صحت

ووہان کے کلبوں کے ارکان 'آزادی' کی ڈینگیں مار رہے ہیں جبکہ دنیا کی مصیبتیں جاری ہیں

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

21 جنوری کو لوگ ووہان، چین کے ایک شبینہ کلب جاتے ہوئے۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

ووہان -- اندھیرے میں چمکتے ہوئے خرگوش کے کان، تھرکتی دھنیں اور ماسک پہننے میں لچکدار رویہ: چین کے ووہان کی شبینہ زندگی 11 ملین نفوس پر مشتمل شہر کی زندگی پر جمود طاری کرنے والے لاک ڈاؤن کے لگ بھگ ایک سال بعد پوری شدت کے ساتھ واپس لوٹ آئی ہے۔

جب باقی ساری دنیا، بشمول چین کے دیگر علاقے، لاک ڈاؤن اور انفیکشن کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نبردآزما ہونا جاری رکھے ہوئے ہیں، ووہان، جو کبھی نوول کورونا وائرس کی وباء کا مرکز تھا، میں نوجوان اپنی آزادی کی ڈینگیں مار رہے ہیں۔

سوپر مونکی -- شہر کے وسط میں ایک بہت بڑے شبینہ کلب -- میں نہ تو لباس کا کوئی ضابطہ ہے نہ ہی مہمانانِ خصوصی کی کوئی فہرست ہے۔

لازمی چیز، کم از کم دروازے سے گزرنے کے لیے، ماسک اور درجۂ حرارت کی پڑتال ہے -- جس کا بھی درجۂ حرارت 37.3 ڈگری سیلسیئس ہو دروازے پر تعینات محافظ محفل میں شریک ہونے کے خواہش مند کو بھگا سکتے ہیں۔

image

21 جنوری کو لی گئی اس تصویر میں، لوگ چین کے مرکزی ہیوبائی صوبہ کے دارالحکومت ووہان میں ایک شبینہ کلب جاتے ہوئے۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

image

21 جنوری کو لی گئی اس تصویر میں، لوگ ووہان، چین میں ایک شبینہ کلب جاتے ہوئے، جبکہ باقی ساری دنیا کورونا وائرس کی عالمی وباء کی وجہ سے ہونے والے طویل لاک ڈاؤن میں پھنسی ہوئی ہے۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

اندر، جہاں کلب میں جانے والے ٹیکنوں کی کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آواز اور آنکھوں کو چندھیا دینے والے لیزر شو میں ڈانس فلور پر ٹھمکتے ہیں، اصولوں پر ہمیشہ ہی زیادہ سختی سے عمل نہیں کیا جاتا۔

جبکہ دروازے پر ماسک پہننا لازمی ہے، ڈی جے اور شرکائے محفل دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے، رقص کرنے یا تمباکو نوشی کرنے کے لیے انہیں اتار دیتے ہیں۔

گزشتہ سال کے اُس سخت قرنطینہ کے بعد بہت سے لوگ بس خود کو شہر میں پا کر ہی مسرور ہیں، جو پُراسرار نئے وائرس سے لڑنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

تیس کے پیٹے میں ایک شخص، جس نے اپنی شناخت ژو کے طور پر کروائی تھی، اس نے اے ایف پی کو بتایا، "میں دو یا تین ماہ کے لیے اندر پھنس گیا تھا۔۔۔ ملک نے وائرس سے بہت اچھی طرح نمٹا ہے، اور اب میں مکمل طمانیت کے ساتھ باہر جا سکتا ہوں۔"

پچھلی گرمیوں میں، ووہان کے ایک واٹر پارک میں بہت بڑی محفل کی تصاویر نے باقی ماندہ دنیا میں انٹرنیٹ صارفین کو چونکا دیا تھا، جہاں کورونا وائرس مسلط تھا۔

منافعے اور جھوٹ

عیش و عشرت کا ماحول اور برف میں لگی شیمپین اس سادگی سے کوسوں دور ہیں جس کی تبلیغ بیجنگ میں حکام کی جانب سے کی جاتی ہے۔

پچھلے چند روز میں ملک کے دیگر حصوں میں کیسز کی تعداد میں حالیہ اضافے کے باوجود، چین ژیانگ، 20 کے پیٹے میں ایک نوجوان، نے عالمی وباء کو عملی طور پر ختم کرنے پر کمیونسٹ پارٹی کو سراہا۔

اس نے کہا، "چینی حکومت اچھی ہے۔ چینی حکومت نے اپنے عوام کے لیے سب کچھ کیا اور اس کے عوام سب سے بہتر ہیں۔ یہ بیرونی ممالک سے مختلف ہے۔"

ژیانگ کے الفاظ بیجنگ کے ریاستی ذرائع ابلاغ کی عالمی وباء کے آغاز سے ہی غلط معلومات فراہم کرنے کی بہت بڑی مہم کی بازگشت ہیں، جس میں وائرس سے نمٹنے میں مغربی حکومتوں کی "ناکامی" کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

یہ چین کی "کامیابی" کی بیجنگ کے آمرانہ سیاسی ماڈل کی برتری کے ثبوت کے طور پر جھوٹی تعریف کرتا ہے۔

چین کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وائرس سے ہونے والی اموات کی 5،000 سے کم تعداد پر، بیجنگ اپنے اس بیانیئے کو فروغ دینے کے لیے فتح کے راستے پر آگے آگے ہے کہ اس نے کووڈ-19 کو کیسے محدود کیا، ویکسینز تیار کیں اور اپنی معیشت کو دوبارہ سے اٹھا دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ چینی حکومت نے سانس کی اس بیماری کی خبروں کو اس وقت دبا لیا تھا جب یہ پہلی بار 2019 کے آخر میں ظاہر ہوئی تھی، اور اس کے ابتدائی مشورے میں پھیلاؤ کے خطرات کو بہت کم کر کے بتایا گیا تھا۔

بیجنگ کی ابتدائی خاموشی -- اور بعد ازاں الزامات کا رخ موڑنے اور جھوٹ پھیلانے کے مقصد سے غلط معلومات فراہم کرنے کی مہمات -- نے وائرس کو دنیا بھر میں پھیل جانے کے قابل بنایا، جس سے دو ملین سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور عالمی معیشتیں برباد ہو گئیں۔

اس ہفتے چین نے سنہ 2020 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.3 فیصد بتائی ہے -- جو دہائیوں میں سب سے زیادہ سست ہے مگر پھر بھی واحد بڑی معیشت ہے جس نے عالمی وباء کے دوران مثبت اعدادوشمار پوسٹ کیے ہیں۔

اس شرح نمو کا بڑا حصہ چینی حکومت کی عالمی وباء سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں کی وجہ سے متوقع تھا۔

چین نے قلت کو پورا کرنے کے لیے پی پی ای تیار کرنے کی ایک بہت بڑی کوشش کا آغاز کیا: سنہ 2020 کی پہلی ششماہی میں 73،000 سے زائد کمپنیاں بطور ماسک ساز رجسٹر ہوئیں -- بشمول صرف اپریل ہی میں 36،000 سے زائد کمپنیاں -- جب نرخوں اور طلب میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔

گزشتہ جولائی میں دی نیویارک ٹائمز نے بتایا تھا کہ اس کوشش کے جزو کے طور پر، چینی حکام نے سنکیانگ کے علاقے میں مسلمان اقلیتوں کو پی پی ای فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 30 جون تک، سنکیانگ میں 51 پی پی ای فیکٹریاں، جو کہ عالمی وباء سے قبل صرف چار تھیں، کام کر رہی تھیں۔

حسبِ معمول زندگی؟

مگر جبکہ بہت سے لوگ معمول کی زندگی کی طرف واپس جانے کے متمنی ہیں، کچھ لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وائرس نے معاملات تبدیل کر دیئے ہیں۔

چین کا کہنا تھا کہ کلب میں لوگوں کی تعداد عالمی وباء سے قبل آنے والی تعداد سے کم ہے۔

شبینہ کلب کے برانڈ مینیجر لی بو کا کہنا تھا کہ وائرس نے اس صنعت کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔

یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ ووہان میں شبینہ زندگی تقریباً 70-60 فیصد کم ہو گئی ہے، انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "دیگر ممالک میں دوسرے لاک ڈاؤنز کے مقابلے میں، ہمارا ملک کم از کم آدھا کھلا ہوا ہے، مگر ابھی بھی صارفین بے آرامی محسوس کرتے ہیں۔"

کچھ مقتدر حلقوں کی جانب سے نافذ کردہ سخت اصولوں کا کوئی فائدہ نہ ہوا، اور آنے والوں کی تعداد محدود رہی اور پیشگی بُک کروانا درکار ہوتا تھا۔

صارفین کے لیے ایک سراغ لگانے والی ایپ دکھانا بھی لازمی تھا یہ ثبوت پیش کرنے کے لیے کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔

حتیٰ کہ یہ بھی بعض اوقات داخلے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

اے ایف پی کے بہت سے صحافیوں کو امہان کلب میں داخل ہونے دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ ان کی ایپس نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بیجنگ سے آئے تھے۔

چین کے دارالحکومت کے ایک جنوبی ہمسایہ شہر نے وائرس کی ایک ایسی شکل سے انفیکشنز کی اطلاع دی ہے جس کا ماخذ یو کے ہے اور 20 جنوری کو حکام نے 1.6 ملین افراد کو لاک ڈاؤن میں جانے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب، تعمیراتی عملہ شیجیازہوانگ شہر میں قرنطینہ کی ایک بڑی عمارت تعمیر کرنے کے لیے دن رات مصروف رہا ہے، جہاں 11 ملین باسیوں کو حالیہ ہفتوں میں سینکڑوں نئے متاثرین کے بعد سخت لاک ڈاؤن میں رکھا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ریاستی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ ہیبیوئی صوبہ کے نواح میں 20،000 سے زائد دیہات مرکزی بنائی گئی عمارات میں قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

دریں اثناء، حکام نے تقریباً تین ملین افراد کو جیلیان صوبہ میں 18 جنوری سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن میں رکھ دیا ہے جب انہوں 100 سے زائد انفیکشنز کا الزام ایک مسافر سیلز مین پر لگایا تھا۔

وباؤں نے 12 فروری کو آئندہ قمری سالِ نو سے قبل کیسز کی ایک ممکنہ لہر کے لیے چین کو انتہائی چوکس کر دیا ہے۔

حکام کو توقع ہے کہ قومی میلے کے دوران ایک دن میں تقریباً 40 ملین چینی افراد سفر کریں گے -- جس سے بیجنگ کا وائرس کو کم کر کے اس پر "فتح" پانے کا ارادہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500