صحت

بین الاقوامی تفتیش ووہان پہنچ گئی، مگر اسے کیا ثبوت ملے گا؟

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

کووڈ-19 کی عالمی وباء کے ماخذوں پر تحقیقات کرنے والی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم کے ارکان کو لے کر جانے والی بس 14 جنوری کو ان کی آمد کے بعد ووہان کے ہوائی اڈے سے رخصت ہوتے ہوئے۔ [نکولس اسفوری/اے ایف پی]

ووہان، چین -- بہت زیادہ تاخیر اور سیاسی بحث و تکرار کے بعد، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے تعلق رکھنے والی تجزیہ کاروں کی ٹیم کورونا وائرس کے ظہور کے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اس کے ماخذوں کی تفتیش کرنے کے لیے، آخرکار ووہان، چین پہنچی ہے۔

13 سائنسدانوں پر مشتمل بین الاقوامی ٹیم جمعرات (14 جنوری) کے روز اپنے مشن کے لیے پہنچی۔ حفاظتی لباسوں میں ملبوس چینی حکام نے ان سے ملاقات کی اور پہنچنے پر ان کے گلے کے نمونے لیے گئے، اور انہیں فوری طور پر ایک ہوٹل بھجوا دیا گیا جہاں ان کے لیے اپنا کام شروع کرنے سے قبل دو ہفتے کا قرنطینہ مکمل کرنا لازمی ہے۔

کچھ لوگ اختلاف کرتے ہیں کہ وائرس جس نے دنیا کو اس کے گھٹنوں پر جھکا دیا سنہ 2019 میں ووہان کی ایک جانوروں کی منڈی سے شروع ہوا تھا، جہاں جنگلی جانور، بشمول چمگادڑیں، بطور خوراک فروخت کیے جاتے تھے۔

اس کے بعد سے، عالمی وباء کی لہریں دنیا میں پھیلی ہیں، جن سے ابھی تک لگ بھگ دو ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں، دسیوں لاکھوں متاثر ہوئے ہیں اور عالمی معشیت تباہ ہو گئی ہے۔

image

11 جنوری 2020 کو ووہان میں ہوانان کی سمندری خوراک کی بند تھوک منڈی کے سامنے چوکیدار پہرہ دیتے ہوئے، یہ وہی دن ہے جب چین نے کووڈ-19 سے اپنی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ [نوئل سیلس/اے ایف پی]

image

1 جنوری کو پیدل چلنے والے ووہان، ہیوبئی صوبہ، چین میں خریداری کے ایک مرکز کے پاس سے گزرتے ہوئے۔ [نوئل سیلس/اے ایف پی]

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے راستے کو تلاش کرنا مستقبل کی وباؤں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

مگر انہیں دی جانے والی رعایت پر گفت و شنید کے جدوجہد سے بھرپور مہینوں کے باوجود، چینی حکومت نے ٹیم کو اس مہینے کے شروع میں آمد سے روکے رکھا -- جو ممالک کے مابین الٹی تہمت، قیاس آرائی اور تردیدوں کی وجہ سے ایک وائرس کے ماخذ کی کہانی کی آلودگی کی سیاسی حساسیت کی علامت ہے۔

سنہ 2020 کے اوائل میں، چینی حکام نے، جانتے بوجھتے ہوئے کہ ایک مہلک وباء سر پر آن کھڑی ہوئی ہے، لگ بھک ایک ہفتے تک کچھ نہ کہا ، جس سے وائرس کو ووہان میں پنجے گاڑنے اور دنیا بھر میں پھیلنے کا موقع مل گیا، جبکہ حکومت نے وباء کے ثبوت کو دانستہ طور پر دبایا یا تلف کر دیا۔

ووہان کے حکام نے ابتداء میں وباء کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی اور بعد میں قیمتی ہفتے انسانوں سے انسانوں میں منتقلی کی تردید کرنے میں گزار دیئے۔

اس سے بھی پہلے، چینی حکام نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ وباء ووہان میں ہوانان کی سمندری خوراک کی منڈی سے شروع ہوئی تھی۔ مگر جنوری 2020 میں چینی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پہلے کیسز میں سے کئی ایک کا اب بند کی جانے والی منڈی کے ساتھ کوئی تعلق معلوم نہیں تھا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ماخذ کہیں اور تھا۔

چین کی کہانی نے گزشتہ مارچ میں دوبارہ موڑ لیا جب چین کے بیماریوں پر قابو پانے والے چوٹی کے اہلکار گاؤ فو نے کہا کہ منڈی ماخذ نہیں تھی، بلکہ ایک "شکار" تھی، ایک ایسی جگہ کہاں جرثومہ محض بڑھا تھا۔

مگر اس کے بعد سے چین کھلے عام کوئی بھی گتھیاں سلجھانے میں ناکام رہا ہے، اور اس نے منڈی سے لیے گئے جانوروں اور ماحولیات کے ایسے نمونوں پر ناقص معلومات جاری کیں جو تحقیقات میں مدد کر سکتے تھے۔

اور اس نے غیر ملکی ماہرین کو دور ہی رکھا ہے۔

بیانیہ تبدیل کرنے کی کوششیں

بحران کے آغاز سے ہی، بیجنگ کورونا وائرس کی عالمی وباء میں اپنے کردار پر ہونے والی تنقید کا رخ موڑنے کی فعال کوششیں کرتا رہا ہے، سازشی نظریات کو فروغ دیتے ہوئے اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر وائرس سے متعلق صریحاً غلط معلومات کا طوفان لاتے ہوئےپکڑا گیا ہے۔.

ان کوشوں کے جزو کے طور پر، چینی حکومت کووڈ-19 کی عالمی وباء کے خلاف جنگ میں "سورماؤں والے کارناموں"کے اپنے بیانیئے کو فعال طور پر دھکیلتی رہی ہے.

عالمی وباء کے دوران بیجنگ نے -- ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اپنی ویکسین بانٹنے کے وعدے کر کے اور "ویکسین سفارتکاری" میں مشغول ہو کر اپنے نرم خو طاقت ہونے کا تاثر دینے میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ریاستی ذرائع ابلاغ دنیا کو یہ دکھانے کا آرزومند ہو سکتا ہے کہ چین عالمی وباء سے نکل چکا ہے ، مگر عالمی ادارۂ صحت کا دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب چینی حکومت وائرس کے تازہ جھرمٹوں کو مارنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

چین کے جنوب میں 20 ملین سے زائد لوگ لاک ڈاؤن میں ہیں اور ایک صوبے نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ 14 جنوری کو ملک نے آٹھ ماہ میں کووڈ-19 سے اپنی پہلی ہلاکت کی خبر دی ہے۔

اسی روز، چین کے قومی صحت کمیشن نے مزید 138 متاثرین کی خبر دی -- جو گزشتہ برس مارچ کے بعد ایک دن میں بلند ترین تعداد ہے۔

بیجنگ اگلے مہینے قمری سالِ نو کے میلے سے قبل مقامی اجتماعات کو بند کرنے کے لیے فکرمند ہے جب سینکڑوں لاکھ مسافر ملک بھر میں عازمِ سفر ہوں گے۔

عالمی ادارۂ صحت جوابات کا متلاشی

چین اپنے آپ کو اس گہری جانچ پڑتال کے لیے بھی تیار کر رہا ہے جو عالمی ادارۂ صحت کے سائنسدانوں کی ٹیم اس کے وائرس کے بیانیئے میں کرے گی۔

بیجنگ نے اس خیال کو بہت آہستہ آہستہ پھیلایا ہے کہ عالمی وباء اس کی سرحدوں سے باہر شروع ہوئی تھی، اس نے اپنے صحتِ عامہ کے بحران پر نسبتاً تیز کنٹرول پر توجہ دینے کو ترجیح دی ہے۔

مثال کے طور پر، سرکاری طور پر چلنے والے اخبار پیپلز ڈیلی نے نومبر کے اوائل میں فیس بُک کی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ "تمام دستیاب ثبوت گواہی دیتے ہیں کہ کورونا وائرس وسطی چین کے ووہان میں شروع نہیں ہوا تھا۔"

نومبر میں ہی، بیجنگ نے ایک اطالوی طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کو اپنی مرضی کا رنگ دینے میں جلدبازی کی کہ کووڈ-19 کورونا وائرس ستمبر 2019 سے ہی اٹلی میں گردش کر رہا تھا، جس سے اس نے تحقیقی نتائج کی کلیدی تفصیلات ختم کر دیں اور وباء کے ماخذوں پر شکوک کو مضبوط کرنے کے لیے سرسری سائنس کو استعمال کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام تر ثبوت عالمی بحران کے مرکز کے طور پر ووہان کی طرف اشارہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم یہاں سے اپنی تحقیق کا آغاز کرنے کی خواہشمند رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت اپنے مشن کے ساتھ منسلک سیاسی بوجھ کم کرنے میں کوشاں رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے سربراہ پیٹر بین ایمبارک نے تنبیہ کی کہ یہ "ایک بہت طویل سفر ہو سکتا ہے قبل اس سے کہ ہم مکمل طور پر سمجھیں کہ ہوا کیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں دو ہفتوں کا لازمی قرنطینہ مکمل کرنے کے بعد، ٹیم "اِدھر اُدھر جانے اور ذاتی طور پر چینی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے اور مختلف مقامات جہاں ہم جانا چاہیں گے پر جانے کے قابل ہو گی۔"

ایمبارک نے کہا، "میرا نہیں خیال کہ اس ابتدائی مشن کے بعد ہمیں واضح جوابات ملیں گے، مگر ہم راستے پر چل نکلیں گے۔"

"تجویز یہ ہے کہ بہت سے مطالعات جو پہلے ہی تیار کیے گئے تھے اور چند ماہ قبل ان پر فیصلہ ہو چکا تھا ان میں پیش قدمی کی جائے یہ بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ ہُوا کیا تھا۔"

رازداری اور شکوک

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پر بھی شک ہے کہ سائنسدانوں کو کیا کچھ دیکھنے کی اجازت ہو گی یا وہ ایک سال میں کیا تلاش کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکام نے عجلت میں ابتدائی ردِعمل میں انتہائی ضروری ثبوت تلف کر دیا ہو یا مٹا دیا ہو۔

عفونتی امراض کے تدارک پر مرکوز ایک عالمگیر این جی او، ایکوہیلتھ الائنس کے صدر، پیٹر دیسزاک نے کہا، "ہر وباء ایک ہی طرح سے پھیلتی ہے۔ یہ بے ترتیب اور فسادِ فعل کا شکار ہے۔"

انہوں نے کہا، "انہوں نے شروع میں جانوروں پر تحقیقات میں بہت اچھا کام نہیں کیا۔"

"کچھ طرح سے، وہ کافی کھلے تھے؛ اور دیگر طرح سے وہ کھلے سے بھی کم تھے۔"

چین کی رازداری کی وجوہات واضح نہیں ہیں، مگر حکمران کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی طور پر نقصان دہ معلومات کو دبانے کی ایک تاریخ ہے۔

انتباہ کرنے والوں اور شہریوں جنہوں نے وائرس کے متعلق شروع کے ہفتوں میں انٹرنیٹ پر خوفناک تفصیلات بتائی تھیں اس کے بعد سے خاموش کروا دیئے گئے ہیں یا جیل میں ڈال دیئے گئے ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرِ وبائیات جنہوں نے عالمی وباؤں کا بغور حساب کتاب رکھا ہے، ڈینیئل لوسی نے کہا کہ بیجنگ داخلی شرمندگی یا عالمی "ناپسندیدگی" سے بچنے کے لیے ضوابطی یا تحقیقاتی خامیوں کو چھپانے کا خواہشمند ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووہان کی منڈی ہو سکتا ہے کوئی مسئلہ بھی نہ ہو، ان کا مزید کہنا تھا کہ دسمبر 2019 تک وائرس ووہان میں پہلے ہی تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا، جس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ بہت پہلے سے زیرِ گردش تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک وائرس کے لیے انسانوں میں انتہائی متعدی بننے کے لیے ضروری شکل اختیار کرنے میں مہینے یا حتیٰ کہ سالوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

شک کو پختہ کرنے کے لیے، دسمبر میں چین نے کہا تھا کہ ووہان میں زیرِ گردش کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد عالمی وباء کے آغاز میں اس وقت حکام کی جانب سے افشاء کیے جانے والے اعدادوشمار سے 10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500