حقوقِ نسواں

نوجوان افغان خواتین کی جانب سے طالبان کے ’سیاہ دور‘ میں واپسی مسترد

عمر

طالبان کے دورِ اقتدار میں پروان چڑھنے والی، شریعت کی ان کی سخت تشریح پر عمل کرنے کے لیے مجبور نسل کے برعکس، اس نئی نسل نے جنسی برابری کے لیے شدت سے لڑائی لڑی ہے اور شاندار پیشرفت کی ہے۔ [عمر]

ہرات – 2001 میں طالبان کو گرائے جانے کے بعد سے، تعلیم یافتہ افغانوں کی ایک نئی نسل سامنے آئی ہے جس نے کبھی براہِ راست اس گروہ کے تحت زندگی نہیں گزاری اور وہ انہیں صرف ٹیلی ویژن پر دیکھ اور سن کر ہی جانتی ہے۔

طالبان کے دورِ اقتدار میں پروان چڑھنے والی، شریعت کی ان کی سخت تشریخ پر عمل کرنے کے لیے مجبور نسل کے برعکس، اس نئی نسل نے جنسی برابری کے لیے شدت سے لڑائی لڑی ہے اور شاندار پیشرفت کی ہے۔

آج لڑکیاں سکول جا سکتی ہیں اور جامعہ کی سند حاصل کر سکتی ہیں، اور خواتین گھروں سے باہر کام کر سکتی ہیں۔ خواتین وزیروں اور گورنروں کے طور پر عہدے سنبھال سکتی ہیں اور ججوں، پولیس افسران اور فوجیوں کے طور پر خدمت سرانجام دے سکتی ہیں۔

ابھی بھی خواتین کے خلاف امتیاز کی طالبان کی تاریخ ایک خدشہ ہے۔ چند ایک کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان حکومت کا جزُ بن جائیں تو بین الافغان امن مزاکرات کے نتیجہ میں حقوقِ نسواں صلب ہو جائیں گے۔

image

15 فروری کو ہرات شہر میں افغان خواتین ٹویکانڈو کی مشق میں شریک ہیں۔ [عمر/سلام ٹائمز]

image

11 فروری کو ہرات شہر میں افغان لڑکیوں کی روبوٹکس ٹیم کی ارکان ایک پراجکٹ پر کام کر رہی ہیں۔ [عمر/سلام ٹائمز]

افغان آل گرلز روبوٹکس ٹیم کی ایک 17 سالہ رکن سمیّہ فاروقی نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے، تو طالبان "]ہمیں[ اپنے دورِ اقتدار کے اندھیرے وقت میں واپس نہ بھیجیں۔"

انہوں نے کہا، "افغانستان بدل چکا ہے، اور گزشتہ 20 برسوں میں ملک نے متعدد کامییاں حاصل کی ہیں۔"

روبوٹکس ٹیم کو حالیہ برسوں میں بین الاقوامی پذیرائی ملی ہے، اور اس ٹیم کے ارکان، جنہیں "ٹیکنالوجی کے سفیر" کہا گیا ہے، نے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے سفر کرتے ہوئے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں۔

سمیہ نے کہا کہ جب طالبان دوبارہ افغان معاشرہ میں داخل ہوں گے تو روبوٹکس ٹیم طالبان کی بیٹیوں کو گلے لگانے اور انہیں روبوٹ بنانے اور کمپیوٹر گیمز ڈیزائن کرنے کی تربیت دینے کے لیے تیار ہے۔

افغان نیشنل ٹویکانڈو ٹیم کی ایک 19 سالہ رکن فرزانہ خاوری نے کہا کہ آج افغانستان میں طالبان کے طریقِ فکر کی کوئی جگہ نہیں۔

انہوں نے کہا، "جب میں پیدا ہوئی تو ان کا اقتدار ختم ہو چکا تھا اور ہمارے علاقے میں کوئی طالبان جنگجو نہ تھے۔ میں نے انہیں صرف ٹی وی پر دیکھا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اپنی زندگی میں مجھے ترقی کے لیے اچھے مواقع ملے۔ اب میں یونیورسٹی جاتی ہوں اور کھیلیں کھیلتی ہوں۔ مجھے امّید ہے کہ جب طالبان واپس آئیں گے تو وہ ہماری شرائط تسلیم کریں گے اور ہم واپس سیاہ دور میں نہیں جائیں گے۔"

23 مارچ کو امریکہ نے ملک میں امن کے لیے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں حقوقِ نسواں پر ہونے والی پیش رفت کے تحفظ کا بھی عہد کیا۔

اقوامِ متحدہ کے لیے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے افغانستان پر ایک مزاکرے کے دوران اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کاؤنسل سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر افغانستان بین الاقوامی برادری کی جاری سیاسی اور مالی حمایت کو یقینی بنانا چاہتا ہے تو کسی بھی معاہدے کے تحت ان کی کامیابیوں کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ ہم اس نقطہ سے ایک انچ بھی نہیں ہٹیں گے۔"

طالبان کو ’نئی حقیقت‘ کو تسلیم کرنا ہو گا

اپنے معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے والی تعلیم یافتہ افغان لڑکیاں اس امر پر زور دیتی ہیں کہ امن کے عمل کے ذریعے افغان حکومت میں شریک ہونے کی صورت میں طالبان خواتین کی کامیابیوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو بالائے طاق نہ رکھیں۔

افغانستان کی پیرا نیشنل ٹویکانڈو ٹیم کی ایک 18 سالہ رکن زکیہ خدادای نے کہا کہ لڑکیاں اس قسم کے امن کو کبھی قبول نہیں کریں گی جو انہیں ماضی میں واپس لے جائے اور انہیں اپنے گھروں تک محدود کر دے۔

انہوں نے کہا، "افغان عوام، بالخصوص خواتین نے متعدد شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور وہ مزید پیش رفت کر رہی ہیں۔ لہٰذا طالبان کو خواتین اور لڑکیوں کو محدود کرنے کے بجائے حالیہ صورتِ حال کو تسلیم کرنا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا کہ تمام افغان نوجوانوں کو دیرپا امن کی امید ہے تاکہ وہ ذہنی سکون کے ساتھ پڑھ سکیں اور کھیلوں میں حصہ لے سکیں۔

روبوٹکس ٹیم کی ایک 17 سالہ رکن الہام منصوری نے کہا، "اگر طالبان امن کے بھیس میں اقتدار میں واپس آ کر لڑکیوں کی پیش رفت کو روکنے کے خواہاں ہیں، تو ہمیں اس قسم کا امن قابلِ قبول نہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم اپنی کامیابیوں کے لیے لڑیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا، "امن صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب وہ خواتین کے حقوق اور کامیابیوں کو محفوظ رکھ سکے۔ طالبان کے پاس اس نئی حقیقت کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔"

روبوٹکس ٹیم کی ایک اور 16 سالہ رکن فلورنس پویا نے کہا، "میں نے کبھی طالبان کو قریب سے نہیں دیکھا، لیکن مجھے امّید ہے کہ اگر دیکھوں تو وہ میری تعلیم اور کام کو محدود نہیں کریں گے۔"

انہوں نے یہ حوالہ دیتے ہوئے کہ گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان اور دیگر دنیا تبدیل ہو چکی ہے، کہا کہ اگر طالبان بھی تبدیل نہیں ہو گئے ہوں گے تو وہ "ناکام ہو جائیں گے"۔

کامیابیوں پر ’کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا‘

صوبہ ہرات میں مقامی حکام نے زور دیا کہ طالبان کے ساتھ حکومت کے مزاکرات میں لڑکیوں اور خواتین کی کامیابیوں کو تحفط فراہم کرنا حکومت کی "سرخ لکیر" ہےاور ان کی کامیابیوں پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ہرات کے نائب گورنر مونیسا حسنزادہ نے کہا، "صوبہ ہرات اور ملک بھر میں خواتین نے امن مزاکرات میں اپنی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے، اور کوئی [انہیں] خاموش نہیں کر سکتا۔"

انہوں نے کہا کہ خواتین کی کامیابیوں اور ان کے حقوق کا تحفظ امن مزاکرات میں حکومت اور افغان عوام کی جانب سے رکھی گئی "سرخ لکیر" ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کو خواتین کو کام، تعلیم اور سیاسی اور سماجی سرگرمیوں سے روکنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

ہرات صوبائی کاؤنسل کی رکن سکینہ حسینی نے کہا، "امن مزاکرات میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خواتین کی کامیابیاں موضوعِ بحث ہی نہیں ہونی چاہیئں۔"

انہوں نے کہا، "کسی کو حق نہیں کہ خواتین کے مقدر پر سمجھوتہ کرے اور ان کی سرگرمیوں کو کچل دے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم نے گزشتہ 20 برسوں میں افغان خواتین کی کامیابیوں کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم نے ان سرگرمیوں کے لیے اپنے ہزاروں سیکیورٹی اہلکار کھوئے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہماری ہزاروں بہنیں بیوہ ہوئی ہیں اور ہزاروں بچے یتیم ہوئے ہیں۔ ہم جیسی خواتین ہماری سیکیورٹی فورسز کی بہادری کی وجہ سے پیش رفت کر سکی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500