حقوقِ انسانی

شام کے الہول سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے لیے غیر ملکی حکومتوں پر دباؤ

پاکستان فارورڈ

image

کرد سیکورٹی فورسز کا ایک رکن، 18 مارچ کو الہول کیمپ، جس میں داعش کے مبینہ رشتہ داروں کو رکھا گیا ہے، سے رہا کیے جانے والے ایک شامی خاندان کو دیکھ رہا ہے۔ [ڈیل سلیمان/ اے ایف پی]

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے منگل (23 مارچ) کو ایک رپورٹ میں کہا کہ غیر ملکی حکومتوں کو، کردوں کے زیرِ انتظام الہول اور روج کیمپوں سے، جو کہ شام کے الحسکہ صوبہ میں موجود ہیں، اپنے شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر بازیافت کروا لینا چاہیے۔

اس میں کہا گیا کہ انہیں شمال-مشرقی شام کے کیمپوں میں رکھے گئے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے ملزمان کے ساتھ، مناسب عمل کو یقینی بنانے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔

شام میں اپنے آخری گڑھ الباغوز میں، داعش کی شکست کے دو سال کے بعد، داعش سے تعلق رکھنے والے تقریبا 43,000 غیرملکی ابھی تک شمال-مشرقی شام میں قید ہیں۔

تقریبا 31,000 عراق سے آئے تھے اور 12,000 کے قریب دوسرے، تقریبا 60 دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ، تقریبا 27,500 بچے ہیں۔

image

ایک نوجوان لڑکی، 3 مارچ کو الہول کے کیمپ میں، جہاں داعش کے ارکان کے مبینہ رشتہ داروں کو رکھا گیا ہے، ایک چھوٹے بچے سے بات کر رہی ہے۔ یہ کیمپ شمال-مشرقی شام کے صوبہ الحسکہ میں قائم ہے۔ [ڈیل سلیمان / اے ایف پی]

انتظامیہ کے ڈپٹی شریک چیئرمین بدران چیا کرد نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ غیر ملکیوں کو رکھنا، خودمختار انتظامیہ کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے"۔

مگر حکومتوں سے بار بار اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے لیے کی جانے والی درخواستوں پر زیادہ تر کسی نے کان نہیں دھرے اور صرف تھوڑے سے بچے -- جن میں سے اکثریت یتیم تھی-- اور کچھ خواتین کو گزشتہ تین سالوں کے دوران وطن واپس لایا گیا ہے۔

چیا کرد نے کہا کہ "بین الاقوامی برادری، خصوصی طور پر وہ ممالک جن کے شہری کیمپوں اور جیلوں میں ہیں، اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو اس سے نہ صرف ہم متاثر ہوں گے بلکہ پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوں گے"۔

مدد کے لیے بار بار درخواست

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ ایسے ممالک جن کے شہریوں کو شمال-مشرقی شام میں رکھا گیا ہے، کو خودمختار انتظامیہ کی طرف سے قیدیوں کے ساتھ مناسب کاروائی کرنے کے لیے بار بار کی جانے والی درخواستوں کا جواب دینا چاہیے۔

اس نے کہا کہ مناسب کاروائی میں، ایک جج کے سامنے ان کی قید کی قانونی حثیت اور ضرورت پر اعتراض کرنے کا حق، شامل ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ایسے افراد جن پر فوری طور پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، انہیں اسی وقت رہا کر دیا جانا چاہیے۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ غیر ممالک کو، خودمختار انتظامیہ کی طرف سے، اپنے ایسے شہریوں کو، جن پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، اپنے ملکوں میں واپس لے جانے کے لیے بار بار کی جانے والی درخواستوں پر فوری طور پر عمل کرنا چاہیے۔

اس نے کہا کہ آبائی ممالک کو واپس بھیجے جانے والے بچوں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی بھیجا جانا چاہیے تاکہ بچوں کے خاندان کے اتحاد کے حق کا احترام کیا جا سکے۔ ایسے غیر ملکی جنہیں اپنے آبائی ممالک میں موت، تشدد یا کسی اور برے سلوک کا خطرہ ہے، انہیں کسی محفوظ تیسرے ملک بھیجا جانا چاہیے۔

ایچ آ ر ڈبلیو نے کہا کہ قیدیوں کو ان کے ملک یا کسی اور ملک میں منتقل کیے جانے کے بعد، انہیں بحالی اور نو آبادکاری کی سہولیات فراہم کی جانی چاہیں اور اگر اختیار دیا گیا ہو تو تفتیش کرنی اور سزا دینی چاہیے۔

اس نے زور دیا کہ جو بچے داعش کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے یا وہ خواتین جنہیں داعش نے اسمگل کیا تھا، سے سب سے پہلے متاثرین کے طور پر سلوک کیا جانا چاہیے اور بچوں کو انتہائی غیر معمولی حالات میں ہی مقدمات اور سزا کا سامنا کرنا چاہیے۔

اسی دوران، غیر ملکی حکومتوں اور امداد کنندگان کو فوری طور پر امداد میں اضافہ کر دینا چاہیے تاکہ شمال مشرقی شام میں کیمپوں اور جیلوں کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ انتہائی ضروری امدادی مہمات کی دوبارہ سے اجازت دے۔

وطن واپسی کی "علامتی" کوششیں

صرف ایسے 25 ممالک ہی ہیں جن کے بارے میں علم ہے کہ انہوں نے شمال -مشرقی شام سے شہریوں کو بازیافت کیا ہے اور ان میں سے اکثر نے صرف چند ہی کو ملک واپس بلایا ہے یا ان کی مدد کی ہے۔

اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ سیو دی چلڈرن اور ایچ آر ڈبلیو کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک واپس بلائے جانے کی مہمات 2019 میں 29 تھیں جو 2020 میں کم ہو کر17 ہو گئیں اور 2021 کے پہلے 10 ہفتوں میں تین ہو گئیں۔

قازقستان اس میدان میں سب سے آگے رہا ہے اور اس نے گزشتہ سالوں کے دوران اپنے 700 سے زیادہ شہریوں کو وطن واپس بلایا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور امداد کنندگان، جن میں بہت سے غیر ملکی قیدیوں کے آبائی وطن شامل ہیں، شمال -مشرقی شام میں قیدیوں اور دیگر افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور دیگر کا کہنا ہے کہ صاف پانی، خوراک، ادویات کی انتہائی کمی اور پناہ گاہوں اور حفاظت کی کمی ابھی بھی موجود ہے۔

امریکی فوج جو کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحادی افواج کی قیادت کر رہی ہے، نے سیکورٹی کو بہتر بنانے اور کچھ جیلوں میں بہت زیادہ ہجوم کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے لیے امداد فراہم کی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد، خاتون ملزمان کے لیے اضافی قیدخانوں کی تعمیر اور بڑی عمر کے لڑکوں کے لیے 500 بستروں کا بحالی مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔

اشارک الاوسط نے پیر کو خبر دی کہ اس نے الحسکہ کی ایک جیل میں گنجائش کو دوگنا کرنے کے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔

اس نے کہا کہ موجودہ جیل، جسے شامی جمہوری افواج (ایس ڈی ایف) چلا رہی ہیں، اسکولوں کی تین تبدیل کردہ عمارات پر مشتمل ہے جن میں تقریبا 50 مختلف قومتیوں کے تقریبا 5,000 قیدی ہیں جن میں سے اکثریت عراقی شہریوں کی ہے۔

'انسداد دہشت گردی ناگزیر'

خودمختار انتظامیہ میں امورِ خارجہ کے شریک بانی فنیر الکیت نے اشارک الاوسط کو بتایا کہ توسیع کا مقصد سیکورٹی کو بڑھانا اور بڑے پیمانے پر جیل توڑنے کے عمل کو روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل کی حفاظت کرنے والے افسران کے لیے گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی بہت سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ -- جو کہ ایک اہم بین الاقوامی اتحادی رکن ہے -- توسیع کی نگرانی کرنے گا اور رسد کے سلسلے میں امداد فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان قید خانوں کو محفوظ بنانے کے لیے بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دی جانے والی بین الاقوامی امداد، داعش کے قیدیوں اور ان کے اہلِ خاندان کی حثیت کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے آبائی ممالک کی طرف سے اپنے شہریوں اور خصوصی طور پر بچوں کو ملک واپس بلانے کو "انسدادِ دہشت گردی کا انتہائی اہم اور اسٹریجک قدم قرار دیا تھا"۔

فروری کی ایک رپورٹ میں، اقوامِ متحدہ نے کہا کہ اس نے الہول میں "بنیاد پرستی پھیلانے، چندہ جمع کرنے، تربیت اور بیرونی مہمات کے لیے اکسانے" کے واقعات کی رپورٹ کی ہے۔

اس نے تقریبا 7,000 بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی متنبہ کیا جو داعش کے غیر ملکی رشتہ داروں کے لیے مختص کیے جانے والے خصوصی ذیلی عمارت میں رہ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ انہیں "مستقبل میں داعش کے کارکن بننے کی تربیت" دی جا رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500