صحت

کووڈ-19 پر سرحد کی بندش کے معاملے میں ایران کی واضح 'مجرمانہ غفلت'

از زرک خان

image

سنہ 2020 میں تافتان کے سرحدی شہر کے ذریعے ایران سے واپس لوٹنے والوں کے قرنطینہ کرنے کے لیے بنائی گئی ایک عمارت کو جانے والی سڑک پر سپاہی پہرہ دیتے ہوئے۔ [شاہد علی / اے ایف پی]

اسلام آباد -- کورونا وائرس کی نئی شکلوں کے داخلے کو روکنے کی کوشش میں پاکستان نے پیدل سرحد پار کرنے والوں کے لیے ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو اسلام آباد کے تہران پر اس کے عالمی وباء کو سنبھالنے کے معاملے پر ڈگمگاتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی)، ایک سرکاری ادارہ جو کورونا وائرس پر ردِعمل کی نگرانی کرتا ہے، نے 2 مئی اعلان کیا تھا کہ پاکستان 4 مئی سے لے کر 20 مئی تک، دو ہفتوں کے لیے ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو بھی بند کر دے گا۔

ایران کے ساتھ پاکستان کی مشترکہ سرحد کی لمبائی تقریباً 930 کلومیٹر ہے۔

2 مئی کے بیان میں این سی او سی نے کہا تھا، "فیصلے کا اطلاق صرف پیدل ملک میں آنے والوں پر ہوتا ہے اور اس کا تجارتی سامان کی موجودہ نقل و حمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔"

image

28 اپریل کو کراچی میں محکمۂ صحت کا ایک اہلکار کورونا وائرس کی ویکسین لگاتے ہوئے۔ پاکستان میں، کووڈ-19 کے پہلے دو کیسز، جو ایران کے ساتھ منسلک تھے، 26 فروری 2020 کو ظاہر ہوئے تھے۔ [زرک خان/پاکستان فارورڈ]

image

دسمبر میں بلوچستان میں سرحدی مقام، تافتان کے راستے گاڑیاں ایران سے پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں۔ 2 مئی کو پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ کووڈ-19 کی نئی شکلوں کی آمد کو روکنے کی کوشش میں دو ہفتوں کے لیے ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دے گا۔ [زرک خان/پاکستان فارورڈ]

این سی او سی کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں پاکستانی شہریوں کے لیے ان کی وطن واپسی پر ٹیسٹ کروانے اور قرنطینہ کرنے کے اصولوں عمل کرنا درکار ہو گا۔

اسلام آباد کے مقامی محکمۂ صحت کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے کہا، "ایران کے ساتھ سرحد بند کرنے کا این سی او سی کا فیصلہ پاکستان میں کورونا وائرس کو پھیلنے کی اجازت دینے کی ایران کی 'مجرمانہ غفلت' سے منسلک تھا۔"

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے کہا، "ایران کے ساتھ سرحد ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے عرصے کے لیے بند کی گئی ہے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ بعد میں ہونے والے این سی او سی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

پہلے کیسز کا تعلق ایران سے

کچھ پاکستانیوں نے اسلامی جمہوریہ ایران میں کووڈ-19 کے کیسز سامنے آنے کے بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق معلومات دینے میں تاخیر کرنے پر ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ، اس طریقے سے دیگر ممالک میں اس کے پھیلاؤ میں سہولت کاری کی گئی.

رائٹرز نے خبر دی تھی کہ دسمبر 2019 اور جنوری 2020 میں ایرانی حکام نے قم میں بہت تیز بخار اور پھیپھڑوں کی انفیکشن والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں ڈاکٹروں کے انتباہ کو نظرانداز کر دیا تھا، جہاں بہت سے پاکستانی زائرین زیارات کے لیے گئے ہوئے تھے۔

کچھ تجزیہ کار دلیل پیش کرتے ہیں کہ شروع میں ایرانی حکومت نے فروری 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے وائرس کے پھیلاؤ کی خبروں کو چھپایا تھا۔

قرنطینہ کے اقدامات کا اعلان کرنے کی بجائے، ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے ہم وطنوں کو پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی۔

پاکستان میں، طبی ماہرین نے کووڈ-19 کے پہلے دو کیسز 26 فروری 2020 کو ریکارڈ کیے تھے۔ دونوں کا تعلق ایران سے تھا۔ اس وقت، سینکڑوں پاکستانی زائرین شیعہ مزارات کی زیارات پر جانے کے لیے روزانہ تافتان سرحدی گزرگاہ کے ذریعے سرحد پار کر رہے تھے۔

محکمۂ صحت کے اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ غالب امکان ہے کہ بہت سے پاکستانی زائرین جنہیں کورونا ہو گیا تھا وہ 26 فروری سے پہلے پاکستان واپس لوٹ آئے تھے کیونکہ ایران نے "اپنے علاقے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبروں کو دبا لیا تھا"۔

پاکستان میں کام کرنے والے نجی آپریٹروں جو ایران میں زیارات کے لیے جانے کے انتظامات کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ تہران نے ایران جانے والے ہزاروں زائرین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں۔

ستمبر میں کراچی کے مقامی ٹریول ایجنٹ مصور حسینی نے کہا تھا، "فروری [2020] کے اوائل میں، پہلے ہی ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہونے والے اموات کے بارے میں افواہیں پھیلنا شروع ہو گئی تھیں۔" لیکن ایرانی حکومت نے عوام، خصوصاً دیگر ممالک سے آنے والے زائرین سے معلومات کو چھپایا، جو وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تھیں۔"

حسینی کے مطابق، چونکہ انہیں وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار نہیں کیا گیا تھا، زائرین نے اس وقت تک تہران کا سفر کرنا جاری رکھا جب تک کہ تہران نے سرکاری طور پر 19 فروری 2020 کو وباء اور اموات کا اعلان کیا۔

جبری ملک بدریاں

کورونا وائرس کی وباء پھیلنے کو چھپانے کی کوشش کرنے کے بعد، فروری میں تہران نے سینکڑوں پاکستانی زائرین کو ان کے ٹیسٹ کیے بغیر ہی ملک بدر کر دیا۔

جب ایران میں انفیکشنز تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہوئیں، پاکستانی حکام نے 16 مارچ 2020 کو ایران کے ساتھ سرحد بند کر دی۔ اپریل 2020 تک، طبی ماہرین واپس آنے والے زائرین میں سے 51 فیصد میں کووڈ-19 سے متاثر ہونے کا سراغ لگا سکے تھے۔

مئی 2020 میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ درخواست کرنے کے باوجود ایران نے تقریباً 5،000 پاکستانی شہریوں کو بلوچستان میں سرحد کے راستے زبردستی واپس بھیج دیا کہ ان کے لیے کورونا وائرس سے قرنطینہ کرنے کے مقامات کی تیاری تک انتظار کر لیں۔

اُس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قریشی نے کہا تھا، "میں نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے بات کی تھی اور [پاکستانی شیعہ زائرین کے لیے] انتظامات کرنے کے لیے وقت دینے کی درخواست کی تھی۔"

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ وہ وقت کے معاملے پر تعاون نہیں کر سکتے، "پاکستان کے پاس اپنے شہریوں کو واپس لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔"

بہت سے پاکستانی زائرین نے کہا کہ ایرنی حکام نے انہیں گرفتار کیا اور انہیں جبراً ملک بدر کر دیا۔

خیبرپختونخوا میں ضلع ہنگو کے محمد حسین نے مارچ 2020 میں کہا تھا، "ہم زیارات کے لیے مشہد گئے تھے۔ لیکن وہاں کے حکام نے ہمیں گرفتار کر لیا اور ہمیں بسوں میں ٹھونس دیا جو ہمیں تافتان کی سرحدی گزرگاہ پر لے آئیں۔"

حسین نے کہا کہ ایرانی حکام ان جیسے زائرین پر وباء پھیلانے کا الزام لگا رہے تھے اور انہیں صحت کی نگہداشت تک مناسب رسائی دینے سے انکار کر رہے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500