سفارتکاری

روسی وزارتِ خارجہ کی افغانستان کے تبدیل شدہ نقشے کی ٹویٹ سے غم و غصہ

سلیمان

image

روسی وزارتِ خارجہ نے 12 مارچ کو ٹویٹ میں افغانستان کے اس غلط نقشے کا ایک شمارہ دیا جس میں چین کے ساتھ مشترکہ سرحد نہیں دکھائی گئی۔ سرخ تیر غلطی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ [روسی وزیرِ خارجہ/ٹویٹر]

کابل – روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے افغانستان کا ایک غلط نقشہ ٹویٹ کیے جانے کے بعد، جس میں افغان چین سرحد مٹا دی گئی ہے، افغان غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزارت کی جانب سے 12 مارچ کو ماسکو میں آنے والے امن مزاکرات کا اعلان کرنے والے ایک ٹویٹ میں دکھائے گئے نقشے میں افغانستان کی واخان راہداری کو کاٹ دیا گیا ہے، جو زمین کی ایک تنگ پٹی ہےجو تاجکستان کو پاکستان سے الگ کرتی ہے اور افغانستان اور چین کے مابین ایک 76 کلومیٹر طویل سرحد بناتی ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حامد تہذیب نے کہا، "ہم نے وزارت کے باقاعدہ ٹویٹ کے ذریعے افغانستان کا غلط نقشہ شیئر کیے جانے کے مسئلہ کو روسی وزارتِ خارجہ کے سامنے اٹھایا ہے۔ اس نے ایک دیگر باقاعدہ ٹویٹ کے ذریعے وضاحت فراہم کی ہے اور اس کو درست کرنا شروع کر دیا ہے۔"

ردِّ عمل کے بعد، روسی وزارتِ خارجہ نے 13 مارچ کو ایک ٹویٹ پوسٹ کی، جس میں بیان کیا گیا، "یہاں پیش کیا گیا دنیا کا تعاملی نقشہ ایک تصویر ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس میں بین الاقوامی سرحدوں کی درست نمائندگی نہ ہو۔"

image

خطے کے ایک نقشے میں افغانستان اور چین کے مابین سرحد واضح طور پر دکھائی گئی ہے۔ [d-maps.com]

image

7 اکتوبر 2017 کو افغان واخی خانہ بدوش خاندان افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں واخان راہداری میں تبتی بیلوں پر سفر کر رہے ہیں۔ یہ دورافتادہ علاقہ تاجکستان، پاکستان اور چین کے ساتھ مشترکہ سرحد کا حامل ہے۔ [گوہر عبّاس/اے ایف پی]

’یہ غلطی نہیں‘

تاہم افغان سیاسی تجزیہ کار اور سوشل میڈیا صارفین ماسکو کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک "غلیظ کھیل" قرار دے رہے ہیں۔

باور تحریک کے ڈائریکٹر اور ایک کابل اساسی سیاسی تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد نے کہا، "روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ہمارے ملک کا ایک غلط اور جعلی نقشہ شیئر کیا جانا کوئی غلطی نہیں؛ یہ عمداً کیا گیا۔"

انہوں نے کہا، "افغانستان کے حصّے کاٹ کر انہیں ایک دیگر ملک کے ساتھ جوڑنے سے اپنے ہمسایوں کی جانب روس کی جارحانہ اور غاصبانہ حکمتِ عملی ظاہر ہوتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "زمینیں ہتھیانے اور قبضہ کرنے میں روسی کافی تجربہ کار ہیں۔ قبل ازایں انہوں نے یوکرائن کا نقشہ تبدیل کیا اور اس سے کریمیا لے لیا۔"

کابل اساسی سیاسی تجزیہ کار امین اللہ شارق نے کہا، "روسی چار دہائیوں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کر رہے ہیں اور انہوں نے اس عرصہ میں افغانستان کو کمزور کرنے کے لیے کام کیا ہے۔"

انہوں نے 1979-1989 کی جنگ، جس میں روس کو شکست ہوئی، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "روس افغانستان پر حملہ کر کے ہمارے ملک پر تسلط نہیں حاصل کر سکتا؛ لہٰذا یہ ایسے جعلی نقشے بنا کر افغانستان کے حصے لے کر ایسے ممالک کو دینا چاہتا ہے جو اس کے زیرِ اثر ہیں۔"

شارق نے مزید کہا، "روسیوں کی جانب سے جعلی اور غلط نقشہ بنایا اور شیئر کیا جانا کوئی غلطی نہیں؛ ان کا افغانستان کو تقسیم کر کے اس کی زمینیں دیگر ممالک کو دینے کا نفرت انگیز ارادہ ہے"

روس کو معذرت کرنا ہو گی

سوشل میڈیا کے متعدد صارفین نے کہا کہ روسی وزارتِ خارجہ کی وضاحت ناکافی ہے۔ انہوں نے ماسکو سے ایک باقاعدہ معذرت اور اصل نقشہ مٹائے جانے کا مطالبہ کیا۔

ایک معاشرتی فعالیت پسند عبدالحئی قانت نے درست سرحدوں کے ساتھ ایک نقشہ پوسٹ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، "یہ افغانستان کے اصل نقشہ کا خاکہ ہے۔ جو کچھ آپ نے پوسٹ کیا، معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خفیہ ارادہ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔"

بصیر فروغ نے روسی وزارتِ خارجہ کی تصحیح پر ردِّ عمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا، "ایک افغان ہوتے ہوئے روس پر بھروسہ کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ افغانوں کو روسی پالیسیوں پر ہمیشہ ایک کڑی اور محتاط نگاہ رکھنی چاہیئے۔ کیا یہ بدلہ ہے یا پھر ایک بڑی غلطی؟ اگر غلطی ہے تو یقیناً اس کو واضح کیا جانا چاہیئے! انہیں معذرت کرنی چاہیئے۔ یا پھر تعلقات توڑ دیں۔"

کابل میں ایک سول سوسائٹی فعالیت پسند آصف احمدزئی نے کہا، "سخت ردِّ عمل اور ٹویٹر پر افغانوں کے اتحاد و اتفاق نے روسی وزارتِ خارجہ کو افغانستان کا درست اور اصل نقشہ شائع کرنے پر مجبور کیا۔"

تاہم، انہوں نے کہا کہ، اس وضاحت کو ظاہری طور پر نہیں لیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا، "[1989 میں] افغانستان میں ان کی شکست کے بعد، روسی بدلہ کی تلاش میں ہیں، گزشتہ 40 برس سے وہ ہمارے ملک میں سرد اور گرم جنگیں مسلط کرتے ہوئے لاکھوں افغانوں کو قتل، زخمی یا معذور کر چکے ہیں۔"

افغان وزارتِ مالیات کے ایک سابق ترجمان شمروز خان مسجدی نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹویٹ کیا، "پاکستان کو تاجکستان کے ساتھ سرحد کب ملی؟ روس کو یہ غلیظ کھیل بند کرنا چاہیئے۔ @mfa_afghanistan کو باقاعدہ طور پر اس نقشے کے خلاف احتجاج کرنا چاہیئے۔ روس کو #Moscow meeting سے قبل معذرت کرنی چاہیئے اور اس نقشے کو ہٹانا چاہیئے۔"

ماسکو ’کبھی غیر جانبدار نہیں‘ رہا

امورِ افغان پر ایک امریکہ اساسی تجزیہ کار داؤد میرکی نے جمعرات (18 مارچ) کو طے شدہ امن مزاکرات منعقد کرنے میں ماسکو کے اخلاص پر شبہ کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹویٹ کیا، "ہمارے ملک کے حصے بخرے کرنے کی قیمت پر امن؟ نہیں شکریہ!!!"

قومی سلامتی کاؤنسل کے ایک سابق ترجمان محمّد کبیر حقمل نے غلط نقشے کی روسی وازارتِ خارجہ کی ٹویٹ کے نیچے لکھا، "#Russia #Afghanistan سے کیا چاہتا ہے؟ تباہی اور 80 کی دہائی والی صورتِ حال اور دسیوں لاکھوں #Afghans کا قتل کافی نہیں؟ میں روس کی جانب سے امن کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتا ہوں۔ وہ کبھی بھی غیرجانبدار نہیں ہو سکتے اور ہمارے ملک میں اپنی شکست کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔"

ایک کابل اساسی سیاسی تجزیہ کار مقصود حسن زادہ نے کہا، "بین الاقوامی برادری کے ایک اہم اور فعال رکن ہونے کے ناطے، روس کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور دوسرے ممالک کی سرحدوں، قوانین اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیئے۔"

"روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے غلط نقشہ شیئر کیا جانا اولاً روسی سفارتی آلات کی غیر پیشہ وری اور ثانیناً ہمارے ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے عدم احترام کا غماز ہے۔"

کابل میں ایک نجی جامعہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری کے حصول میں مصروفِ عمل حمید اللہ مراد نے کہا کہ روس کی جانب سے یہ نقشہ شائع کیا جانا کوئی غلطی نہیں۔

"یہ افغانسان کی شمالی سرحدوں کے ساتھ ساتھ تناؤ اور قانونی تنازع پیدا کرنے کی غرض سے افغان سرزمین کے حصوں کو کاٹ کر دیگر ممالک کو دینے اور جیسا کہ ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ میں ہوا، افغانستان اور اس کے عوام کو برس ہا برس سرحدی تنازعات میں خاک آلود کرنے کا اس کا منصوبہ ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500