان میں لڑائی میں دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

طالبان نے غیر ملکی فورسز کی موجودگی کا بہانہ استعمال کرتے ہوئے اپنی جاری جنگ کو درست ثابت کیا تھا مگر افواج کی واپسی منصوبے کے مطابق جاری ہونے کے باوجود، عسکریت پسندوں نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تباہ کرنا اور عام شہریوں اور افغان قومی دفاعی و سیکورٹی فورسز (او این ڈی ایس ایف) کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان فواد امان نے 17 مئی کو کہا کہ حالیہ ہفتوں میں، طالبان نے ہلمند، قندھار، بغلان، ہرات،فراہ اور غزنی صوبوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف کسی بڑے شہر یا صوبہ پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے بلکہ انہیں بھاری جانی نقصان بھی ہوا کیونکہ اے این ڈی ایس ایف نے طالبان کے 1,000 سے زیادہ لڑاکوں، کمانڈروں اور اہم ارکان کو ہلاک کر دیا۔

قعلہ کوہنا کے شہریوں میں سے اکثریت پولیس کے خاندانوں سے ہے۔

48 سالہ بی بی حلیمہ نے کہا کہ "میں نے اس حکومت کے لیے تین بیٹوں کی قربانی دی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان نے ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا اس لیے ہم یہاں رہ رہے ہیں اور میرا صرف ایک چھوٹا بیٹا ہے"۔

ایک ہمسائے نے کہا کہ "ہر گھر میں بیوہ عورتیں بھری ہیں"۔

54 سالہ خدائی نظر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کھنڈرات میں رہنے والوں کے خاندانوں تک بجلی لے کر آئے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ اس جگہ رہنے والے ہر خاندان نے اپنے کسی رکن کو طالبان کے تشدد میں کھویا ہے، کہا کہ "ہم جنگ کے باعث بے گھر ہوئے ہیں اور ہمارا علاقہ ابھی بھی طالبان کے کنٹرول میں ہے "۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اپنے علاقے میں واپس نہیں جا سکتے۔ ہم مجبور ہیں اس لیے یہاں رہ رہے ہیں"۔

جگہ کا تحفظ

اس جگہ پر، جس کا ڈی اے ایف اے نے 1950 کی دہائی میں پہلی بار جائزہ لیا تھا، اس وقت سے تحفظ کا کام جاری ہے۔

اس وقت ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے محلات، ایک مسجد اور دیگر محلقہ عمارات جیسے کہ مٹی کے برتنوں اور دستکاریوں کی ورکشاپیں اور اس کے ساتھ برف خانے، جنہیں تازہ خوراک کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، کو دریافت کیا۔

کھدائی سے نکلنے والی دریافتوں میں سے ایک، انتہائی حیرت انگیز تصاویر کا ایک سلسلہ تھا جس عدالت کے مناظر کو پیش کیا گیا تھا جو اس دور کے لئے انتہائی نایاب تھا کیونکہ اسلامی معاشروں میں زندہ انسانوں کی حقیقت سے قریب تصاویر بنانا پسند نہیں کیا جاتا تھا۔

یہ تصاویر جنہیں کابل عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیا تھا کو 1990 کی دہائی میں افغان خانہ جنگی کے دوران تباہ یا چوری کر لیا گیا تھا۔ صرف کیمرے سے لی گئی تصاویر ہی بچی ہیں۔

ڈی اے ایف اے کے ڈائریکٹر مارکس کو اب گلوبل وارمنگ کے اثرات کے بارے میں تشویش ہے جس سے دریا میں سیلاب آ سکتا ہے۔

دوسری طرف، مٹی اور بھوسے سے نئے شہریوں نے، جزوی طور پر گر جانے والے میناروں کی جو مرمتیں کی ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کو عارضی طور پر محفوظ رکھنے کا باعث بنی ہوں۔

مارکس نے کہا کہ "لوگ اپنے طریقے سے اس جگہ کو محفوظ رکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ان کا گھر ہے"۔

انہوں نے ایک "آثارِ قدیمہ کا باغ" تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جس میں بے گھر ہو جانے والے افغان شہریوں کو محفوظ کرنے کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ وہ روزگار حاصل کر سکیں اور محل کی دیواروں کے باہر قیام پذیر ہو جائیں۔

مگر شاہ محمود حسرت، جنہوں نے قلعہ کے بارے میں کتاب لکھی ہے، کے لیے زیادہ تر غیردریافت شدہ کھنڈرات کا مستقبل غیر یقینی ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم حقیقی طور پر خوفزدہ ہیں کہ ہماری تاریخ تباہ ہو جائے گی"۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جگہ کی حفاظت کرے۔

انہوں نے قلعہ کو ایک "مزار مقدس" سے جوڑتے ہوئے کہا کہ "بوست کا تاریخی قلعہ، ہلمند کے شہریوں کے لیے اتنا اہم ہے، اس میں 3,000 سال سے زیادہ کی تاریخ ہے"۔

"اگر حکومت اجازت دے تو مجھے یقین ہے کہ ہر جمعہ کو ہزاروں لوگ وہاں جائیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500