سلامتی

طالبان نے سمنگان اور تخار میں درجنوں طبی مراکز کو بند کر دیا

از ہدایت اللہ

طالبان نے سمنگان اور تخار صوبوں میں، صحتِ عامہ کے 52 مراکز کو بند کر دیا ہے۔ مقامی حکام اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہزاروں شہری صحت عامہ کی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ [اسماعیل سعادت/ سلام ٹائمز]

قندوز -- مقامی حکام اور شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے سمنگان اور تخار صوبوں میں 52 طبی مراکز کو بند کر دیا ہے جس سے ہزاروں شہری طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔

صوبائی طبی ڈائریکٹر عبدل خلیل مصدق نے 13 مارچ کو کہا کہ 9 نو نومبر سے اب تک، سمنگان میں، 26 مراکز کو بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بند کیے جانے والے مراکز درہِ صوف بالا، درہِِ صوف پیان، روئی دو آب، حضرتِ سلطان، فیروز نخچیر اور خرم و سرباغ کے اضلاع میں تھے۔

مصدق نے کہا کہ اس طرح طالبان نے سمنگان کی 600,000 کی آبادی میں سے تقریبا آدھی کو طبی سہولیات سے محروم کر دیا ہے۔

image

تخار صوبہ کے علاقے تالقان میں 13 اکتوبر 2018 کو ہونے والے بم دھماکے کے بعد، متاثرین کے رشتہ دار ہسپتال کے باہر کھڑے ہیں۔ حکام کے مطابق، 13 اکتوبر کو دھماکہ خیز مواد لے جانے والا ایک موٹرسائیکل، افغان انتخابات کے حامیوں کے درمیان اڑا دیا گیا جس سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ [نصیر صدیق/ اے ایف پی]

image

ایک افغان شہری، نامعلوم تاریخ کی تصویر میں بچے کو اٹھائے ہوئے ہے۔ طالبان نے افغان تنظیم اہیڈ (اے ایچ ای اے ڈی) کی طرف سے سمنگان اور تخار میں چلائے جانے والے 52 کلینکس کو بند کر دیا ہے۔ [اہیڈ]

انہوں نے کہا کہ سمنگان کے دور افتادہ علاقوں میں طبی مراکز کے بند ہو جانے سے، مریضوں کو علاج کے لیے، صوبائی دارالحکومت ایبک اور دوسرے اضلاعی مراکز میں جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "تنازعہ میں ملوث کسی بھی گروہ کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ طبی سہولیات تک رسائی کو روکے۔ مگر تمام قانونی ضابطوں اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف، طالبان نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایسے تمام مراکز کو بند کر دیا ہے"۔

طالبان رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں

اسسٹینس فار ہیلتھک ایجوکیشن اینڈ ڈویلپمنٹ (اہیڈ) کے ڈائریکٹر جنرل اسداللہ فیاض نے کہا کہ ان کی تنظیم سمنگان اور تخار میں صحت مندی منصوبے کے تحت، طبی سہولیات فراہم کر رہی تھی مگر طالبان نے ان کے درجنوں طبی مراکز کو بند کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "بدقسمتی سے، سمنگان میں 26 مراکز اور تخار میں مزید 26 بند کر دیے گئے ہیں"۔

فیاض نے کہا کہ طالبان نے ان مراکز کے عملے کو کہا کہ جب تک وہ گروہ کو عشر اور زکوة نہیں دیتے، ان طبی مراکز کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ڈاکٹر مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور طالبان کو انہیں طبی مراکز تک رسائی کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے"۔

تخار میں اہیڈ کے صوبائی ڈائریکٹر عبدل معرف فائق نے کہا کہ تخار میں بند ہونے والے مراکز، رستق، دشتِ قلعہ، ینگی قلعہ، خواجہ گڑھ، درقد، خواجہ بہاوالدین کے اضلاع اور صوبہ کے دیگر حصوں میں واقعہ ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ طالبان طبی عملے اور اہیڈ سے، طبی مراکز کو دوبارہ کھولنے کے لیے رقم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

سمنگان صوبائی کونسل کے نائب چیرمین محمد ہاشم سرواری نے کہا کہ "طبی مراکز کو بند کرنے سے، طالبان اہیڈ پر دباؤ ڈالنا اور انہیں رقم ادا کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طبی مراکز کو دوبارہ کھول دیں، ڈاکٹروں کو مریضوں کا علاج جاری رکھنے کی اجازت دیں اور عام شہریوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے نشانہ بنانا بند کردیں"۔

خواتین اور بچے متاثر ہوتے ہیں

دور افتادہ علاقوں کے شہری طالبان کی طرف سے، اپنے علاقوں میں طبی مراکز کو بند کرنے کے فیصلے سے، خصوصی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

درہ صوف پیان کے ایک قبائلی بزرگ عبدل فہیم سفاری نے کہا کہ حاملہ خواتین کو اب مقامی دواخانوں میں بچے پیدا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جہاں زچہ و بچہ وارڈ نہیں ہیں۔

انہوں نے بابا نذر گاوُں کی 27 سالہ خاتون کی مثال دی جسے دردِ زہ شروع ہونے پر ضلع کے کلینک میں منتقل کیا گیا۔ سفاری نے کہا کہ چونکہ کلینک بند تھا، اس لیے وہ بچے کی پیدائش کے دوران، 13 جنوری کو کلینک کے احاطے میں ہی وفات پا گئی۔

انہوں نے طالبان کو زندگیوں کو داوُ پر لگانے کا ملزم قرار دیتے ہوئےکہا کہ "درہِ صوف پیان میں چھہ مراکز اور ایک ہسپتال چار ماہ سے زیادہ کے عرصے سے بند ہیں جس سے اضلاع کے 120,000 شہریوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں"۔

حضرتِ سلطان، سمنگان کے ضلعی گورنر محمد ہاشم موثاق نے کہا کہ خواتین اور بچے ان بندشوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، ہر کوئی علاج کے لیے شہری مراکز تک جانے کی استاعت نہیں رکھتا۔

سمنگان سے تعلق رکھنے والی، خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن عائشہ صدیقی نے کہا کہ "طالبان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے طبی مراکز بند کر دیے تو شہری ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے مگر ایسا ناممکن ہے"۔

مراکز دوبارہ کھولنے کی کوششیں

تخار پولیس کے ترجمان عبدل خلیل اثیر نے کہا کہ اس بندش سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان، افغان قومی دفاعی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ دو بدو لڑنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے بعد، عام عوام سے جنگ شروع کر رہے ہیں۔

تخار صوبائی کونسل کے ایک رکن محمد اعظم افصلی نے کہا کہ "سیکورٹی کے خطرات کے ساتھ ساتھ، طبی مراکز کے بند ہو جانے سے ماورائی کوکھا ضلع کے شہریوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے"۔

ماورائی کوکھا، تاجکستان کے ساتھ سرحد پر خواجہ بہاوالدین، ینگی قلعہ، دشتِ قلعہ، رستق، درقد اور شاہ آب اضلاع کا مجموعہ ہے۔

سمنگان کے ہیلتھ ڈائریکٹر مصدق نے کہا کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری طرف سے ایک ٹیم اور اہیڈ کے لوگوں کو درہِ صوف پیان جو کہ طالبان کے اقتدار کا مرکز ہے، جانے کا کام سونپا گیا ہے تاکہ وہ مزاکرات کریں اور اس مسئلے کا حل نکالیں"۔

وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے، وفد کو نئے سال، جس کے آغاز اتوار (21 مارچ) کو ہو رہا ہے، کے پہلے ماہ میں بھیجنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

دریں اثناء، سمنگان سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن نجیب اللہ دانش نے کہا کہ "قبائلی بزرگ، مذہبی علماء اور مقامی شہریوں نے ان مراکز کو کھولنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بارآور ثابت ہوں گی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500