سلامتی

فضائی جنگی مشقوں نے سیکورٹی کے اہم شرکت دار کے طور پر پاکستان کی ساکھ بڑھائی ہے

ضیاء الرحمان

image

پاکستانی فضائیہ کے جے ایف - 17 کی ایک جوڑی۔ [پاکستانی فضائیہ]

کراچی -- پاکستان میں کئی ملکوں پر مبنی فضائی مشقیں جاری ہیں جو کہ فروری میں ہونے والی بحری مشقوں کے تھوڑے عرصے بعد ہی منعقد ہو رہی ہیں۔ حکام اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ ملک بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر امن اور سیکورٹی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

اے سی ای ایس میٹ 1-2021 فضائی مشقیں، فضاء سے فضاء میں جنگی تریبت کے تحت، شریک ممالک کی جنگی تیاریوں کو بہتر کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

پی اے ایف کے ایک ترجمان نے کہا کہ دو ہفتوں کی مشقوں کا آغاز پیر (29 مارچ) کو، پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) کی ایک نامعلوم ایئر بیس سے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی اے ایف، رائل سعودی ایئر فورس (آر ایس اے ایف) اور امریکی فضائیہ اس میں عملی طور پر شرکت کر رہی ہیں جبکہ بحرین، مصر اور ارادن کی فضائیہ کو مشاہدین کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

image

اے سی ای ایس میٹ 1-2021 کے شرکاء، 29 مارچ کو مشقوں کی افتتاحی تقریب میں حصہ لے رہے ہیں۔ [پاکستانی فضائیہ]

پی اے ایف کے ایف 16 اور جے ایف 17 لڑاکا طیارے اور آر ایس اے ایف کے ٹورنیڈو جہاز ان مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پی اے ایف کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشنز) ایئر وائس مارشل وقاص احمد سلہری نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ مشق کا حالیہ اعادہ انوکھا ہے کیوں کہ "حصہ لینے والی فضائیہ جنگی کارروائیوں کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں، خواہ انسداد دہشت گردی ہو یا مرکب فلائنگ عمداری"۔

انہوں نے کہا کہ "باہمی فوائد کے لیے ان انمول تجربات کو سانجھ کرنے کے لیے، اس پلیٹ فارم کو مکمل طور پر استعمال کیا جانا چاہیے"۔

پہلی اے سی ای ایس میٹ مشقیں 2017 میں پاکستان میں منعقد ہوئی تھیں۔ آٹھ ممالک کی فضائیہ جس میں پی اے ایف، آر ایس اے ایف اور ترکش ائیر فورس شامل تھیں، نے ان میں حصہ لیا تھا۔

پہلی مشقوں کا مرکز، شورش کا مقابلہ کرنے اور انسداد دہشت گردی کی مہمات کے خلاف فضائی طاقت بنانے پر تھا۔

علاقائی استحکام کو بڑھانا

حکام اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی مہمات میں شرکت کے لیے غیر ملکی فورسز کو بلانے سے، پاکستان کا علاقے میں، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون کے لیے عہد ظاہر ہوتا ہے۔

پینتالیس ممالک نے -- جہازوں، تباہ کرنے والے جہازوں، لڑاکا جیٹ جہازوں، خصوصی آپریشن ٹیمز، دھماکہ خیز مواد کے ماہرین اور عسکری مشاہدین کے ساتھ، کثیر ملکی امن -21 بحری مشقوں میں شرکت کی، جس کی میزبانی پاکستانی بحریہ نے فروری میں، کراچی کے ساحل کے پاس بحیرہ عرب میں کی تھی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی امور کے پروفیسر محمد حسین شاہ نے کہا کہ "مشترکہ فضائی اور بحری مشقوں میں، مختلف ممالک کی سیکورٹی فورسز کے درمیان تجربات اور مہارت کا تبادلہ، دہشت گردی کے خطرے کو رد کرنے اور علاقے میں امن کو قائم رکھنے میں مدد کرے گا"۔

شاہ نے کہا کہ مشترکہ تجربات سے "شریک ممالک کی فضائیہ کو علاقائی طور پر سیکورٹی کے خطرات سے نپٹنے میں مدد ملے گی"۔

انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کا عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کا تجربہ، ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے۔

پاکستان میں پی اے ایف نے گزشتہ سالوں کے دوران عسکریت پسندی کا خاتمہ کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ شامل ہیں، کے خلاف عسکری مہمات میں پی اے ایف نے پاکستانی فوج کی مدد کرتے ہوئے، اعلی کمنڈروں کو نشانہ بنا کر، عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات ریٹائرڈ فوجی اہلکار اور سیکورٹی کے تجزیہ کار شاکر حسین نے اسلام آباد میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندوں نے افغانستان کے ساتھ سرحد رکھنے والے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے پہاڑوں میں پناہ لے لی تھی جہاں پاکستانی فوج کے لیے زمین پر مہمات سر انجام دینا مشکل تھا"۔

پاکستانی اور سعودی عسکری تعلقات

یمن میں تنازعہ کے آغاز سے اب تک، حوثی، جنہیں ایران کی پشت پناہی حاصل ہے اور جو خود کو انصار اللہ کہتے ہیں، نے سعودی عرب پر درجنوں میزائل فائر کیے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو سعودی فوج نے روک لیا۔

اسلام آباد، سعودی علاقوں پر حملہ کرنے پر حوثیوں کی اکثر مذمت کرتا رہتا ہے۔

پی اے ایف کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ اکثر دو طرفہ مشترکہ تربیتی مشقوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

پاکستان نے کئی دیہائیوں سے مملکت کو فوجی امداد اور مہارت فراہم کی ہے۔ 1960 کی دیہائی میں، پی اے ایف نے آر ایس اے ایف کو اپنے پہلے جیٹ لڑاکا طیاروں کو بنانے اور ان کے لیے پائلٹ فراہم کرنے میں مدد کی تھی اور پی اے ایف کے پائلٹ 1969 میں مملکت کی جنوبی سرحد پر جنوب یمنی حملے کو پسپا کرنے کے لیے آر ایس اے ایف کے لائٹننگ جہاز اڑاتے رہے تھے۔

پاکستانی فوج کے سابقہ سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف ، اسلامی ملٹری انسدادِ دہشت گردی اتحاد کی سربراہی کرتے ہیں جو کہ 41 مسلمان ممالک کا عسکری اتحاد ہے جسے سعودی عرب نے دسمبر2015 میں بنایا تھا اور جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف پین- اسلامک اتحاد کے طور پر کام کرنا تھا۔

مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، افغانستان، یوگنڈا، صومالیہ، موریتانیا، لبنان، لیبیا، یمن اور ترکی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

اس اتحاد میں ایران اور اس کے ساتھ ساتھ شام اور عراق شامل نہیں ہیں، جس کے راہنماؤں کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب نے ایران پر، مشرقِ وسطی میں مسلح گروہوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا ہے۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500