سلامتی

شام میں مقروض داعش جنگجو ڈکیتیاں کرنے پر مجبور

ولید ابوالخیر

image

اکتوبر میں داعش کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں تین ارکان دکھائے گئے ہیں، جو ایک بوڑھے شخص کو قتل کرنے ہی والے ہیں۔ نام نہاد خلافت کے سکوت کے بعد سے، اس گروہ کے بچ جانے والے ارکان نے اپنی سرگرمیوں کے لیے مالیات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے بلوائیوں کے انداز کے حربوں کا سہارا لے رکھا ہے۔ [فائل]

سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مشرقی شام میں "دولتِ اسلامیہٴ" (داعش) کے ارکان مجرموں کا ایک مختلف النوع مرکب بن گئے ہیں جو صرف اپنی بقا کی خاطر مقامی آبادی کو لوٹتے اور دہشت زدہ کرتے، اور تاجروں اور مقامی باشندوں کے قرض ادا نہ کرتے ہوئے ڈکیتوں کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

دیہی الراقہ میں ایک 50 سالہ کسان جمال البکر نے کہا، "صوبہ دیرایزور میں داعش عناصر گرفتار ہوئے بغیر زندہ رہنے کے لیے متعدد افراد پر خوراک اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، یہ بعض اوقات دھمکیوں کا سہارا لیتے ہیں اور دیگر اوقات بعد میں ادائگی کا وعدہ کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "وہ جتنا سامان ڈرا دھمکا کر حاصل کرتے ہیں— اسی قدر منظم ڈکیتیوں سے بھی حاصل کرتے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈکیتیوں کا ہدف دورافتادہ علاقوں میں تاجر اور چرواہے اورخوراک اور دیگر سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرک ڈرائیور ہوتے ہیں۔

یہ دھمکیاں سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہیں، کیوں کہ ان کے مطالبات پر انکار کرنے والوں کے خلاف انتقامی کاروائی کے متعدد واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

image

دیہی دیرایزور میں داعش عناصر کے قبضہ سے ملنے والے ہتھیار، شناختی کارڈ اور کمیونیکیشن آلات۔ [ایس ڈی ایف]

image

داعش عناصر اور ان کے شرکاء کی شناخت کے مشن کے جزُ کے طور پر ایس ڈی ایف کے ارکان دیہی دیرایزور میں ایک سیکیورٹی ناکے پر شناختی دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں۔ [ایس ڈی ایف]

البکر نے کہا کہ اس گروہ کے بچے کھچے ارکان رات کو گھروں اور دکانوں کے باہر کتابچے چھوڑ آتے ہیں، "جن میں ان سے تعاون نہ کرنے اور اس گروہ میں شمولیت اختیار کرنے سے انکار کرنے والوں کو دھمکایا جاتا ہے۔"

"انہوں نے کہا کہ اس گروہ کو پہنچنے والے تمام تر نقصانات، اس سے متعلق سچائی کا انکشاف کر دینے والے سکینڈلز اور اس کی جانب سے فروغ پانے والی ان غلط تعلمیات کے باوجود، اس گروہ کے ارکان مسلسل حقیقت سے منقطع، محوِ خیالِ خام ہیں، اور تاحال [اس گروہ کے امیروں کی جانب سے] استحصال کا شکار ہیں۔

مارچ 2019 میں مشرقِ وسطیٰ میں اس گروہ کی علاقائی شکست – نام نہاد "خلافت" کی تباہی – اس گروہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ تھی، اور اس کے ارکان تب سے ازسرِ نو گروہ بندی کے لیے دربدر ہیں.

اخلاقی اور مالی دیوالیہ

شامی جمہوری افواج (ایس ڈی ایف) کے افسر فرہاد خوجہ نے کہا، "صوبہ دیر ایزور کے عوام اب مکمل طور پر قائل ہیں کہ داعش مذہبی، سیاسی، عسکری اور یہاں تک کہ مالی لحاظ سے بھی دیوالیہ ہو چکی ہے۔"

خوجہ نے کہا کہ اپنے کام کی وجہ سے وہ متعدد تاجروں اور چرواہوں سے ملے، جن کا کہنا ہے کہ خطے کے عوام نے داعش کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "داعش عناصر نے زیادہ تر ایسے لوگوں کو قتل کیا جنہوں نے اس گروہ کے ساتھ تعاون کرنے یا اس کے عناصر کو کسی بھی قسم کی حمایت فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔"

اس کے برعکس مقامی آبادی اس گروہ کے متعدد مشتبہ ارکان یا ممکنہ کمین گاہوں سے متعلق سیکیورٹی فورسز کو مخبریاں کر رہی ہے۔

اس کے بدلے میں سیکیورٹی فورسز مخبروں اور ایسے دیگر افراد کو تحفظ فراہم کرتی ہیں جنہیں داعش کے باقی ماندگان دھمکیاں دیتے ہیں۔

خوجہ نے مزید کہا، "چند داعش رہنما یا تو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بیواؤں اور مستحق افراد کے اکاؤنٹس ظاہر کر کے دھوکہ دہی کے ذریعے یا تاجروں اور شرکاء سے نقد لے کر متعدد طریقوں سے مسلسل پیسہ وصول کر رہے ہیں۔"

تاہم، انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیسہ داعش کے امیروں کے پاس رہتا ہے، خواہ وہ شام میں ہوں یا بیرونِ ملک۔

خوجہ نے کہا، "اس سے اس گروہ اور اس کے رہنماؤں سے متعلق معلوم ہوتا ہے، جن کی ترجیح اپنے لیے پیسہ اکٹھا کرنا اور چند ایسے عناصر کا استحصال ہے جو مالی وعیدوں یا ان کی جانب سے فروغ دیے گئے مذہبی دروغ کے ساتھ صحرائی علاقوں میں رہتے ہیں۔"

غیر ادا شدہ قرضہ جات

الرقہ کے رہائشی اور آسائش (کرد داخلی سلامتی افواج) کے ایک رضاکار رمیض الحسین نے کہا، "الرقہ یا اس کے دیہی علاقوں میں کچھ تاجر ایسے داعش عناصر کی دھمکیوں کا شکار بن گئے جنہوں نے بعد ازیں ادائگی کے وعدوں کے ساتھ ادھار پر اشیا خرید کیں۔"

انہوں نے کہا، "اس جال میں پھنسنے والے تمام نے اپنے مجرمانہ پن کے لیے مشہور اس گروہ کے عناصر کی جانب سے متوقع ردِّ عمل کے خوف کی وجہ سے تسلیم کر لیا۔"

انہوں نے کہا، "لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ دھمکیاں غیر مؤثر ہو چکی ہیں اور قرض کی رقوم بہت زیادہ ہو جانے پر اور تاجروں کو اس امر کا یقین ہو جانے پر کہ انہیں ادائگی نہیں ہو گی، اب تاجر تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔"

الحسین نے کہا، "داعش کے باقی ماندہ ارکان بدیعہ (مشرقی صحرا) کے علاقہ میں کمین گاہوں اور زیرِ زمین درّوں اور سرنگوں میں نہایت خستہ حالی میں مقیم ہیں، جو کہ انہیں وقتاً فوقتاً باہر نکل کر جوا کھیلنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ وہ زندہ رہنے کے لیے کچھ حاصل کر سکیں۔"

انہوں نے کہا، "لیکن سیکیورٹی فورسز کو فراہم کی جانے والی معلومات اور شہریوں کی معاونت سے وہ ایک ایک کر کے گرفتار ہو رہے ہیں۔ گرفتاری کے وقت ان پر تناؤ، تکان، غذائی قلت اور طبی عدم توجہی کی علامات عیاں ہوتی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500