سلامتی

البغدادی کا ’دستِ راست‘ استنبول میں گرفتار

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

image

استبنول حکام کی جانب سے گرائے جانے کے بعد، 22 مئی، 2017 کو استنبول میں باسفورس پل کے قریب رئینا نائٹ کلب کے ملبے میں ایک شخص چل رہا ہے۔ عیدِ سالِ نو کے موقع پر ایک حملہ میں اس نائیٹ کلب کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 39 افراد جاںبحق ہوئے، بعدازاں داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ [یاسین اکگل /اے ایف پی]

انقرہ – مقامی میڈیا نے اتوار (2 مئی) کو خبر دی کہ استنبول میں پولیس نے "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام (داعش)" کے ایک اعلیٰ کردار گرفتار کر لیا، جسے مقتول رہنما ابوبکر البغدادی کے "دستِ راست" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

حکام نے ترک انٹیلی جنس ایجنٹس کے ساتھ ایک مشترکہ چھاپے کے دوران شہر کی ایشیائی جانب ضلع اتاشیر میں "باسم" کے کوڈ نیم کے حامل اس افغان شہری کو گرفتار کر لیا۔

ادلیب کے شمال مغربی شامی صوبے میں کرد جنگجوؤں کی مدد سے2019 میں امریکی خصوصی افواج کے ایک چھاپے کے دوران البغدادی مارا گیا۔

ترک میڈیا نے خبر دی کہ پکڑے جانے والے شخص نے البغدادی کو ادلیب میں روپوش ہونے میں مدد کی۔

image

امریکی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک تصویر میں وہ احاطہ دکھایا گیا ہے جہاں 26 اکتوبر، 2019 کو امریکی خصوصی افواج کے ہاتھوں قتل ہونے سے چند لمحے قبل دہشتگرد رہنما ابوبکر البغدادی روپوش تھا۔

نشر کنندہ این ٹی وی نے خبر دی کہ یہ ملزم مبینہ طور پر اس دہشتگرد گروہ کی "نام نہاد عسکری شاخ" کے لیے ذمہ دار تھا۔

چینل نے کہا کہ وہ ایک جعلی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے ساتھ استنبول پہنچا، جبکہ ڈی ایچ اے نیوز ایجنسی نے کہا کہ اسے گزشتہ بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

افغانستان میں تربیت یافتہ

ترکی نے ان داعش شدت پسندوں کے خلاف جنگ کو تیز تر کر دیا ہے جنہوں نے 2016-2017 میں عیدِ سالِ نو پراستنبول میں اشرافیہ کے ایک نائیٹ کلب پر بڑے پیمانے پر گولیاں برسانے سمیت ملک میں مہلک حملے کیے۔

17 روز تک مفرور کی تلاش کے بعد پولیس نے اس 34 سالہ ازبک شہری عبدالقادر ماشیرپوف کو گرفتار کر لیا، جس نے 39 افراد کی موت کا باعث بننے والے قتلِ عام کو قبول کیا۔

استنبول کے گورنر واسِپ ساہِن نے اس وقت کہا کہ ملزم کی انگلیوں کے نشان حملہ آور سے ملتے تھے اور تصدیق کی کہ وہ ایک ازبک شہری تھا اور افغانستان میں تربیت یافتہ تھا۔

اس کے ہمراہ ایک عراقی شخص اور تین عورتیں بھی گرفتار ہوئیں، جن میں سے ایک مصری شہری تھی جبکہ دو دیگر افریقی ریاستوں سے تھیں۔

ساہِن نے کہا، "یہ واضح ہے کہ یہ حملہ داعش کی ایما پر کیا گیا تھا"، انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر دیگر چار ملزمان بھی اس گروہ سے منسلک تھے۔

تب سے اب تک ملک بھر میں داعش ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے باقاعدگی سے پولیس چھاپے جاری ہیں۔

دو برس قبل، 2019 میں کابل میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے تنبیہ کی کہ شام اور عراق میں خون آشام مہم مسلط کرنے والے داعش جنگجو مزید حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے افغانستان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

کابل میں ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں معلوم ہے کہ چند ایک پہلے ہی سے یہاں واپس آ چکے ہیں اور وہاں سے حاصل شدہ علم، مہارتین اور تجربہ کو یہاں منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500