معیشت

اعداد سے کھیلنا: غربت کے خاتمے کا چینی 'معجزہ' ایک چالبازی سمجا جا رہا ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ناظرین، چین کی طرف سے غربت کے خاتمے کو حاصل کرنے کے موقع پر منعقد کی جانے والی ایک تقریب کو براہ راست دیکھ رہے ہیں۔ اس سے پہلے صدر شی جن پنگ نے 25 فروری کو لیوزو، صوبہ گوانگسی، چین میں، ملک کی طرف سے، انتہائی غربت کے خاتمے کے "'انسانی معجزے' کو حاصل کرنے میں فتح کا اعلان کرنے کیا تھا۔ [ایس ٹی آر/ اے ایف پی]

بیجنگ -- گزشتہ ہفتے بیجنگ میں ہونے والی ایک چمکتی دمکتی تقریب میں، چین کے صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے انتہائی غربت کے خاتمے کا "معجزہ" حاصل کر لیا ہے۔

شی نے 25 فروری کو کہا کہ "کوئی بھی دوسرا ملک لاکھوں، کروڑوں افراد کو اتنے کم وقت میں غربت سے نہیں نکال سکتا۔ ایک انسانی معجزہ تخلیق کیا گیا ہے جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا"۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ چین نے گزشتہ 50 سالوں میں ترقی کی ہے، تجزیہ نگاروں نے اس پیمانے کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں جن سے چین اپنی کامیابی ناپ رہا ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ اس میں آمرانہ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے، خودساختہ ترقی کے پروپیگنڈا، کا رنگ شامل ہے اور یہ بیجنگ کی طرف سے مغربی جمہوریتوں کو نقصان پہنچانے کی مہم کا حصہ ہے۔

image

ایک شخص، 30 جنوری کو بیجنگ میں سڑک کے کنارے کچرے سے کھانا کھا رہا ہے۔ دنیا کے 10 ایسے شہر جہاں ارب پتی افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے، میں سے چھہ چین میں ہیں اور بیجنگ مسلسل چھہ سالوں سے ان سب میں سے اول آ رہا ہے۔ [نیول سلیس /اے ایف پی]

اعداد سے کھیلنا

شی نے 2015 میں عہد کیا تھا کہ 2020 تک انتہائی درجے کی غربت کا خاتمہ کر دیا جائے گا، جو کہ کیمونسٹ پارٹی کا، اس سال کے آخیر میں اپنے قیام کی 100ویں سالگرہ کے موقع تک، ایک "اعتدال پسند خوشحال معاشرہ" قائم کرنے کا ایک مقصد ہے۔

چین نے گزشتہ سال دعوی کیا تھا کہ اس نے اپنے باسیوں کو 2.30 ڈالر روزانہ کی غربت کی لکیر سے بلند کرنے کے، طویل عرصے کے بلند بانگ دعوے کو حاصل کر لیا ہے۔

تاہم، بیجنگ کے سرکاری اعداد و شمار پر اکثر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے اور ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ غربت کے اعداد و شمار مکمل کہانی پیش نہیں کرتے ہیں اور بڑھتی ہوئی آمدنیوں نے چین کی غربت کی لکیر کو پرانا بنا دیا ہے۔

2020 کی ڈیڈ لائن سے پہلے، پارٹی کا عملہ متحرک ہو گیا: غریب گھرانوں کی شانخت کی گئی، فنڈز تقسیم کیے گئے اور بنیادی ڈھانچہ بنایا گیا تاکہ اعداد و شمار کو اس جگہ لے جایا جائے جہاں کیمونسٹ پارٹی انہیں لے جانا چاہتی ہے۔

اس مہم پر قرضوں کی صورت میں کم از کم 1 ٹریلن ڈالر کا خرچہ آیا اور یہ بوجھ، دن بہ دن سرمایے کی کمی کی شکار مقامی حکومتوں پر گرتا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن انٹاریو کی ماہر معاشیات ٹیری سکلر نے کہا کہ اس مہم کا ایک اور نتیجہ، غربت کے کام سے منسلک بدعنوانی کے لاکھوں واقعات ہیں۔

ان میں سے بہت سے واقعات میں مقامی اہلکار ملوث ہیں جنہوں نے فنڈز حاصل کرنے کے لیے، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو، جھوٹ بول کر غریب ظاہر کیا۔

سکلر نے کہا کہ چین کی باضابطہ غربت کی لکیر بھی، ملک کی اوسط گھریلو آمدنی کے مقابلے میں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ"اس وقت کی، یک سمتی، دیہی غربت کی لکیر، اس بات کی عکاسی نہیں کرتی ہے کہ چین کے انتہائی تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے معاشرے میں غریب ہونا کیا ہوتا ہے"۔

ورلڈ بینک اعلی متوسط آمدنی والی معیشتوں میں، غربت کا اندازہ لگانے کے لیے 5.50 ڈالر روزانہ کا، زیادہ بلند معیار تجویز کرتا ہے۔

اگر بیجنگ ان تجویز کردہ بلند اعداد کو استعمال کرے تو چین کی تقریبا 13 فیصد آبادی ابھی بھی غربت میں رہ رہی ہے۔ یہ تخمینہ ورلڈ بینک کے ملکی ڈائریکٹر مارٹن رائزر نے لگایا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ جیسے جیسے غربت کی لکیر بڑھتی ہے، شہروں کے رہنے والے بھی اس سے نیچے چلے جاتے ہیں۔

کیمونسٹ پارٹی کے ارب پتی

اس کے برعکس، گزشتہ سال تقریبا 200 چینی شہری ارب پتی بن گئے۔ یہ بات منگل (3 مارچ) کو جاری کیے جانے والے بین الاقوامی اعداد و شمار سے پتہ چلی ہے۔

ہورون گلوبل رچ لسٹ، 259 چینی شہریوں کو بلین ڈالر بریکٹ میں شامل ہوتا ہوا دکھاتی ہے -- جو کہ باقی مجموعی پوری دنیا سے زیادہ ہے -- جس سے چین میں کل تعداد 1,058 ہو جائے گی اور وہ پہلا ملک ہو گا جس نے 1,000 کی حد کو پار کیا ہے۔

آمدنی کی اوپری سطح پر اتنی زیادہ ترقی نے ان چینی شہریوں کے لیے کچھ نہیں کیا جو ابھی تک غربت میں رہ رہے ہیں۔

چین ان چند معیشتوں میں سے ایک ہے جن میں 2020 ترقی ہوئی ، کووڈ 19 کرونا وائرس کی عالمی وباء کی طرف سے عالمی معیشت پر لائی جانے والی تباہی کے باجود۔

کووڈ-19 کی عالمی وباء کے بارے میں سچائی جاننے میں مدد کرنے کی بجائے، یا وباء کو پھیلانے میں کردار ادا کرنے کو تسلیم کرنے کی بجائے -- چین کے حکام نے الزام تراشی اور "بہادارانہ" چینی ردعمل اور اقتصادی بحالی کی طرف توجہ دلانے پر توجہ مرکوز کیے رکھی۔

شی نے مغربی جمہوریتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں اپنے بیانے کو استعمال کیا اور چین کے آمرانہ ماڈل کی تشہیر کی ۔

گزشتہ ہفتے اپنے تبصرے میں، شی نے اس طرف توجہ مبذول کروائی کہ چین ابھی تک غربت سے لڑنے والے "ترقی یافتہ ممالک کو مدد فراہم کر رہا ہے"۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی امداد کے ساتھ اس کے کچھ مفادات جڑے ہوتے ہیں جیسے کہ وسائل کی ترقی کے لیے ٹھیکے اور چین کے حق میں تجارتی معاہدے۔

چین کا ٹرلین ڈالر کی لاگت کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی) چین کی حکومت کی طرف سے 2013 میں اپنائی جانے والی، بنیادی ڈھانچے کی بین الاقوامی ترقی کی حکمتِ عملی ہے اور اس کے تحت تقریبا 70 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

بی آر آئی کا قریبی جائزہ، بیجنگ کی طرف سے وسائل کے استحصال اور عسکری ارادوں -- بحیرہ جنوبی چین سے پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے اور ایران، وسطی ایشیاء اور افریقہ تک، کو آشکار کرتا ہے۔

غربت کی طرف لوٹ جانے کا امکان

چین میں غربت کے خاتمے کے ایک عہدے دار او کنگپنگ نے دسمبر میں متنبہ کیا تھا کہ کچھ چینی اب بھی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور ان کے پاس دولت مند ہونے کے لیے"ناکافی" وسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "جب خاتمے کی پالیسیاں بند کر دی جائیں گی تو وہ ممکنہ طور پر واپس غربت میں چلے جائیں گے"۔

بیماری یا بے روزگاری جیسی رکاوٹیں -- یا وبائیں-- خاندانوں کو واپس مشکل حالات میں لے جاتی ہیں۔

کینیڈا کی ماہرِ معاشیات سکلر نے کہا کہ "کسی ایک مخصوص وقت پر غربت کا خاتمہ کر دینے سے غربت ختم نہیں ہو جاتی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500