صحت

چین کی دنیا کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کہ وہ کووڈ-19 کا 'شکار' ہوا ہے

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

گزشتہ 29 جولائی کو ایک مزدور پلنگوں کے ڈھانچوں کے پاس سے گزر رہا ہے جبکہ دیگر مزدور ووہان کے سب سے بڑے اُس عارضی ہسپتال میں تنصیبات کو منہدم کر رہے ہیں جو کووڈ-19 سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

ووہان -- کورونا وائرس کے ماخدوں کے بارے میں تردیدوں، جھوٹوں، لیت و لعل سے کام لینے اور بدحواسی کے مہینوں کے بعد، اب بیجنگ اپنی غلط معلومات پھیلانے کی کوششوں کو ایک نئی بلندی پر لے جا رہا ہے: دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ چین کووڈ-19 کی عالمی وباء کا شکار ہوا ہے۔

تاریخ کا یہ از سرِ نو رقم ہونا، اور اس کے بعد اس کردار کی لیپا پوتی کرنا جو بیجنگ کی دروغ گوئی نے مہلک بیماری کے پھیلاؤ میں ادا کیا ہے ، سب سے پہلے عالمی وباء کے مرکز، ووہان میں ہوئی تھی۔

چینی ریاستی ذرائع ابلاغ حد سے زیادہ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، حقیقت سے نظریں چرانے کی ایک کوشش میں حکومت کے کووڈ-19 پر فتح پانے کے متعلق ایک کے بعد دوسری کہانی پھیلا رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹورانٹو کی سیٹیزن لیب پر ایک محقق، لوٹس روان نے اس ماہ کے شروع میں دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ حکومت کا مقصد "عوام کے لیے کورونا وائرس کی عالمی وباء کی ایک اجتماعی یادداشت کا ریاست کی جانب سے منظور شدہ ورژن تیار کرنا ہے"۔

image

مہلک عالمی وباء جسے چینی حکومت چاہے کہ کہ دنیا بھول جائے کے درمیان، گزشتہ 19 مارچ کو ووہان، چین میں ایک طبی اہلکار کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کرنے کے بعد ایک لباس تبدیل کرنے والے کمرے کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

image

کووڈ-19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے شہر میں لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے ایک سال بعد، 23 جنوری کو ووہان، چین میں سمندری خوراک کی ایک تھوک منڈی ہوانان کے قریب سے راہگیر گزر رہے ہیں۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

ووہان میں اپنے چکن کے ہاٹ پاٹ کی دکان کے باہر کھڑی ایک خاتون ثبوت ہے کہ بیجنگ کا بیانیہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔

"یہ دوسرے ملکوں سے آیا تھا؛ چین نشانہ بنا ہے،" اس نے بی بی سی نیوز آور کو بتایا۔

اس کی مچھلی فروش ہمسائی نے اس سے اتفاق کیا۔

اس نے اس دعوے کے متعلق بغیر مزید تفصیل بیان کیے کہا، "یہ وائرس ووہان کا نہیں ہے۔ یہ امریکہ سے آیا تھا۔"

پچھلے سال کے ایک بڑے حصے سے، جبکہ دنیا عالمی وباء کے خلاف جدوجہد کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، بیجنگ کووڈ-19 کی عالمی وباء کے بیانیئے کو چین کی عظیم فتح کے طور پر گھمانے میں مصروفِ عمل رہا ہے: ووہان، جو کبھی وائرس کا مرکز ہوتا تھا، میں زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے.

آج ووہان ایک سال پہلے کے لاک ڈاؤن لگے سائیں سائیں کرتے شہر کی طرح بالکل بھی نہیں ہے، جس میں شبینہ کلب اور خریداری کے مراکز کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں اور شہریوں کا عوامی سواریوں اور پارکوں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔

عمر کے 20 سال کے عشرے میں بغیر ماسک پہنے ایک دوڑ لگانے والے لڑکے، جس نے اپنا نام صرف وانگ بتایا، اس نے اے ایف پی سے کہا، "زندگی اب پہلے کی طرح ہے۔"

76 سالہ ہوانگ گینبن، نے پچھلے سال کووڈ-19 سے لڑتے ہوئے، خون تھوکتے اور موت کی آس میں، 67 دن ہسپتال میں گزارے تھے۔

اس نے اے ایف پی کو بتایا، "جب میں رات کے وقت اپنی آنکھیں بند کرتا تھا، مجھے نہیں پتہ ہوتا تھا کہ میں انہیں دوبارہ کھولوں گا یا نہیں۔"

اپنے بہت سے ہم وطنوں کی طرح، اس نے عالمی وباء کو محدود کرنے کے لیے، ووہان کی مثال پیش کرتے ہوئے، چینی حکومت اور شہریوں کی جانب سے کی گئی "عظیم کوششوں" پر فخر کا اظہار کیا۔

ہوانگ نے کہا، "ہم نتائج کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کی پالیسی درست تھی؛ [ووہان کے] شہریوں کا تعاون درست تھا۔ مجھے پوری دنیا میں عالمی وباء کو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔"

سینسر کرنے والوں کی فوج

ووہان کے لاک ڈاؤن کو ایک "کامیابی" کہنا حقیقت سے کوسوں دور ہے، کیونکہ کووڈ-19 دنیا کو تباہ کرنے کے لیے بڑی تیزی کے ساتھ چین کے دیگر حصوں اور دوسرے ممالک میں پھیلا تھا۔

مگر چینی رہنماؤں کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے یا ان پر سوچ بچار کرنے میں کم ہی دلچسپی ہے۔

اس کی بجائے، حکومت نے ایک سرکاری پراپیگنڈہ بیانیہ پھیلایا ہے -- ووہان کو ایک ستارہ بنانا -- چین کے "سورماؤں" والے ردِعمل اور بحالی کو مرکزِ نگاہ بناتے ہوئے.

یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے ساتھ الحاق شدہ ایک تحقیقی پروگرام، چائنا میڈیا پراجیکٹ کے شریک ڈائریکٹر، ڈیوڈ بندورسکی نے کہا، "چین کے ردِعمل کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے لیے ایک بہت بڑی فتح کے طور پر پیش کیا گیا۔"

انہوں نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا، "چینی رہنماؤں کے لیے، کہانی لکھی ہوئی ہے۔"

اخبار نے بتایا کہ یہ تسلی کرنے کے لیے کہ کہانی پر کوئی سوال نہ اٹھنے پائے، حکومت نے حالیہ ہفتوں میں انٹرنیٹ سے ووہان میں وباء کے پھیلاؤ کے متعلق کوئی بھی تنقیدی بات مٹا ڈالنے کے لیے سینسر کرنے والوں کی ایک فوج تعینات کر دی ہے۔ "پہلی سالگرہ" اور "وسل بلور" جیسی اصطلاحات چینی ویب سائٹوں سے بعض اوقات مٹا دی گئی ہیں۔

دی نیویارک ٹائمز نے بتایا، "ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ایک خبر رساں ادارے کے صحافیوں، جنہیں اس حکم پر بریفنگ دی گئی تھی، کے مطابق ایک حالیہ پراپیگنڈہ ہدایت میں وباء کی پہلی سالگرہ کی کوریج کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔"

ووہان کے 76 روزہ لاک ڈاؤن کی سالگرہ جو 23 جنوری کو تھی، چین میں نہایت ہی کم منایا گیا، جس میں سرکاری طور پر کوئی بیان نہیں دیا گیا اور ریاستی پراپیگنڈہ کے اداروں میں کم سے کم اس پر بات کی گئی۔

بیجنگ نیوز میں ایک مفصل بیان میں "ملے جلے جذبات" دعویٰ کیا گیا، جس میں جارحانہ لاک ڈاؤن کو دنیا کے لیے ایک نمونے کے طور پر سراہا گیا جبکہ ووہان کی قربانیوں کو -- اور وائرس کے متواتر خطرے کو یاد کیا گیا۔

اس میں کہا گیا، "ہم پر لازم ہے کہ عالمی وباء سے بڑی محنت کے ساتھ نکالے گئے نتائج کو غفلت کی نظر نہ کریں اور کسی بھی طرح عالمی وباء کو دوبارہ نہ پھیلنے دیں۔"

اس میں مزید کہا گیا، "ووہان کو خراجِ تحسین پیش کریں۔ مضبوط اور بے خوف چینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کریں!"

چینی حکام 'بہت گھبرائے ہوئے ہیں'

حالیہ ہفتوں میں بیجنگ کے باتوں کو گھما پھرا کر کرنے میں زیادہ تیزی آ گئی ہے کیونکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کورونا وائرس کے ماخذوں کی تفتیش کرنے کے لیے شہر پہنچے ہیں.

جب چینی حکومت نے انہیں اس مہینے کے شروع میں پہنچنے سے روک دیا تھا، 13 سائنسدانوں پر مشتمل بین الاقوامی ٹیم 14 جنوری کو ووہان کے ہوائی اڈے پر پہنچی اور اس نے جعمرات (28 جنوری) کو 14 روزہ قرنطینہ سے نکلنا ہے۔

جبکہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم ووہان میں ہے، شہر کے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیئے ہیں اور ان پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

گروپ کے ایک رکن اور وباء کو سنبھالنے کے ایک نقاد، ژانگ ہائے نے بدھ کے روز کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر ایک گروپ جو گزشتہ برس 80 سے 100 اہلِ خانہ کی جانب سے استعمال کیا جاتا تھا تقریباً 10 روز قبل بغیر کسی وضاحت کے اچانک حذف کر دیا گیا۔

51 سالہ ژانگ، جس کے والد مشتبہ کووڈ-19 کی عالمی وباء کے شروع میں وفات پا گئے تھے، نے کہا، "یہ ظاہر کرتا ہے کہ [چینی حکام] بہت گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں کہ خاندانوں کا ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے ساتھ رابطہ ہو جائے گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "جب ڈبلیو ایچ او ووہان پہنچی، [حکام نے] زبردستی [گروپ] ختم کروا دیا۔ نتیجتاً ہمارا بہت سے ارکان کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا ہے۔"

دیگر ورثاء نے گروپ کو حذف کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

ایک اور خاندان کی رکن، ایک ریٹائر خاتون جس کا کہنا ہے کہ اس کی جوان بیٹی پچھلے جنوری میں وائرس سے ہلاک ہو گئی تھی، نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے پچھلے ہفتے اسے طلب کیا اور خبردار کیا کہ نہ تو "ذرائع ابلاغ سے بات کرے نہ ہی دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہو"۔

گمنامی کی درخواست کرتے ہوئے، اس نے مزید کہا کہ منگل کے روز حکام اس کے دروازے پر آئے "اور وہی پرانا راگ الاپا اور مجھے 5،000 چینی یوان [775 امریکی ڈالر] بطور 'تعزیتی رقم' دیئے"۔

سرکاری رکاوٹ

رشتے دار ووہان اور ہیوبئی کی صوبائی حکومتوں پر الزام لگاتے ہیں کہ انہیں نے دسمبر 2019 میں جب وباء پہلی بار شہر میں پھوٹی تھی تو اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کووڈ-19 کو ہاتھوں سے نکل جانے دیا، پھر عوام کو خبردار کرنے میں ناکام ہوئے اور بدانتظامی سے ردِعمل دیا۔

چین کے سرکاری اعداوشمار کے مطابق، کووڈ-19 نے ووہان میں لگ بھگ 3،900 افراد کو ہلاک کیا، جبکہ 4،636 ہلاک ہونے والوں کی وسیع اکثریت کی تفصیل بیان کی۔

بہت سے ورثاء ان اعدادوشمار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ وباء پھوٹنے کے ابتدائی دنوں میں بدنظمی میں ٹیسٹنگ کی کمی کا مطلب ہے کہ بہت سے لوگ غالباً بیماری ہونے کی تصدیق ہوئے بغیر ہی مر گئے تھے۔

دنیا بھر میں ابھی تک دو ملین سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چینی حکومت نے بغیر کسی ثبوت کے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بیماری کہیں اور ظاہر ہوئی تھی، خوفناک عالمی انسانی اور معاشی نقصان کے الزام کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے.

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) ایسی کسی بھی چیز کو چھپا لیتی ہے جو اس کی حکمرانی کی بری روشنی میں عکاسی کرتی ہے، اور وباء کے ابتدائی ایام آج چین میں حساس ترین موضوعات میں سے ایک رہے ہیں۔

وائرس کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ یہ چمگادڑوں سے ظاہر ہوا اور ابتداء میں ووہان میں ایک جانوروں کی منڈی میں پھیلا جہاں جنگلی جانور بطور خوراک فروخت ہوتے ہیں۔

باقی بہت کم معلوم ہے، اور بیجنگ کی رازداری، غلط معلومات دینے اور تاخیر کرنے کی تاریخ کے پیشِ نظر، یہ واضح نہیں ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کتنا کچھ بے نقاب کرنے کے قابل ہو گی.

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500